ایسا نظام وضع ہوگا کہ ٹیکس کی رقم گلگت بلتستان کو ملے اورمقامی لوگوں کو ٹیکس میں رعایت ہو۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان کااسلام آباد میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب

ہم نے گلگت بلتستان میں حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے حالات کو دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے امن کو محفوظ بنانے کیلئے ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور ہم معاہدے پر عمل بھی کریں گے۔

اسلام آباد (پ ر) وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اسلام آباد میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ بات تو عوام جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس پیپلز پارٹی کے دور میں نافذ ہوا۔ 2012میں جب گلگت بلتستان کونسل کے ممبران کی رضامندی سے ٹیکس کا نفاز ہوا اس وقت ہم نے اپوزیشن میں رہ کر اس ایشیو پر سیاست نہیں کی ،ہم بھی سیاست کر سکتے تھے ،ہم بھی ہڑتالیں کر سکتے تھے ،لیکن ہم اپنے مفادات کی سیاست نہیں عوام کی سیاست کرتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن کو گلگت بلتستان میں دو تہائی اکثریت عوام نے بخشی۔ اس اعتماد کا تقاضہ یہ تھا کہ ہم گلگت بلتستان کو خود انحصاری اور خود کفالت کی طرف گامزن کرتے۔ مانگ تانگ کے ہم نے ستر برس گزار دئے کب تک ایسے چلے گا ،کسی نہ کسی کو تو اپنے سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر قوم کے مستقبل کیلئے تلخ فیصلے کرنے تھے۔

گلگت بلتستان کو خود انحصاری کی طرف گامزن کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بنے ٹیکس ایکٹ کی مخالف نہیں کی۔

وزیر اعلی نے کہا کہ ہم نے گلگت بلتستان کو خود انحصاری کی طرف گامزن کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بنے ٹیکس ایکٹ کی مخالف نہیں کی۔ جس وقت ٹیکس ایکٹ بنا، نافذ ہوا کسی نے احتجاج نہیں کیا اب سب کو یاد آگیا۔ خیر ہمیں خبر ہے کہ چند لوگوں نے اس ایشو کو سیاست کی نذر کر دیا ہے ،حالانکہ اس بات سے وہ لوگ بھی آگاہ ہیں جو اس ایشیو پر سیاست کر رہے ہیں کہ کسی غریب پر کوئی ٹیکس نہیں لگا ہے ،ٹیکس کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جن کی آمدن لاکھوں میں ہے ،بڑے سرکاری ملازمین ،حکومتی ارکان ،بنکوں کے منافع پر،ٹھکیدار برادری پر موبائل کمپنیوں پر اورگلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کیلئے آنے والی کمپنیوں پر۔ پوری دنیا میں کرپشن کو روکنے اور ناجائز اثاثوں کی چھان بین کا ایک ہی پیمانہ ہے وہ ہے ٹیکس کا نظام۔ اسی لئے گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہماری اسمبلی ہے جس کے تمام ممبران کے اثاثوں کے گوشوارے جمع ہو چکے ہیں۔ اسی طرح بڑے سرکاری آفیسران کے لئے بھی یہ نظام ہے۔ اگر ٹیکس کا نظام ہم ترتیب نہیں دیتے ہیں تو ہمارے پاس وہ کون سا پیمانہ ہے کہ جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ کس نے کتنے ناجائز اثاثے بنائے ہیں۔

اگر ٹیکس کا نظام ہم ترتیب نہیں دیتے ہیں تو ہمارے پاس وہ کون سا پیمانہ ہے کہ جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ کس نے کتنے ناجائز اثاثے بنائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہر کو ئی سوال کر رہا ہے کہ سی پیک میں ہمیں کیا حصہ ملے گا تو اس حوالے سے عرض ہے کہ ہماری حکومت نے گلگت بلتستان کیلئے سی پیک میں بہت سے منصوبے منظور کرائے ہیں لیکن یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سی پیک ایک بزنس پلان ہے اس سے وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اپنے آپ کو اس کے اصولوں کا پابند بنا سکے۔ سی پیک میں گلگت بلتستان میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اگر ٹیکس کا نظام موجود نہ ہو تو ہم کیا ان سے بھتہ حاصل کریں۔ ٹیکس کے نظام سے ہی ہم قومی خزانے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں لاکھوں سیاح ہر سال آتے ہیں ان سیاحوں کی آمد سے گلگت بلتستان کے قومی خزانے میں ایک روپیہ جمع نہیں ہوتا ہے ،کیا یہ سلسلہ یو نہی چلتا رہنا چاہئے۔ گلگت بلتستان میں سینکڑوں بنک ہیں جن کے منافعے پر کوئی ٹیکس نہیں آتا ہے اور کماتے ہیں، جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کیلئے ان بنکوں میں نہ تو کوئی قرضہ اسکیم ہے اور نہ ایک روپیہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح بہبود پر خرچ کرتے ہیں۔

وزیر اعلی نے مزید کہا کہ مستقبل میں گلگت بلتستان میں میگا منصوبوں سے تقریبا پندرہ ہزار بجلی کی پیداوار ممکن ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں میگا منصوبے بننے جا رہے ہیں جو ٹینڈر کے مراحل میں ہیں ان منصوبوں کی مالیت اتنی زیادہ ہے کہ گلگت بلتستان کے ٹھکیدار کمپنیاں ٹینڈر نہیں بھر سکتی ہیں۔ اس کیلئے باہر سے کمپنیاں آئیں گی ٹیکس کا نظام نہیں ہوگا تو یہ کمپنیاں منافع کما کر رفو چکر ہوں گی۔ گلگت بلتستان کے قومی خزانے کو کیا فائدہ ۔ جہاں تک ود ہولڈنگ ٹیکس کی بات ہے تو ہماری حکومت نے اس پر انجمن تاجران کے مطالبہ پر اسے ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔

سی پیک میں گلگت بلتستان میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی اگر ٹیکس کا نظام موجود نہ ہو تو ہم کیا ان سے بھتہ حاصل کریں

انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی اور تاجروں کے مطالبات پر غور کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنی۔ اس کمیٹی میں اپوزیشن کے ممبران بھی تھے۔ انہوں نے قرارداد پر رضامندی ظاہر کر کے دستخط بھی کئے ۔یہ وہ تمام باتیں ہیں جن کو ہم نے مد نظر رکھتے ہوئے اپنے سیاسی مفادکیلئے نہیں قوم کے روشن مستقبل کیلئے فیصلے کرنے ہوں گے۔ ہمیں خبر ہے کہ اس ایشیو پر اتنی سیاست کی گئی ہے کہ اس کے نقصانات ہمیں اٹھانے پڑیں گے لیکن ہمیں اپنے نقصان کی نہیں قوم کے مستقبل کی فکر ہے۔ اس لئے ہم نے گلگت بلتستان میں حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے حالات کو دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے امن کو محفوظ بنانے کیلئے ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور ہم معاہدے پر عمل بھی کریں گے۔ معاہدے کے تحت انکم ٹیکس ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ٹیکس بنک ٹرانزیکشنز ،سمیت دیگر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم البتہ جی بی کونسل کو متبادل قانون سازی کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں جی بی اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹیکس جو بلا واسطہ وفاق کو گلگت بلتستان سے موصول ہو رہے ہیں ان کی تقسیم کار کا فارمولہ آزاد کشمیر طرز پر گلگت بلتستان حکومت سے طے کیا جائے گا۔۔

ہمیں خبر ہے کہ چند لوگوں نے اس ایشو کو سیاست کی نذر کر دیا ہے 

ہماری حکومت پہلے سے اسی ٹریک پر چل رہی تھی کہ گلگت بلتستان سے موصول شدہ ٹیکس کا اسی فیصد حصہ گلگت بلتستان کو واپس ملے ،آزاد کشمیر میں بھی یہی فامولا ہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اتفاق رائے سے ایسا فارمولا مرتب کریں گے کہ جس کے تحت گلگت بلتستان کے کسی غریب فرد پر کوئی اثر نہ پڑے اور ٹیکس کا ایسا نظام مرتب ہو کہ گلگت بلتستان میں ہونے والی سرمایہ کاری ،بنک سیکٹر ،میگا منصوبے ،موبائل کمپنیاں ،سیاح اور دیگر مالیاتی شعبے و بڑی آمدن والے لوگ ٹیکس نظام میں آئیں۔ اس میں بھی اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ باقی لوگوں اور کمپنیوں کی نسبت گلگت بلتستان کے رہائشی افراد کو ٹیکس میں پچاس فیصد چھوٹ ہو۔

وزیر اعلی نے کہا کہ ہمیں اپنی قوم کیلئے ریفارمز کا عمل شروع کرنا ہوگا ،اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے تو ہر فورم پر برابری کی سطح پر بات کر سکتے ہیں۔ ایک بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ٹیکس کو ایشیو بنا کر گلگت بلتستان میں ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ جس سے یہ لگ رہا تھا کہ خدا نخواستہ گلگت بلتستان کے عوام سے ٹیکس کی مد میں بہت بڑی رقم لی گئی ہے۔ اس حوالے سے ٹیکس کی مد میں جو رقم جمع ہوئی اس کی تفصیل درج ذیل ہے سال 2016.17میں ٹیکس کی ٹوٹل رقم جو جمع ہوئی وہ ایک ارب پچھتر کروڑروپے ہے۔ اس رقم کو اگر جزیات میں دیکھیں تو بنک سے کیش نکالنے پر ٹیکس کی رقم 115 ملین ،بنکنگ ٹرانزیکشن کی مد میں 47598اور تنخواہوں کی مد میں ایک سو بہتر ملین ریٹرن فائل ایڈوانس انکم ٹیکس 165 ملین ،فائنل ٹیکس ریٹرن339ملین ،ٹھیکیداروں سے622ملین، ٹوٹل سیکٹر ۶۱۱ ملین کی رقم جمع ہوئی ہے۔ یہ ہے وہ رقم جس کیلئے گلگت بلتستان کی عوام کو چند لوگوں نے اپنی سیاست کیلئے عوام کو گمراہ کیا جبکہ اس کے مقابلے میں وفاق گلگت بلتستان کو کیا دے رہا ہے اس کا بھی موازنہ پیش خدمت ہے۔ ترقیاتی فنڈ 19 ارب، غیر ترقیاتی فنڈ 29ارب، پی ایس ڈی پی کے تحت 102ارب، گندم کی سبسڈی کی مد میں 8ارب جبکہ اس وقت گلگت بلتستان میں وفاق کی طرف سے نلتر پاور پراجیکٹ 2.45ارب سکردو روڈ 33ارب اور گلگت چترال ایکسپریس وے کیلئے 22ارب۔ اس کے علاوہ بہت سے منصوبے ہیں جس میں وفاق مدد کر رہا ہے۔

اس تمام موازنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ گلگت بلتستان سے جمع ہونے والے رقم کا موازنہ اگر وفاق سے ملنے والی رقم سے کیا جائے تو آسمان زمین کا فرق ہے۔ لیکن کچھ لوگ اپنی سیاست کیلئے عوام کو گمراہ کر رہے ہیںَ۔ ہم قوم کے مفاد میں جو ہوگا وہی فیصلہ کریں گے ،میں ان لوگوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں جو ٹیکس کے نام پر سیاست کر رہے ہیں آئیں ملکر قوم کے مستقبل کو روشن کرنے کیلئے فیصلے کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہوتی کہ ایکشن کمیٹی والے آئینی حقوق کی بات کرتے لیکن انہوں نے نہیں کی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ ہمارا میڈیا بھارت کے پروپگنڈے کا جواب دے کہ بھارت اس ایشو کی آڑ میں گلگت بلتستان کے حوالے سے جھوٹا پروپگنڈہ کر رہا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ سے کوشش کی کہ گلگت بلتستان میں کوئی چھوٹا سا بھی واقعہ ہو اسے بنیاد بنا کر پاکستان اور گلگت بلتستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کونسل کے ذرئعے سے اسی فیصد ٹیکس فراہم کر رہی ہے۔ اسی فارمولے کے تحت نئے سرے سے ایسا نظام وضع کریں گے کہ جس کے تحت ٹیکس کی اسی فیصد رقم گلگت بلتستان کو ملے۔ گلگت بلتستان سے ڈائریکٹ ٹیکس تو ستر برسوں سے لئے جا رہے ہیں لیکن یہ رقم گلگت بلتستان کو واپس نہیں ملتی۔ اس لئے ایسا نظام وضع ہوگا کہ ٹیکس کی رقم گلگت بلتستان کو ملے اور گلگت بلتستان کے شہریوں کو ٹیکس میں رعایت ہو۔ گلگت بلتستان میں سی پیک اور بڑے بڑے میگا منصوبے جاری ہیں اس حوالے سے اگر ٹیکس کا نظام ہو تو ہم فائدہ لے سکتے ہیں۔ وزیر اعلی نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں موجودہ حالات سے ایک تو بھارت پروپگنڈہ کر رہا تھا اور دوسری طرف اندرونی حالات خراب ہونے کا خدشہ تھا اس لئے ہم نے مناسب جانا کہ ایسے حالات میں اعتدال کا راستہ اختیار کریں سو ہم نے ایکشن کمیٹی سے معاہدہ قومی مفاد میں کیا اور انشا اللہ معاہدے پر پورا عمل ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments