’’چترال کے سلگتے مسائل ‘‘کے موضوع پر چترال پریس کلب کے زیر اہتمام مہراکہ پروگرام کا انعقاد

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (محکم الدین ) ممتاز سکالر اور محقق ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہا ہے ۔ کہ چترال کو پاکستان سے ضم ہونے کے بعد ایک طرف باصلاحیت اور وژن والی قیادت نہیں ملی ، اور دوسری طرف علاقے کے لوگوں کی شرافت اور امن پسندی کا حکومتوں نے غلط فائدہ اُٹھایا ۔ جس کی وجہ سے چترال مسائل کی دلدل میں پھنس کر رہ گیا ہے ۔ آج صورت حال یہ ہے ۔ کہ چترال کا مستقبل روشن ہونے کی بجائے تاریکیوں میں ڈوب رہا ہے ۔ اس لئے وقت کا تقاضا ہے ۔ کہ چترال کے تمام لوگ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں ۔ اور وژن والی قیادت کو سپورٹ کریں ۔ جو بھنور میں پھنسی اس کشتی کو پار لگا سکے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز چترال پریس کلب کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے مہراکہ پروگرام میں’’چترال کے سلگتے مسائل ‘‘کے موضوع پر بطور مہمان مقرر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں پروفیسر صاحب الدین ، نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ ، عنایت اللہ اسیر ، امیر اللہ اعزازی مہمانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سیاسی ، سماجی اور علمی حلقوں کے صاحب بصیرت افراد نے شرکت کی ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ چترال 1969میں ریاست ختم ہونے کے موقع پر ضلع بنا اور آج بھی 14850مربع کلومیٹر رقبے پر محیط یہ وسیع وعریض خطہ دو ضلع نہ بن سکا ۔ جب کہ اس کے مقابلے بہت کم رقبے کے حامل ضلعوں کو دو سے تین اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں صرف 185کلومیٹر پختہ سڑک ہیں ۔ جبکہ اس کے مقابلے دیر کے آٹھ ہزار مربع کلومیٹر میں کوئی بھی قصبہ اور گاؤں پکی سڑک سے محروم نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال امتیازی سلوک کا شکار رہا ہے ۔ ہسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہہ ہے ۔ ادنی بیماری کے علاج کیلئے اب بھی غریب لوگوں کو ملک کے دوسرے شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے ۔ اور ہسپتال میں جو مشینری موجود ہیں ۔ اُن کو بھی استعمال نہیں کیا جاتا ۔ جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کا لیڈر آج بھی نہیں سمجھتا ۔ کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ۔ ویلج کونسل سے لے کر صوبائی اور قومی اسمبلی کے رکن تک سب انفرادی مسائل میں لگے ہوئے ہیں ۔ اور سب کا کام دو تین لاکھ روپے کے ترقیاتی سکیمیں تقسیم کرنے تک محدود ہے ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ یہ کتنا افسوس کا مقام ہے ۔ کہ گولین ہائیڈل پاور پراجیکٹ 1987میں ایکنک میں منظور ہوا ۔ اور ابھی تک مکمل نہیں ہو پایا ہے ۔ چترال تعلیمی بورڈ ابھی تک نہیں بنا ۔ اور سالانہ 15کروڑ روپے چترال سے تعلیم کی مد میں دوسرے اضلاع کو منتقل ہو رہے ہیں ۔ چترال کا اپنا تعلیمی بورڈ نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ ٹاپ 20 ایوارڈ سے بھی طلبہ محروم ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ قیام پاکستان کے بعد کسی بھی چترالی سٹوڈنٹ کو سکالرشپ پر بیرون ملک نہیں بھیجا گیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ تعلیم کے ساتھ گہری محبت رکھنے والے چترال کے طلبہ کیلئے اب تک ٹیکنکل کالج ، کیڈٹ کالج کی سہولت نہیں ہے ۔ چترال کا جو بھی بچہ تعلیم حاصل کرنا چاہتاہے ۔ اُسے چترال سے باہر نکلنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے حکومت کے طریقہ کار پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ جو لوگ امن اور شرافت کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اُن کے مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ اور دانستہ طور پر پُر امن لوگوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ لیکن چترال کے لوگوں کو اُن کی تہذیب اور امن سے مربوط مضبوط روایات ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے ۔اس لئے حکومت کو چاہیے ۔ کہ وہ چترال کے مہذب لوگوں کیساتھ وہ رویہ اپنائے ۔ جو تشدد کی زبان سے اپنے مسئلے حل کرانے والے لوگوں سے مختلف ہو ۔

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہا ۔ کہ چترال کے لوگوں میں باہمی اتفاق و اتحاد کی شدید ضرورت ہے ۔ اور گھمبیر مسائل کے حل کیلئے مثبت سوچ اور وژن رکھنے والی قیادت کو ڈھونڈکر اُس کو سپورٹ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ اگر ہماری تمام قیادتیں صحیح معنوں میں اپنے اپنے دور میں ذمہ داریاں انجام دیتے ۔ تو قوم کو اس مشکل اور تشویشناک صورت حال سے دوچار نہ ہونا پڑتا ۔

قبل ازین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے مہمان مقرر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کی چترال کیلئے صحافتی خدمات پر روشنی ڈالی ۔ جبکہ پروگرام کو سمیٹتے ہوئے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج آف منیجمنٹ سائنسز چترال کے پرنسپل صاحب الدین نے کہا ۔ کہ چترال کے لوگوں کو قومی مسائل کے حل کیلئے اپنے تمام اختلافات ختم کرنے چاہیں ۔ چترال میں بے روزگاری دن بدن بڑھ رہی ہے ۔ ایجوکیشن کے باوجود نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل رہے ۔ اس لئے چترال میں کاٹیج انڈسٹریز لگانے چاہیں ۔ اگر روزگار نہ ملا ۔ تو چترال کا موجودہ پُر امن ماحول بد امنی کا شکار ہو جائے گا ۔ انہوں نے چترال کے لوگوں کی سردیوں میں عارضی ہجرت کو نامناسب قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ اس کی وجہ سے چترال کی نصف آبادی مردم شماری میں اندراج سے محروم ہو چکی ہے ۔ جس کا خمیازہ پوری چترالی قوم کو بھگتنا پڑا ہے ۔

پروگرام کے اختتام پر شرکاء میں سے اسسٹنٹ پروفیسر شفیق احمد ، صدر ڈسٹرکٹ بار ساجد اللہ ایڈوکیٹ ، نوید الدین ریڈیو ، چارویلو نور احمد خان ، پی پی پی رہنما امیر اللہ ، ممتاز سماجی شخصیت عنایت اللہ اسیر اور عبدالرزاق براموش نے مہمان مقرر سے سوالات کئے ۔ جن کے انہوں نے تفصیلی جوابات دیے ۔ اورچترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے شرکاء محفلِ پرگرام میں شرکت کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments