انگار غون کے رہائشیوں کو ملنے والے پانی میں ریت کی آمیزش، لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور، بیماریوں کی بھرمار

چترال(گل حماد فاروقی) حکومت جرمنی کی مالی تعاون سے چترال ٹاؤن کو انگار غون (شاہ شاہ) سے لانے والا پانی کا پائپ لائن نہایت بوسیدہ ہوچکا ہے۔ ایک طرف یہ پائپ لائن جگہہ جگہہ ٹوٹ چکا ہے جس کی وجہ سے محتلف مقامات پر اس سے پانی لیک ہورہی ہے تو دوسری طرف اس پانی میں ریت آرہاہے جو گردوں میں پتھر بننے کا باعث بنتا ہے۔

سماجی کارکن اور ایک فلاحی ادارے ا ور چترال مائن ایسوسی ایشن کے صدر محمد نعیم نے مقامی صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے گرمی کے موسم میں پانی میں کمی پیدا ہوتا تھا مگر آج کل سردیوں ہی میں پانی کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پانی میں ریت آتا ہے اور یہ ریت گردوں کی حرابی اور اس میں پتھر بننے کا باعث بنتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اپریل سے پہلے حل ہونا چاہئے ورنہ گرمیوں میں یہ مسئلہ مزید بگھڑے گا۔

چترال کے علاقے سینگور اور شاہ میراندہ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ شاہ میراندہ جو چترال ٹاؤن کا ہی اور اسی یونین کونسل کا حصہ ہے اس میں پچھلے تین ماہ سے پانی کی شدید قلعت پیدا ہوئی ہے۔ چترال کے ایم پی اے اور دیگر سیاسی افراد کی مداحلت پر بعض بااثر افراد کو حصوصی طور پر پائپ لائن لگاکر پانی فراہم کیا گیا مگر دیگر عوام اس پانی سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بازار کے لوگ بھی ڈیڑھ سو روپے ماہوار پانی کا بل ادا کرتے ہیں اور ہم بھی اتنا ہی بل جمع کرتے ہیں مگر فرق صرف اتنا ہے کہ بازار میں چوبیس گھنٹے پانی ہوتا ہے صرف دو گھنٹے ناغہ ہوتا ہے مگر یہاں ماضی میں صرف دو گھنٹے پانی ہوا کرتے تھے اور چوبیس گھنٹے ناغہ۔ مگر بدقسمتی سے پچھلے تین مہینوں سے و ہ دو گھنٹوں والا پانی بھی بند ہے۔

شاہ میراندہ کے جمیل خان نے بتایا کہ چونکہ انگار غون کا پانی نہیں ہے اور کوٹی گول کا پانی نہایت گندہ ہے جبکہ دوسری طرف لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آدھے انچ کے پلاسٹک پائپ میں کوٹی گول کا پانی لایا ہے جو ایک گندہ نالے سے گزرکر گھروں کو پہنچتا ہے۔ یہ پائپ بھی جگہہ جگہہ ٹوٹ کر لیک کر رہے ہیں اور نالے کا گندہ پانی اس سے مل جاتا ہے لوگ یہ آلودہ اور گندا پانی پی کر ہیپاٹائٹس اور محتلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔

وزیر خان کا کہنا ہے کہ انگار غون کا پانی کئی مہینوں سے بند ہے لوگ کوٹی گول کا گندا پانی پیتے ہیں جس میں چھوٹے پتھر اور مٹی آتی ہے دوسری طرف یہ پائپ بھی گندہ نالی میں سے گزرکر گھروں کو جاتے ہیں جس میں نالے کا گندہ پانی بھی مل جاتا ہے جس کے پینے سے بچے، بڑے سب بیمار ہیں اور اس گاؤں کے زیادہ تر لو گ ہسپتالوں میں داحل ہوتے ہیں۔

اس سلسلے جب واٹر اینڈ سینیٹیشن WSU کے منیجر منیر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا نہایت معصومانہ جواب تھا کہ بازار میں چونکہ ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ پولیس افیسر، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس ، جج صاحبان اور دیگر اعلےٰ طبقے کے لوگ رہتے ہیں اسلئے وہاں زیادہ پانی دی جاتی ہے مگرجب ان سے یہ پوچھا گیا کہ یہ لوگ بھی اتنا ہی بل جمع کرتے ہیں جتنا شاہ میراندہ والا تو اتنا فرق کیوں تو اس پراس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ شاہ میراندہ کیلئے شروع ہی سے ایسی پالیسی بنائی گئی ہے۔

چترال ٹاؤن کے مکین الزام لگاتے ہیں کہ جرمنی سے جو پائپ، ایلبو، نٹ اور دیگر سامان آیا تھا وہ سب چور دروازے سے نکل کر بک گیا اور اب ان کے سٹور میں کچھ بھی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ انگار غون کا پائپ جو شاہشاہ سے آیا ہے وہ راستے ہی میں کئی جگہہ پھٹ چکی ہے اور اس سے بڑے مقدار میں پانی بہہ کر ضائع ہورہا ہے مگر WSU کے پاس اس پانی کو روکنے کیلئے کوئی سامان نہیں ہے۔

محمد نعیم اور دیگر سیاسی اور سماجی کارکنان نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کرے کہ انگار غون کے پانی کی تقسیم میں اتنے بڑے پیمانے پر بے قاعدگی اور عدم مساوات کیوں ہے اور شاہ میران دہ کے لوگ تین ماہ سے کیوں پانی سے محروم ہیں اور مین پائپ لائن سے جو پانی لیک ہورہی ہے اس کو کیوں بند نہیں کیا جاتا۔ عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ جو عملہ کام چوری کرتے ہیں یا کسی دیگر بدعنوانی میں ملوث ہو ان کے حلاف قانونی کاروائی کی جائے اور پانی کا مسئلہ اپریل سے پہلے حل کیا جائے تاکہ عوام پینے کے صاف پانی سے محروم نہ رہے ورنہ عوام مجبوراً سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

آپ کی رائے

comments