بچوں کوتحفظ دینے کے لئے آگہی کیوں ضروری ہے ؟

تحریر: دیدار علی خان

معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے ۔ اور انسا ن ہی اس کی خوبصورتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان نے ہی معاشرے میں رائج طور طریقے، اچھے اور برے درجات بنا رکھے ہیں ۔ رسم و روایات بھی انسان کے ہی بنائے ہوئے ہیں جو علاقہ در علاقہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ انسان کے بسائے ہوئے معاشرئے میں جہاں ان گنت تفریق ہے تو کچھ مشابہت بھی ہے ۔ ان میں ایک مشابہت مظلوم کے ساتھ کیا جانے والا ظلم ہے ۔ جو تقریباً مغرب و مشرق میں کسی حد تک مشابہت رکھتی ہے ۔ اسکے علاوہ طاقتورکا ہر قانون اور سزا سے با لاترہونا اور کمزور کے لئے ہر قانون کی پاپندی اور معمولی جرم پہ سزا کا ملنا بھی انسانوں کے معاشرے میں کسی حد تک ایک جیسا ہی ہے ۔

کمزور کی نہ کھبی ماضی میں قدرو قیمت تھی اور نہ حال میں اور نہ مستقبل میں ہونے کا گمان موجود ہے ۔ جہاں کمزور کی بات ہو رہی ہے تو انسانی معاشرے میں دو طبقے خواتین اور بچے ہمیشہ کمزور سمجھے جاتے ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ، ریاست میں کوئی بحران ہو، قحط ہو، جنگ چھیڑ جائے یا کوئی اور ناگہانی واقعہ ہو، یہ دونوں طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔ یہ ہر ملک اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان طبقوں کی حفاظت کا ذمہ اٹھائے ۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں یہ دونوں طبقے ہمیشہ سے استحصال کا شکار رہے ہیں ۔ بچوں اور خواتین کی بنیادی حقوق تک پوری نہیں ہو رہی ۔ اورملک بھر سے بچوں اور خواتین پر جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات نے ہر عام و خاص کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے ۔

ساحل (فلاحی نجی ادارہ) جو کہ بچوں کے حقو ق کے لئے کام کرتی ہے، کے سال 2016 کے رپورٹ کے مطابق روزانہ11بچے جنسی تشدد کا شکار ہو تے ہیں۔ اور یہ وہ واقعات ہے جو پولیس سٹیشنز اور اخبارات میں رپورٹ ہوتے ہیں ۔ جبکہ حقیقی اعداد و شمارکی بات کی جائے تو شاید موجودہ تعداد کے سوفیصد سے بھی زیادہ ہوں۔

زینب کے ساتھ رونما ہونے والے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس طرح کے واقعات پر دکھ اور افسوس ہوناتو ایک فطری عمل ہے ۔ لیکن ان کے دو رس اثرات بھی قابل غور ہیں ۔ اس واقعے نے ہرفرد کو ذہنی پریشانی میں مبتلا کردیا ہے خاص کر کہ ان والدین کے لئے اب یہ ایک کھٹن امتحان بن چکا ہے کہ وہ کس پر اعتبار کریں اور کس پہ شک کریں۔ کیونکہ درندہ صفت انسان کوئی بھی ہوسکتا ہے اور وہ کسی بھی وقت معصوم بچوں کو جنسی طور پر حراساں کرسکتا ہے ۔ درحقیقت یہ ممکن بھی نہیں کہ والدین ہمہ وقت بچوں پہ نظر رکھیں۔ کیونکہ ان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی ایسے ذمہ داریاں ہیں جو والدین نے پورے کرنے ہوتے ہیں ۔

لہذا اس معاملے میں سب سے زیادہ کارآمد ترکیب یہ ہوسکتی ہے کہ بچوں کو آگاہی دی جائے ۔ بچوں کو ہر اس فعل کے بارے میں بتایا اور سمجھایا جائے جن سے ان کوخطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔مثال کے طور پر بچوں کو یہ بتایا جائے کہ ان کے جسم کے کون سے حصے ایسے ہیں جن کو کوئی غیر شخص چھو نہیں سکتا ۔ بچوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ کسی سے کوئی چیز مفت لئے کر نہ کھائیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول روا رکھا جائے ۔ تاکہ بچے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو راز میں نہ رکھیں۔ جب یہ روکاوٹ والدین اور بچوں کے درمیا ن ختم ہوجائے تو بچے زیادہ محفوظ ہو سکتے ہیں ۔ ورنہ کئی بچے جن کے ساتھ جنسی زیادتی ہوچکی ہوتی ہے وہ ڈر اور خوف کی وجہ سے والدین سے اس بارے میں بات نہیں کرسکتے ۔ اور ان کی اس مجبوری سے ہمیشہ غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور وہ بار بارجنسی زیادتی کا شکا ر ہوتے رہتے ہیں ۔

بچوں کا گھر ، خاندان، گاؤں، علاقہ اور ریاست سے انتہائی نازک رشتہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان بچوں نے ہی کل کو ملک کو سنبھالنا ہوتا ہے ۔ تو لہذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ بچوں کی تربیت، ان کی حفاظت کو گھر، علاقہ اور ملکی سطح پرترجیحی و ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کئے جائیں۔ قصور کے اس واقعے کے بعد سوال یہ نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت کیا کررہی ہے۔ انتظامیہ نے مجرموں کو پکڑنے میں کتنی لچک دکھائی۔ بلکہ سوال یہ ہونا چاہئے کہ یہ ظلم یہ بربریت کب تک چلے گی۔ اور کب تک معصوموں کو ان درندوں کے حوس کا شکار ہونے دیا جائے گا ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments