‘گلگت میں سی پیک منصوبے کو 400 بھارتی تخریب کاروں سے خطرہ‘

وزارت داخلہ نے ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو سیکیورٹی سخت کرنے کی بھی تاکید کی۔

یہ پڑھیں: “دشمن پاک چین منصوبے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے”

جی بی وزارتِ داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے گلگت بلتستان کو لیٹر نمبر 221/آئی ایس 2018 موصول ہوا ہے جس میں بھارت کی جانب سے سی پیک پر ممکنہ حملے کی پیش گوئی کی گئی۔

لیٹر میں آگاہ کیا گیا کہ بھارت نے 400 نوجوان مسلمانوں کو افغانستان میں ٹریننگ کے لیے بھیجا جنہیں سی پیک کے ذیلی منصوبے مثلاً قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔

لیٹر موصول ہونے کے بعد گلگت بلتستان حکومت نے سی پیک پر سیکیورٹی سخت کردی۔

واضح رہے کہ کے کے ایچ شاہراہ خنجراب پاس سے دیامیر ضلع تک پھیلی ہے جس پر دو درجن سے زائد پل تعمیر کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک پر عملدرآمد کیلئے پاکستان کی حمایت جاری رہے گی: چین

گلگت بلتستان کے ہوم سیکریٹری جاوید اکرام، انسپکٹر جنرل آف پولیس صابر احمد اور دیگر پولیس سمیت خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دیامیر ضلع کا دورہ کیا اور سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

آئی جی پی صابر احمد نے بریفنگ دی کہ جی بی میں غیر ملکیوں کی نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے۔

اسی دوران آئی جی پی نے گلگت ، دیا میر اور بلتستان کے ڈی آئی جیز کو ممکنہ بھارتی شر پسند ی کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کیں اور کے کے ایچ پر خصوصی طور پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعینیاتی کو یقینی بنائیں۔

گلگت کے ایس ایس پی رانا منصور الحسن حق نے ڈان کو بتایا کہ دفاع اداروں کے تعاون سے سی پیک کی فل پروف سیکیورٹی سے متعلق اقدامات اٹھائے جارے ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘امریکی سیکریٹری دفاع کا حالیہ بیان سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش’

گلگت پولیس نے دعویٰ کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تعاون سے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے اور پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینے کے لیے تیار منصوبے کو ناکام بنایا تھا۔

جی بی پولیس نے بلاوارستان نیشنل فرنٹ سے تعلق رکھنے والے 12 ورکرز کو ضلع گزری کی یاسین ویلی سے حراست میں لیا اور ان کے قبضے سے وافر مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا۔

پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتارلوگوں کو ’را‘ نے فنڈنگ کی تھی تاکہ گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلائی جائے اور سی پیک منصوبوں کو سبوتاژکیا جا سکے۔


یہ خبر 05 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments