اک زرا سی تاخیر

تحریر: مہ جبین

یوں تو وہ سرتاپا حُسن تھی کہ ڈھونڈے سے بھی حاسدین کو اس میں کوئی کمی، کوئی نقص نظر نہ آتا تھا لیکن جو چیز اسے ہزاروں میں ممتاز کرتی تھی وہ اس کے لمبے، ریشمی، گہرے براؤن بال تھے۔ کھلے ہوتے تو لگتا کوئی آبشار ہے جو اس کی پشت پر بہتی چلی جا رہی ہے۔ جوڑے کی شکل میں بندھے ہوتے تو ضخامت قابلِ رشک ہوتی۔

یونیورسٹی جاتے ہوئے چٹیا میں گوندھ لیتی تو اپنے بھول پن میں جان ہی نہ پاتی کہ پیچھے آنے والیاں اس بل کھاتی ناگن پر، جس کا اختتام پہنے گئے –  سوٹ کے ہم رنگ ربڑ بینڈ پر ہوتا، کیسے اپنے دل ہار بیٹھتیں۔ نماز کے لیے اسے بڑی سی چادر اوڑھنے کا اہتمام کرنا پڑتا یا پھر بالوں کو دوہرا، تہرا کر کے کیچر میں جکڑنا پڑتا۔ صبح جب یونیورسٹی کے لیے نکلتی تو اماں تاکید کرتیں “شفا بیٹا، بال عبایا کے اندر ہی رکھنا۔ “

شادی کے بعد سسرال والوں کے لیے بھی اس کے بال توجہ کا خاص مرکز تھے۔ عفیفہ، اس کی اکلوتی نند، جو کالج میں سالِ اول کی طالبہ تھی، اس کے بالوں کی کچھ زیادہ ہی شیدائی تھی۔ اس نے شفا کو اپنی انگریزی کی کتاب سے خصوصی طور پر او ہنری کی وہ کہانی بھی سنائی جس میں شوہر جِم اپنے دادا کی یادگار گھڑی اور اس کی بیوی ڈیلا اپنے آبشار جیسے لمبے بال بیچ کر ایک دوسرے کے لیے کرسمس کے تحائف خریدتے ہیں۔ شفا نے سن کر جھرجھری سی لی تھی۔

*”اف! میں تو کبھی ڈیلا کی طرح نہ کروں۔ اتنے پیارے بال میں تو کٹوانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ “*

عفیفہ کالج میں اپنی سہیلیوں کے سامنے بھی بھابھی کے بالوں کے قصیدے پڑھتی رہتی۔ ایک دن ہانیہ کہنے لگی “یار کبھی چپکے سے موبائل فون لے آؤ نا اور ہمیں بھی اپنی بھابھی کے بال دکھا دو۔ وعدہ! ہم نظر نہیں لگائیں گے۔ تم اتنی تعریفیں کرتی ہو، ہمارا دیکھنے کا شوق بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ “

“نہ بابا نہ، میں تو موبائل فون کالج لانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی اور ویسے بھی بھابھی تو تصاویر بنواتی ہی نہیں ہیں۔ وہ پردہ کرتی ہیں۔ “

شفا کو اپنے بالوں کے حوالے سے تعریفی جملے سننا معمول کا حصہ لگتا تھا۔ *ہاں غیر معمولی بات تب ہوتی جب کوئی اس کے بال دیکھتا اور منہ سے ایک لفظ نہ کہتا۔* لڑکیاں بالیاں اس سے بال لمبے اور حسین کرنے کے ٹوٹکے پوچھتیں۔ وہ سادگی سے کہتی “کچھ بھی خاص نہیں کرتی میں۔ بس ہفتے میں دو بار شیمپو کرنے سے قبل دو گھنٹے کے لیے تیل لگاتی ہوں۔ اگر ایسا نہ کروں تو میرے بال بالکل خشک ہو جائیں۔ “

“کون سا تیل؟” اگلا سوال ہوتا۔

“جو بھی بآسانی میسر آ جائے، سرسوں، ناریل یا زیتون کا۔ ہاں، ایک بات ہے، میں دہی بہت کھاتی ہوں۔ شاید دہی بالوں کو لمبا کرتا ہو؟” کتنی ہی لڑکیاں اب تک اسی “شاید” سے امید کی ڈوری باندھے اپنی روزانہ کی غذا میں دہی شامل کر چکی تھیں۔
بال دھونے، سنبھالنے اور سلجھانے کی مشقت شفا کو کبھی کبھار قدرے کوفت میں مبتلا کر دیتی لیکن اگلی بار کیا جانے والا توصیفی تبصرہ پھر سے دل خوش کر دیتا اور اللہ کی اس خصوصی نعمت کا احساس شفا کے دل میں مزید جاں گزیں ہو جاتا۔

ایک بات بہرحال ایسی تھی کہ جس کی چبھن کسی کانٹے کی طرح پچھلے چند سال سے مسلسل اسے تکلیف دے رہی تھی۔ اس کے شریکِ حیات، زین، نے کبھی اس کے بالوں کی تعریف نہیں کی تھی۔ ابتدا میں شفا نے خود ہی فرض کر لیا کہ زین بھی  اس کے بالوں کے حسن میں گرفتار ہے۔ اس لیے اس نے کبھی اس سے اس کی رائے جاننے کی کوشش ہی نہ کی۔ گزرے وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات اسے مزید حیرت و تشویش میں مبتلا کرنے لگی کہ *زین اس کے بالوں پر الگ سے کوئی تبصرہ کیوں نہیں کرتا۔ عمومی تبصرے اور فرمائشیں تو معمول کا حصہ تھیں ہی۔*

“بہت پیاری لگ رہی ہو، ڈیئر!”
“واؤ! نیوی بلیو کلر بہت سجتا ہے تم پر، شفا ڈارلنگ “
اور اسی طرح کے بے شمار فقرے جو اسے خوش فہم ہی رکھتے۔
شفا نے سوچا، اگر زین خود الگ سے کوئی تبصرہ میرے بالوں پر نہیں کرتا تو میں بھی کیوں پوچھوں؟ اگر کہیں اس نے کہہ دیا، مجھے لمبے بال اچھے نہیں لگتے تو؟ وہ اپنی ذات کے اعتماد اور عزت نفس کو ٹھیس پہنچنے کے ڈر سے خاموش تھی۔ *آٹھ سالہ شادی شدہ زندگی میں دونوں کے بیچ بالوں پر محض ایک بار بات ہوئی جو خوشگوار بہرحال نہیں تھی۔*

أن کی تیسری اولاد، عفان، تب ایک سال کا تھا۔ شفا ابھی ابھی نہا کر آئی تھی۔ وہ تولیہ ہٹا کر سر آگے کو جھکائے بالوں سے پانی جھٹک رہی تھی۔ بال اس کے چہرے کو ڈھانپتے ہوئے نیچے قالین کو چھو رہے تھے۔ پھر ہلکے سے جھٹکے سے بالوں کو پیچھے کمر کی طرف لے جاتے ہوئے وہ بیڈ کی جانب بڑھی۔ عفان، جو پہلے ہی ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا، ایک دم چیخ مار کر رونے لگا۔

پریشان تو وہ بھی بہت ہوئی کہ اسے ایک دم کیا ہو گیا ہے لیکن زین تو ٹھیک ٹھاک غصے میں آ گیا۔

“یہ تمہارے بالوں سے ڈر گیا ہے شفا! آئندہ کبھی اس کے سامنے یوں بال کھول کر مت آنا۔ “

بچہ تو بچہ تھا، شاید سچ مچ بالوں سے ہی ڈرا تھا لیکن شفا کے اندر چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا۔ ضرب زین کے لہجے نے لگائی تھی۔

تقریباً سال بیتنے کو تھا اس واقعے کو مگر وہ یہ بات نہیں بھولی تھی اور آج کل تو پتہ نہیں وہ کیوں بہت زود رنج ہو رہی تھی۔ بات بے بات دل بھر آتا۔ وہ سوچتی، “زین کو یقیناً میرے بال پسند نہیں ہیں۔ ساری دنیا بھی تعریف کرتی رہے مگر میں تو زین کے منہ سے سننے کی منتظر ہوں۔ ان کی تقریباً سب بہنوں اور کزنز کے بال خوبصورت انداز میں کٹے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی امی کے بھی
ہاں، ضرور یہی وجہ ہے، زین کو میرے بال باقی سب سے مختلف اور عجیب لگتے ہوں گے اور وہ محض میری دل آزاری کے خیال سے کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرتے۔ “

اس کی سوچیں آجکل اسی نقطے کے گرد گھومتیں اور آج جیسے فیصلہ کن لمحہ آ ٹھہرا تھا۔ اس کی انگلیاں موبائل فون کی سکرین پر پارلر کا نمبر ڈائل کر رہی تھیں۔ اپائنٹمنٹ مل گئی۔ اب اگلا  اب اگلا نمبر زین کا ڈائل کرنا تھا کیونکہ وہ کبھی اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلتی تھی۔

رابطہ ہوتے ہی اس نے کہا، “زین، مجھے بیوٹیشن عفت کے پاس جانا ہے ایک کام سے۔ گاڑی تو آنٹی لے کر گئی ہیں، آپ کب تک آئیں گے؟”

“مجھے تو ابھی دیر ہے، یار۔ امی کا انتظار کر لو یا سویرا کو ساتھ لے کر رکشے پر چلی جاؤ۔ ” اس نے بڑی بیٹی کا نام لیتے ہوئے تجویز دی۔

“چلیں اچھا، دیکھتی ہوں۔ “

*ملازمہ کو ضروری ہدایات دے کر گھر سے نکلنے سے قبل وہ دیر تک سنگھار میز کے آئینے میں اپنے لمبے بالوں کو مختلف زاویوں سے دیکھتی رہی۔ اپنا بہترین خزانہ لٹا دینا آسان کہاں تھا بھلا؟*

پارلر میں کام کرنے والی نئی لڑکی نے اس کے بالوں کو کٹنگ کے لیے تیار کرنا شروع کیا۔ وہ ہاتھ چلاتے ہوئے مسلسل اس کے بالوں کی تعریف کرتی چلی جا رہی تھی۔ اسے جیسے یقین تھا کہ یہ خاتون بالوں کی ٹرمنگ کروانے آئی ہوں گی لیکن اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے انہیں کہتے سنا، “عفت، بس زیادہ سے زیادہ لمبائی کمر کے درمیان تک ہو۔ سٹیپ اور لیئر ملا جلا سٹائل جو آج کل عام ہے، وہی کر دو۔ “

بیوٹیشن کو بھی اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ سالہا سال سے زین کی پوری فیملی اس کی کسٹمر تھی۔ شفا کو دلہن بنانے کا اعزاز بھی اسے ہی حاصل ہوا تھا، سو اس کی حیرانی بجا تھی۔

“مگر بھابھی یہ اچانک فیصلہ؟ کیا آنٹی کو علم ہے آپ اپنے بال کٹوا رہی ہیں؟ میرے تو ہاتھ کانپ رہے ہیں اتنے پیارے بالوں پر قینچی چلاتے ہوئے۔ “

“بس عفت، میں تھک گئی ہوں ان کی حفاظت کرتے اور سلجھاتے۔ پھر کچھ تبدیلی کا بھی موڈ ہو رہا ہے۔ “

شفا کا لہجہ کمزور سا تھا۔ وہ جوش و خروش مفقود تھا جو ایسی کسی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے ہونا چاہیے تھا۔

اس کے گھر پہنچنے کے محض دس منٹ بعد زین بھی گھر پہنچ گیا۔ کھانا کھاتے ہوئے وہ پوچھنے لگا،

‘اور یار، مشکل تو نہیں ہوئی رکشہ لینے میں؟ ویسے اچانک کون سا کام آ پڑا تھا؟ پہلے تو امی کے ساتھ ہی پارلر جایا کرتی ہو… یہ… یہ تمہارے… بال… ؟ شفا یہ کیا ہوا… ؟ “

*شفا کا دوپٹہ سرک کر شانے پر آ ٹھہرا تھا اور زین کو بات کرتے کرتے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔*

“میں نے بال کٹوا لیے۔ بس کچھ تبدیلی کا موڈ ہو رہا تھا۔ “
“کیا اچھا نہیں لگ رہا یہ سٹائل؟” شفا نے ہی زبان کھولی۔
“لیکن وہ… شفا میں ابھی… پرسوں ہی دیکھ رہا تھا کہ… تمہارے بال بہت بہت بہت خوبصورت ہیں… سب سے مختلف… سب سے انوکھے… سحر زدہ کر دینے والے… اور… “
“مگر آپ نے مجھے تو نہیں بتایا کبھی… ” شفا نے ایک دم ہی بات کاٹی تھی۔
“میں تم سے کہنے ہی والا تھا… وہ بس… چلو کوئی بات نہیں… پھر سے لمبے ہو جائیں گے… پھر سے ویسے ہی ہو جائیں گے… ” کھوئے کھوئے سے لہجے میں زین شاید خود کو تسلی دے رہا تھا۔
“ہاں پھر سے لمبے تو ہو جائیں گے… لیکن اس میں بہت سا وقت لگے گا زین!”

*اور وقت تو اس تازہ تازہ لگی ضرب سے پڑنے والی گہری دراڑ کو بھرنے میں بھی لگے گا جو اس کی آنکھوں کو نمناک کر گئی تھی۔ اک ذرا سی تاخیر نے شفا کا بہت سا نقصان کر دیا تھا!*

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments