تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ اور اساتذہ کو چند نصیحتیں

تحریر: مہ جبین

اللہ تعالی نے انسان کو اس دھرتی پر اپنا خلیفہ چنا اور اسے علم سے نوازا، اسی علم کے ساتھ کارکردگی اور اشرف المخلوقات ہونے کے اعزاز منسلک  ہیں، نیز انسان کو عقل بھی دی  اور اسی عقل کی بنا پر اللہ تعالی نے اسے مخاطب کیا اور احکامات کا پابند بھی بنایا، فرمانِ باری تعالی ہے:

اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بیشک میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ انھوں نے کہا کیا تو اس میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا اور بہت سے خون بہائے گا اور ہم تیری تعریف کے ساتھ ہر عیب سے پاک ہونا بیان کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا بیشک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ [البقرة: 30]

 

اس کے بعد اللہ تعالی نے یہ بھی بتلا دیا کہ علم  کی وجہ سے افضلیت اور اعزاز انسان کو ملا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

اور اللہ تعالی نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ ، ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم و حکمت والا تو تو ہی ہے۔  اللہ تعالی نے آدم سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دیئے تو فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا کہ زمین اور آسمانوں کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔ [البقرة: 31 – 32 – 33]

 

اللہ تعالی نے اپنی ساری مخلوق پر انسانوں کو علم اور عقل کے باعث فضیلت سے نوازا، اور اسی علم کی بنا پر ان سے احکامات کی تعمیل اور ان پر عمل کرنے کا مطالبہ فرمایا۔

 

ان دنوں میں طلبا اور طالبات کا نیا تعلیمی سال  شروع ہو چکا ہے، تو مبارک ہو بھر پور جد و جہد کرنے والوں کو ، کامیابی کے لیے اپنی وسعت کے مطابق کوشش کرنے والوں کو؛ کیونکہ حصول علم  بنیادی ترین ضرورت  ہے، علم کی بنا پر انسان دین کو پہچانتا ہے، یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے پروردگار کی اطاعت کا طریقہ سیکھتا ہے، جبریل نے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب جو اولین حکم لائے تھے وہ حصولِ علم کا ہی تھا اور وہ سب سے پہلے نازل ہونے والی آیت {اقْرَأْ} [العلق: 1] ہے۔]

 

قرآن کریم نے حصول علم کی ترغیب دلائی ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم کے علاوہ کسی بھی چیز میں اضافے کی دعا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا} اور کہہ دے: میرے رب، میرے علم میں اضافہ فرما۔ [طہ: 114]

 

پھر علمائے کرام کا مقام و مرتبہ واضح کرتے ہوئے فرمایا:

اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں ۔[فاطر: 28]

 

حصولِ علم کیلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ترغیب دلائی اور بتلایا کہ علم در حقیقت اللہ تعالی کے ارادۂ خیر کی علامت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: (اللہ تعالی جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے)

 

نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کا یہ بھی فرمان ہے: (جو شخص حصولِ علم کیلیے راستے پر چلے تو  اللہ تعالی اِس کی وجہ سے اس شخص کیلیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے)

 

اس لیے آپ سب حصولِ علم کیلیے وقت نکالیں، اپنے بچوں کو حصولِ علم کیلیے ترغیب دلائیں؛ کیونکہ علم تربیت کا مفید ترین ذریعہ اور تزکیہ نفس کا یقینی راستہ ہے، علم ہی انسان کو فتنوں سے تحفظ  دیتا ہے اور مشکل حالات میں ثابت قدمی کا باعث بنتا ہے، مصیبت کے وقت میں دلاسا دیتا ہے، حصولِ علم بہت بڑی نیکی، عظیم ترین بندگی اور بلند درجات  کا حامل عمل ہے۔

 

تعلیم و تعلم کی مصروفیت ابدی اور سرمدی نیکیوں میں سے ہے، یہ مصروفیت مرنے کے بعد صدقہ جاریہ بن جاتی ہے اور مسلسل ثواب کا ذریعہ بنتی ہے؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (جس وقت انسان فوت ہو جائے تو اس کے تین اعمال کے علاوہ سب منقطع ہو جاتے ہیں: صدقہ جاریہ، علم  جس سے لوگ مستفید ہو رہے ہوں، یا نیک اولاد جو اس کیلیے دعائیں کرے)

 

 علم کو دل جمعی، وقت، محنت، جاں فشانی اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے؛ کیونکہ رفعت بہ قدر  محنت ہی  ملتی ہے۔

 

طلبہ کو اخلاص نیت، پختہ عزم اور تزکیۂ نفس کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ رکاوٹوں  اور دیگر حائل ہونے والی چیزوں سے بچنا ضروری ہوتا ہے؛ کیونکہ بستر پر پڑے رہنے والا آسمان نہیں چھو سکتا۔

 

طلبہ کو شرعی آداب کی ضرورت بھی رہتی ہے تا کہ طلبہ دوسروں کے لیے عملی نمونہ اور اچھی مثال بن کر سامنے آئیں اور دین اسلام کا پیغام آگے پہنچانے کے قابل بنیں، نیز امت کے بہترین لوگوں میں شامل ہوں؛ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: (اس علم کو ہر پیش رو سے صادق اور امین لوگ حاصل کریں گے، وہ اس دین سے غلو کاروں کی تحریف ، باطل لوگوں کے اعتراضات، اور جاہلوں کی تاویلیں مٹائیں گے)

 

ان تمام تر تفصیلات کے بعد،  عزیز طلباء وطالبات !

تمام کے تمام مفید علوم  شرعی طور پر جائز ہیں، چاہے ان علوم کا ماخذ قرآن و سنت افعال اہل بیت ہوں، جیسے کہ عقیدہ، تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر دینی علوم یا چاہے ان علوم کا ماخذ زندگی میں حاصل ہونے والا تجربہ اور مشاہدہ ہو؛ جیسے کہ طبی علوم، حیاتیات اور ہندسہ وغیرہ ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص ان علوم کو حاصل کرتے ہوئے بھی اپنی نیت خالص رکھے تو مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان میں شامل ہو گا: (جو شخص حصولِ علم کیلیے راستے پر چلے تو  اللہ تعالی اِس عمل کی وجہ سے اس شخص کیلیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے)

 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وہی تو ہے جس نے ان پڑھ  لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے ان کی زندگی سنوارتا اور انہیں کتاب و حکمت  کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے پہلے صریح  گمراہی میں پڑے تھے اور انہی کے کچھ دوسرے لوگوں (کی طرف بھی بھیجا) جو ابھی ان سے  نہیں ملے اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے [الجمعہ: 2 – 4].

 

 

مرد و خواتین اساتذہ اور تربیت کنندگان:

 

کچھ لوگ علم کے خادم ہوتے ہیں جو علم محفوظ کرتے ہیں، اس کی حفاظت کرتے ہیں، علم سیکھ کر آگے پہنچاتے ہیں، اساتذہ علم کے لیے خدمات پیش کرتے ہیں، ان کے ذریعے سے علوم نسلوں تک پھیلتے چلے جاتے ہیں اور ان کی کاوشوں سے کائنات کے گوشوں میں موجود لوگ ان سے مستفید ہوتے ہیں۔

 

استاد اپنی تربیتی اور تعلیمی ذمہ داری نبھاتے ہوئے انبیائے کرام اور علمائے عظام  کا جانشین ہوتا ہے، استاد پوری قوم کی خدمت کرتے ہوئے قوم کو مستقبل کے معمار  تیار کر کے دیتا ہے، قوم کے نوجوانوں  میں دینی اور دنیاوی زندگی  خوشحال بنانے کے طریقے ودیعت کرتا ہے، اس لیے استاد کا لحاظ اور سپاس انتہائی ضروری ہے، استاد کی عزت اور وقار کا احترام کرنا چاہیے، ان کی غلطیاں معاف اور لغزشوں کو درگزر کر دینا چاہیے۔

 

اساتذہ کرام آپ عملی نمونہ بنیں، علم اور آداب سے آراستہ و پیراستہ ہوں، آپ اپنے طلبہ کی نگاہوں میں بہت عظیم شخصیت ہو، طلبہ ہمیشہ تمہاری نقل اتارنے اور تمہارے نقش قدم پر چلنے کے دلدادہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کے سامنے عملی نمونہ بن جائیں۔

 

اگر آپ انہیں سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں تو آپ سچے بن کر دکھائیں، اور اگر آپ انہیں صبر کی تلقین کرتے ہیں تو آپ صابر بن کر دکھائیں۔

اپنے آپ سے ابتدا کرو اور نفس کو سرکشی سے روکو، اگر نفس اس سے رک جائے تو تم دانا ہو.

یہاں آپ کی ہر بات مانی جاتی ہے اور تم سے علم لیکر اس پر عمل کیا جاتا ہے، تو اچھی تعلیم دینا مفید عمل ہے.

تم کسی بات سے روک کر خود اس کا ارتکاب مت کرو؛ کیونکہ یہ بری بات ہے اور تمہارا ارتکاب زیادہ سنگین  ہے۔

 

مرد و خواتین اساتذہ کرام!

 

آپ کی ذمہ داری بہت بڑی ہے، آپ کے کندھوں پر ڈالی گئی امانت  بہت اہم ہے، اس لیے مستقبل کا نوجوان آپ کے ذمے ہے، پوری امت اور قوم  کی امانتیں آپ کے اختیار میں ہیں، ان کا مستقبل بھی آپ کی کارکردگی سے منسلک ہے، اس لیے جس چیز کا آپ لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ان کے متعلق اللہ سے ڈریں؛ کیونکہ (تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور پھر تم سے تمہاری ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا)

 

اگر تم اچھی کارکردگی دکھاؤ گے -آپ سے امید بھی اسی چیز کی ہے- تو اللہ تعالی کے ہاں تمہارے لیے بہت بڑا مقام ہے، بصورت دیگر تم اپنا بھی برا کرو گے اور پوری قوم اور ملت کا بھی ۔

 

عزیز طلبہ اور طالبات!

 

ذرا میری بات غور سے سننا، کان لگا کر سماعت کرنا، یہ بات تم سے محبت اور تمہارے خیر کی جانب سے تمہارے لیے خاص ہے کہ: استاد کا احترام شرعی ادب، اخلاقی فریضہ، علمی اور تربیتی کامیابی کا راز بھی ہے۔

 

اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کے خضر علیہ السلام کے ساتھ سفر کے واقعے میں عبرتیں، نصیحتیں اور یاد دہانیاں ہیں، چنانچہ موسی علیہ ا لسلام نے شاگرد بن کر خضر علیہ السلام سے فرمایا تھا: کیا میں آپ کے ہمراہ چل سکتا ہوں؟ کہ آپ مجھے رہنمائی سکھا دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے۔ [الكهف: 66] تو اس پر استاد نے جواب دیا: کہا: آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکتے اور صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں آپ کو ان چیزوں کا علم ہی نہیں دیا گیا۔[الكهف: 67، 68] تو موسی علیہ السلام نے انہیں بتلانے کی کوشش کی کہ وہ استاد کے احترام اور تعلیمی مرحلے کی مشقتوں کو سمجھتے ہیں اور کہا :  ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کی عدولی نہیں کروں گا۔[الكهف: 69]

 

استاد کی بہت زیادہ فضیلت ہے، استاد کی محنت، تگ و دو اور جد و جہد  کا بدلہ اچھائی کے ساتھ ہی ممکن ہے، اس لیے اپنے آپ کو استاد  کی بے ادبی سے دور رکھنا، کیونکہ استاد کی بے ادبی ناقص تربیت، اخلاقی گراوٹ، اور گرا ہوا سلوک ہے، ایسی حرکت صرف کمینہ شخص ہی کرتا ہے۔

 

اس لیے اپنے اساتذہ کی عزت کرو، ہر شخص کو اس کا مقام دو، ہر شخص کو اس کے پورے حقوق دو، اللہ تعالی آپ سب کو کامیاب فرمائے، تمہیں علم نافع اور عمل صالح سے نوازے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments