ہمیں‌ہماری زمینوں سے بیدخل کیا جارہا ہے، اہلیانَ‌سرفہ رنگا کی دہائی

شگر(نمائندہ خصوصی ) ہمیں اپنی ملکیت سے بے دخل کیا جارہا ہے ۔اور سرفہ رنگا پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔اہلیان چھومک سے ہمارے جان ، مال اور املاک کو شدیدخطرہ لاحق ہے۔انتظامیہ ہمیں تحفظ فراہم کریں ۔ اہلیان سرفہ رنگا فریاد لیکر ڈپٹی کمشنر شگر کے پاس پہنچ گئے۔سابق ممبر ضلع کونسل شگر حاجی وزیر فداعلی کی قیادت میں سابق چیئرمین یونین کونسل مرہ پی شگر،حاجی علی سابق ممبر یونین کونسل سرفہ رنگا اور دیگر سرکردگان سرفہ رنگا نے ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر ایس پی شگر ضیاء اللہ خان بھی موجود تھے۔وفد نے ڈپٹی کمشنر شگر کو بتایا کہ ڈوگرا راج کی بندوبست کے مطابق کڑوس تھنگ اور ملحقہ تمام میدان اہالیان سرفہ رنگا ،الڈنگ سکردو اور مرہ پی شگرکی ملکیت ہے اس پر گاہ چرائی اور دیگر حقوق ہمارے ہیں ۔جس پر شب و خون مارتے ہوئے اہالیان چھومک زبردستی قبضہ کیا ہے۔جس پر انجمن امامیہ سکردو کی زیر نگرانی تینوں فریقوں سے 3 تین افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیا ہوا ہے۔ تاہم چھومک والوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکاہے۔چھومک والے زبردستی غنڈا گردی پر اتر آیا ہوا ہے۔اور ہمارے حقوق تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔اس میدان پر صدیوں سے سرفہ رنگا والوں کی تسلط اور قبضہ رہاہے۔بلتستان یونیورسٹی کیلئے زمین کے معاملے پر سکردو انتظامیہ کی جانب سے زمین الاٹ کرنے پر اہل سرفہ رنگا کی درخواست پر انتقال منسوخ کرتے ہوئے شگر انتظامیہ کی جانب سے زمین فراہم کی گئی۔یہ زمین ضلع شگر کی حدود میں آتا ہے۔ اوراہل سرفہ رنگا نے ہمیشہ کھلے دل کیساتھ حکومت کیساتھ تعاؤن کیا ہے۔ بلتستان یونیورسٹی سے لیکر پاک آرمی فائرنگ رینج اور دیگر سرکاری اداروں کیلئے زمینیں ہم نے مفت فراہم کی۔تاہم2015میں اہلیان چھومک نے اس میدان پر لشکر کشی کرتے ہوئے زبردستی گھس آیا ۔ تاہم شگر کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہمیں تحفظ دیا گیا ۔ جس کا ہم ضلعی انتظامیہ کے مشکور ہے۔اب بھی ہمیں چھومک والوں سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ لہذا شگر انتظامیہ ہمیں تحفظ فراہم کریں۔اور ہمارے حقوق غصب ہونے سے بچایا جائے۔ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین نے وفد کو یقین دلایا کہ سرکار اتنے کمزور نہیں کہ سرکار کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو بخش دیں۔سرکار اپنے رٹ کو قائم رکھنا بہتر طور پر جانتے ہیں۔ شگر انتظامیہ اہالیاں سرفہ رنگا کی حقوق اور مال و جان کی مکمل تحفظ فراہم کرینگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments