ٹیکسز کا نیا مسودہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں‌، نیا مسودہ حکومت کے منہ پر دے مارتا ہوں، شفیق خان، قائد حزبِ اختلاف

گلگت  (سٹاف رپورٹر) گلگت قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیپٹن (ر) محمد شفیع خان نے کہا ہے ٹیکسز کے حوالے سے تیار کردہ مسودہ کسی صورت قابل قبول نہیں. پارلیمانی کمیٹی کا ٹیکسز کے حوالے سے بنایا ہوا مسودہ نئی بوتل میں پرانی شراب جیسا ہے.  ہمارا اتفاق گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے مکمل خاتمے پر ہوا تھا. حکومت کے بنائے ہوئے مسودے کو حکومت کے منہ پر مارتا ہوں اور ردی کی ٹهوکری میں پھینک دیتا ہوں. حکومت نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ ٹیکس کے حوالے سے کسی بھی قسم کے فیصلہ کرنے سے پہلے اسمبلی میں بحث کروائے گی مگر حکومت نے ایک دفعہ پھر دغا دیتے ہوئے نئے مسودے کو تیار کیا ہے. حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ دس روزہ اسمبلی اجلاس میں بحث کرواتے پھر کوئی مسودہ تیار کرتے. گلگت بلتستان میں کسی قسم کا کوئی ٹیکس لگانے نہیں دینگے. حکومت نے اگر اس بار بھی کسی قسم کی ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو یہ فیصلہ حکومت کے لئیے آخری کیل ثابت ہوگا. اس بار عوام کو  سڑکوں پر ہم لائنگے اور اس وقت تک عوام سڑکوں پر رہے گی جب تک حکومت کا خاتمہ نہیں ہوگا. انہوں نے ان خیالات کا اظہار میڈیا کے لئے جاری اپنے ایک بیان میں کیا. انہوں نے کہا ہے پارلیمانی کمیٹی نے اسمبلی کو اعتماد میں لیئے بغیر اور چور دروازے سے ایک مسودے کو تیار کیا ہے اور میرے دستخط لینے کے لئے اسلام آباد بیجها ہے جسے میں یکسر مسترد کرتا ہوں اور کسی صورت اس مسودے پر عمل ہونے نہیں دونگا. اگر اس بار بھی کسی قسم کا کوئی ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو شدید احتجاج کرینگے اور احتجاج کو ختم کرنے کے لیے حکومت کے خاتمے سے مشروط کر دینگے. قحکومتی آلہ کار شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش نہ کریں. انہوں نے مزید کہا حکومت مخلص نظر نہیں آرہی ہے. اگر حکومت میں زرہ برابر بھی عوام سے مخلصی ہوتی تو اسمبلی اجلاس میں بحث کرواتی اور اسمبلی کے ممبران کو اعتماد میں لیتی. انہوں نے عوام کو یہ پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عوام ہوشیار رہے شاید ٹیکس کے معاملے میں ہمیں ایک اور فیصلہ کن دهرنہ دینا ہوگا.
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments