اے کے ای ایس گلگت بلتستان میں‌معیاری تعلیم کی ایک نرسری ہے، غلام محمد

یاسین (معراج علی عباسی ) مشیربرائے سی ایم جی بی غلام محمد نے بحثت مہمان خصوصی اے کے ای ایس پی کے زیراہتمام ٹیچیرریکوگنیشن ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درس وتدیس ایک مقدس پیشہ ہے ۔ اے کے ای ایس پی کوالٹی ایجوکیشن کا نام ہے ۔گلگت بلتستان میں صوبائی حکومت نے تعلیمی میدان میں بہت انقلابی اقدامات کئے ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی سرکاری سکول اے کے ای ایس پی سے بہت پیچھے ہیں ۔آغاخان ایجوکیشن سروس گلگت بلتستان میں ایک ایجوکیشنل نرسری ہے ۔انہوں نے کہا اے کے ای ایس نے تربیت ہافتہ اساتذہ کا گورنمنٹ سیکڑمیں آنے سے سرکارکاری سکولوں کی کارکردگی میں کافی بہتری آئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے دور اقتدار میں یاسین کے اندار دو انٹرکالج ،تین ہائی سکول ،اور دس میڈیکل سکول بنوائے ہیں۔ تعلمی میدان میں کافی حد تک کام ہو اہے اور مزید کرنے کی ضروت ہے۔

انہوں نے ن لیگ کے صوبائی حکومت کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے سپ سکولوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا عمل شروغ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مئی میں سب ڈویزن یاسین کا افتاح کیا جائے گا۔سب ڈویزن یاسین کے افتاح ہونے کے بعد ایک طرف سے لوگوں کو ان کے گھرکے دہلز پر سہولیات میسرآینگے تو دوسرے جانب روزگار کے مواقعے ملیں گے ۔انہوں نے کہ کہ وزیراعلی گلگت بلتستان نے یاسین گاوں مشر،تھوئی اور درکوت میں آرسی سی پل رکھا جن پر بہت جلد کام کا آغاز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے گلگت کو بگ سٹی بنانے کا اعلان کیا مگر اقدمات نہیں کئے آج ن لیگ کے صوبائی حکومت نے گلگت شہرکو بگ سٹی بنانے کے لیے ضروری ترقیاتی کاموں میں لگا ہے ۔ن لیک کے صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان کے بجٹ کو 9 کروڑ سے بڑا کر 18کروڑ کیا اور ساتھ ہی ایفاد پراجیکٹ کے تحت بڑے بڑے منصوبوں پر کام شروغ کررکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان کے اندار دیگر ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن اور ہیلتھ میں بھی انقلابی اقدامات شروغ کیا ہے ۔گلگت میں کینسرہسپتال ،ہارٹ ہسپتال کے علاوہ میڈیکل کالج بنایا رہا ہے ۔اور گلگت بلتستان کے تمام ہسپتالوں میں ڈائلیسس سنٹرزاور جدیدایکسرے مشین لگانے کا منصوبہ بھی جلد شروغ کیا جایگا۔تقرین سے اپنے خطاب میں ممبرقانون ساز اسمبلی راجہ جہانذیب نے کہا کہ آغاخان نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والے تمام اداروں کا لیول گلگت بلتستان میں سب سے اوپر ہے ۔گلگت بلتستان اور خاص کر غذر میں تعلیمی اعتبار سے آغاخان نیٹ ورک کے سکول نہ ہوتے تو آج غذر میں تعلیم کی ریشو صفرہوتا ۔انہوں نے کہا کہ آغاخان نیٹ ورک کے اداروں کے باعث دنیا میں ہماری پہچان ہوا ہے ۔میں آج آغاخان ایجوکیشن سسٹم میں خدمات سرانجام دینے والے تمام اساتذہ کو دونوں ہاتھ اٹھاکر سرخ سلام پیش کرتا ہوں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments