چکدرہ سے شندور تک روڈ کا ٹینڈر۔۔غذر روڈ کی تعمیر کب ہوگی؟

تحریر :۔دردانہ شیر

گلگت بلتستان حکومت نے خطے میں ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کے لئے تین ارب سے زائد رقم کی منظوری دیدی ہے اوردرجنوں آر سی سی پل تعمیر ہونگے جس سے خطے کے عوام کو فائدہ پہنچے گا اس کے علاوہ بجلی کے منصوبے بھی ترقیاتی سکیموں میں شامل کر دیا گیا ہے مگر کسی بھی علاقے میں سڑکوں کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں اس وقت گلگت بلتستان کے عوام کو سب سے اہم مسلہ خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے پیش آرہا ہے اور جو سڑکیں بنائی گئی تھی وہ اب آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہے خصوصا غذر، استور اور گانچے میں اس وقت جو روڈ کی حالت بنی ہے وہ قابل رحم ہے ان ہی خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے سالانہ آنے والے لاکھوں سیاح ان خوبصورت اور جنت نظیرعلاقوں کارخ نہیں کرتے جبکہ موجودہ حکومت کو برسر اقتدار میں آئے تین سال ہونے کو ہے علاقے کے عوام کی آمد ورفت خصوصا سڑکوں کی تعمیر میں کوئی دلچسپی نہ لینے سے آج گلگت بلتستان کی یہ شاہراہیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے اس کے علاوہ غذر کے عوام کو یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی تھی کہ غذر روڈ کو سی پیک میں شامل کر دیا گیا ہے جس سے یہاں کے عوام کی تقدیر بدل جائے گی اب اطلاعات یہ موصول ہورہی ہے کہ سی پیک میں شامل روڈ کا پہلا فیز پر بہت جلد ٹینڈر ہوگا اور یہ سڑک گلگت سے شندور تک نہیں بلکہ چکدرہ سے شندور تک تعمیر ہوگی اور رواں سال اس پر کام بھی شروع ہوگا حالانکہ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اسلام آباد غذر یوتھ کی طرف سے رکھا گیا ایک پروگرام میں اپنے خطاب کے دوران غذر کے عوام کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ رواں سال جون میں گلگت چترال روڈ کی تعمیر شروع ہوگی مگر وہی ہوا جس کی امید تھی کے پی کے کی حکومت نے چکدرہ سے شندور تک کی اہم شاہراہ کو فیز ون میں شامل کرا دیا اور بہت جلد اس شاہراہ کی تعمیر ہوگی جبکہ شندور سے گلگت تک کی سڑک کی تعمیر کو فیز ٹو میں رکھا گیا ہے جس کی تعمیر اس وقت شروع ہوگی جب چکدرہ سے شندور تک شاہراہ مکمل ہوگی اور اس کو مکمل ہونے میں کم از کم تین سے چار سال لگ جائینگے اور غذر کے عوام کو مزید چار سالوں تک ان خستہ حال سڑکوں پر ہی سفر کرنا پڑ ئیگا جس پر اب تک سفر کرتے چلے آرہے ہیں اب تو یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ سی پیک چکدرہ گلگت روڈ کی تعمیرمیں سب سے زیادہ دلچسپی کے پی کے کے وزیر اعلی نے لی تھی ایسی لئے تو اب کام کا آغاز بھی کے پی کے سے ہورہا ہے جب یہ شاہراہ شندور تک مکمل ہوگی تو تب شندور سے گلگت تک اس روڈ پر کام ہوگا اور ویسے بھی سی پیک کے منصوبوں نے 2030میں مکمل ہونے ہیں اورغذر شاہراہ کی تعمیر بھی اس دوران ہوگی ویسے بھی موجودہ حکومت کی غذر کے ساتھ ہمدردیاں کم ہیں اور اب تو صاف ظاہر ہوگیا کہ گلگت غذر روڈ کی تعمیر کا کام جون میں شروع ہونے کا اعلان ایک سیاسی اعلان تھا اب جبکہ چکدرہ سے شندور تک روڈ کے ٹینڈر بھی جاری ہوگئے ہیں ایسے میں غذر گلگت روڈ کی جون میں کام شروع ہونے کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہی نظر آتا ہے گلگت بلتستان کا ضلع غذر وہ خوبصورت اور جنت نظیر خطہ ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس خوبصورت وادی کارخ کرتے ہیں دو لاکھ آبادی والے اس ضلع کے ساتھ جتنی امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی یہاں پر صرف سڑکوں کی تعمیر کی بات نہیں ہے ہر شعبے میں یہاں کے عوام کو نہ جانے کس ظلم کی سزا دی جارہی یہ تو موجودہ حکمرانوں کو ہی پتہ ہوگا دو لاکھ آبادی والے اس ضلع کے عوام کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں ایک تیس بیڈ ہسپتال بنایا گیا ہے جہاں نہ تو کوئی سرجن ہے اور نہ ہی کوئی سپیشلٹ ڈاکٹر موجود ہے معمولی آپریشن کے لئے بھی مریض کو گلگت لے جانا پڑ تا ہے دوسری طرف یہاں آنے والے سیاحوں کو جو مشکلات ہے اس سے بھی وقت کے حکمران اچھے طرح واقف ہے یہاں پر بنائے گئے پکنک پوائنٹ بھوت بنگلوں کا منظر پیش کررہے ہیں مگر حکومت خاموش ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ضلع کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے حالانکہ پچاس سے ساٹھ ہزار آبادی رکھنے والے علاقوں کو ضلع کا درج دیا گیا مگر دولاکھ آبادی والے ڈسٹرکٹ کے عوام گزشتہ کئی سالوں سے مطالبہ کر رہے کہ گوپس اور یاسین کو ضلع کا درجہ دیا جائے مگر اس پر وقت کے حکمران ٹال مٹول سے کام لے رہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ غذر کے عوام کو گزشتہ الیکشن میں (ن) کے امیدواروں کو کامیاب نہ کرانے کی سزا دی جارہی ہے مگر ان حکمرانوں کو یہ پتہ نہیں کہ دو سال بعد پھر الیکشن ہونگے اور کس منہ سے عوام کے سامنے ووٹ لینے جائینگے دوسری طر ف اس وقت غذر کی تمام تحصیلوں کی رابطہ سڑ کوں کے علاوہ گلگت گاہکوچ روڈ کی جو قابل رحم حالت ہوئی اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے اگر وقت کے حکمرانوں نے یہاں کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک بند نہ کیا تو آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ کو غذر سخت سیاسی نقصان کا قوی امکان ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments