چترال میں‌ثقافتی پروگرام کا انعقاد، گلوکاروں نے ملی نغمے گا کر تماشائیوں کو گرمادیا

چترال(گل حمادفاروقی) چترال ایک ذرحیز ثقافت کا حامل ہے اور اس کی نرالی ثقافت کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں ایک پر امن ضلع سمجھا جاتا ہے۔ چترال کی ثقافت کو تریج دینے اور عوام کو موسم سرما کی تکلیف دہ سردی کی صعوبت برداشت کرنے کے بعد چند لمحوں کیلئے محظوظ کرانے کیلئے گورنر کاٹیج چترال میں ایک ثقافی شو کا انعقاد ہوا جس کا اہتمام ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عبد الرحمت نے کیا تھا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد علی سودھر مہمان حصوصی تھے جبکہ ثقافی شو میں اسسٹنٹ کمشنر ساجد نواز، چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری ، سول انتظامیہ کے افسران، فنکاروں اور عام لوگوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

ثقافی شو میں جب فنکاروں نے چترالی ستار کی جادو بھری آواز میں قومی نغمہ گنگنایا تو تماشائی فرط جذبات میں جھوم اٹھے اور میدان میں بے تحاشا کھود کر روایتی رقص پیش کیا۔ثقافتی شو میں ستار، جیریکین، رباب، گٹار اور دیگر آلات سے فنکاروں نے تماشائیوں نے محظوظ کرایا۔ مقامی فن کاروں نے چترالی، اردو اور پشتو زبانوں میں گیت نغمے ، نظم اور غزلیں پیش کی۔ثقافتی شو کے دوران فن کار جب گاتے تھے تو ان کے ساتھ تماشائی بھی چکلیاں دے کر اور تالیاں بجا کر ان کو داد دیتے۔اس موقع پر چترالی رقص کے علاوہ باہر سے آئے ہوئے مہمانوں نے اتنڑ بھی ڈالا جس میں کئی افراد نے بیک وقت رقص پیش کی۔ اس دوران دیگر ثقافتوں کے بھی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے نغمے اور موسیقی پیش کی۔

ڈپٹی کمشنر نے فن کاروں کو داد دیتے ہوئے ان کے ساتھ ہر قسم تعاون کا یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ثقافت ان کی پہچان ہوتی ہے اور چترال کی مثالی امن کا راز ا س کی ذرحیز ثقافت میں ہے۔انہوں نے کہا کہ چترال کے ثقافت کو ترقی دینے کیلئے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن قدم اٹھاے گی۔انہوں نے عوام پر زو ر دیا کہ وہ اس قسم کے مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے اور اس میں مشعول رہے کیونکہ حالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے اور جو لوگ بے روزگار بیٹھے ہیں وہ منشیات کے شکار ہوتے ہیں اس لئے عوام کو چاہئے کہ ہر قسم دہشت گردی اور منفی سرگرمیوں سے خود کو بچاکر اس قسم کے لطف اندوز اور مثبت سرگرمیوں میں خود کو مشعول رکھے تاکہ ان کا دہیان اس طرف نہ جائے۔ ثقافتی شو میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کرکے محظوظ ہوئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments