سوال کرنے پر احتجاجا او پی ڈی بند کرنیوالے سرکاری ڈاکٹر مشتعل، دیامر پریس کلب کے صدر پر حملہ آورہوگئے

چلاس(بیورورپورٹ)چلاس ہسپتال میں احتجاج پر بیٹھے ڈاکٹر مقامی صحافی کے سوال پر سیخ پا ہوگئے اور شدید بدنظمی دیکھنے کو ملی،ڈاکٹروں نے صحافیوں سے بدتمیزی کی اور سوال کرنے والے صحافی پر ہاتھ بھی اُٹھا دیا ، مجسٹریٹ اور دیامرپولیس نے موقع پر ڈاکٹروں کی چنگل سے صحافیوں کو چھڑا دیا ۔تفصیلات کے مطابق تھور چیک پوسٹ پر ایک ڈاکٹر کی گاڑی کی رجسٹریشن اور تلاشی لینے پر چلاس ہسپتال کے ڈاکٹروں نے او پی ڈیز بند کرکے احتجاج کیا تو دیامر پریس کلب کے اراکین کوریج کیلئے چلاس ہسپتال پہنچ ،کوریج کے دوران ایک مقامی صحافی نے سوال کیا کہ شاہراہ قراقرم پر روزانہ ہزاروں مسافر سفر کرتے ہیں ،اگر کسی ڈاکٹر کے ساتھ دوران سفر کسی چیک پوسٹ پر پولیس کے ساتھ تلخ کلامی ہوتی ہے تو اُس کے جواب میں ڈاکٹروں کا ہسپتال بند کرکے مریضوں کو مشکلات پیدا کرنا کیا مسلے کا حل ہے؟صحافی کے اس سوال کے بعد پھر کیا تھا ڈاکٹروں نے آسمان سر پر بیٹھا دیا اور سوال کا جواب دینے کے بجائے صحافیوں پر چڑھ دوڑے اورصحافیوں کے ساتھ سخت بدتمیزی کرتے ہوئے تمام ڈاکٹروں نے صحافیوں پر ہاتھ اُٹھایا اور ہسپتال میں سخت دھکم پیل ہوئی ۔ ایس پی دیامر اورضلعی مجسٹریٹ نے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشیش کی لیکن ڈاکٹر بدستور صحافیوں پر حملہ آور ہونے کی کوشیش کرتے رہے ،آخر میں پولیس نے صحافیوں کو باہر نکالا اور ڈاکٹروں کو خاموش کرایا ۔ڈاکٹروں کی بدتمیزی اور صحافیوں پر ہاتھ اُٹھانے کے خلاف دیامر پریس کلب کے تمام صحافیوں نے سخت احتجاج کیا اور کہاکہ وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری صحافیوں کے ساتھ کی جانے والی بد تمیزی کا نوٹس لیں اور چلاس ہسپتال کے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments