غیر مقامی افراد کی بے جا مداخلت سے جشنِ‌کاغلشٹ بدمزگی کا شکار، مقامی ثقافتی اور ادبی تنظیموں نے مداخلت کو کھو ثقافت پر حملہ قرار دیا

چترال ( محکم الدین )چارروزہ کاغلشٹ فیسٹیول اتوارکے روزاختتام پذیرہوا۔ہزاروں افرادنے فیسٹیول کے آخری میچوں میں شرکت کی۔کمشنر ملاکنڈڈویژن سید ظہیر الاسلام شاہ مہمان خصوصی تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر چترال ارشادسودھر، تحصیل نائب ناظم مستوج فخرالدین،ممبرتحصیل کونسل سردارحکیم ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال منہاس الدین، اسسٹنٹ کمشنر پولیٹکل اینڈڈیویلمپنٹ سوات عبدالاکرم،اسسٹنٹ کمشنر چترال ساجدنواز،ڈسٹرکٹ فنانس آفیسرحیات شاہ، اسسٹنٹ کمشنر مستوج اون حیدر گوندل ،پراجیکٹ ڈائریکٹرگولین گول ہائیڈل پاورپراجیکٹ ،چیئرمین کاغلشٹ کمیٹی پرنس سلطان الملک اوردیگرموجودتھے۔جبکہ ہزاروں کی تعدادمیں تماشائیوں نے شرکت کی۔پولوکافائنل میچ ریشن اوربونی کے مابین کھیلاگیاجس میں ریشن وائٹ نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرافی اپنے نام کرلی ،جبکہ فٹبال میں ایون فٹبال کلب نے ینگ اسٹاردروش کوشکست دی،اسی طر ح نشانہ بازی میں کوشٹ کے عبدالباقی ،رسہ کشی میں بونی ،ٹیبل ٹینس میں ہدایت اللہ ،میراتھن میں سمیع اللہ نے کامیابی حاصل کی۔جبکہ ولی بال اورکرکٹ کی ٹیموں کی تعدادزیادہ ہونے کی وجہ سے فائنل میچ اختتام پذیرنہ ہوسکا۔فائنل میچ کے دوران پیرا گلائیڈنگ کامظاہرہ کیاگیااورظاہرالدین بابربہترین پیرا گلائیڈرقرارپائے۔قبل ازین گذشتہ رات کاغلشٹ میں کلچرشوکاانعقادبھی کیاگیاچارروزہ کاغلشٹ فیسٹیول کے دوران دس ہزارفٹ بلندبے آب و گیاہ میدان میں جنگل میں منگل کاسماء رہااورچترال و ملک کے کئی شہروں اوربیرون ملک سے سیاحوں نے اس میں شرکت کی۔تاہم بارش نہ ہونے کے باعث اُڑتی دھول نے جشن کامزہ پھیکاکردیا۔

جشن کاغلشٹ نے جہاں لوگوں کوتفریح مہیاکی وہاں جشن کاغلشٹ کمیٹی کے بنیادی ممبران اورادب وثقافت سے وابستہ لوگوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلچرل شوکے نام پرچترالی ثقافت کاہلیہ بگاڑدیاگیااورچترال کی ثقافت کوغیرچترالیوں کے غیر چترالیوں کے ہاتھوں ہائی جیک کی گی۔اورپیش کردہ کلچرشوکسی بھی طرح چترال کی ثقافت کی عکاسی نہیں کرتی۔انہوں نے کہاکہ انتظامی آفیسران کی طرف سے اس عوامی ثقافتی جشن میں مداخلت اوراس کے ابتدائی محرک ثقافتی اورادبی افراد و تنظیمات کوبائی پاس کرنے سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔اوریہ دانستہ طورپرچترال کی تہذیبی اقدارکوسبوتاژکرنے کی کوشش ہے انہوں نے کہاکہ اس قدیم روایتی جشن کوچترال کے کلچر دوست افرادنے مختلف اداروں کے قلیل مالی تعاون اوراپنی مددآپ کے تحت اس مقام تک پہنچایاکہ یہ کیلنڈرایونٹ بن گیا۔ آج ملکی سیاحتی ادارے اورمختلف کمپنیاں اس کے لئے فنڈزفراہم کرنے لگے ہیں۔اب اُن رضاکاراداروں اورافرادسے جشن کاغلشٹ کے حوالے سے پوچھنابھی گوارانہیں کیاجاتا ۔جشن کاغلشٹ کمیٹی کے چیئرمین پرنس سلطان الملک ، ادبی اورثقافتی انجمن کے صدرذکرمحمدزخمی نے انتظامیہ کے اس رویے کو انتہائی طور پر نامناسب قرار دیا ہے اورکہاہے کہ کہوثقافت پرڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہرگزقبول نہیں کیاجائے گا۔

آپ کی رائے

comments