بدصوت اشکومن کے مکین بدحال، دو ماہ گزرنے کے باوجود آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور

غذر, بد صوات(معراج عباسی ) غذر کے بالائی تحصیل اشکومن کے بالائی گاؤں بد صوات کے سیلاب متاثرین دوماہ گزرنے کے باوجود آسمان تلے زندگی گزار نے پر مجبور ہے ۔ متاثرین سیلاب زدگان کو اشیائے خوردنوش ،صحت ،روڑ کے علاوہ رہائشی مکانات کے حوالے سے شدیدمشکلات درپیش ہے ۔ سیلاب نے جہاں بد صوات گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا وہاں ان علاقوں کو جانے والی واحد سڑ ک بھی بلہنز سے لیکر بد صوات تک تباہی سے دو چار ہوگئی جسکی وجہ سے علاقے میں آمدو رفت کے سنگین مسائل پید اہوئے ۔ بد صوات میں موجود مڈل سکول بھی جھیل کی پانی میں ڈوپنے سے گاؤں کے بچے تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہوگئے ساتھ ساتھ بد صوات سے آگے کئی گاؤں بھی سیلاب کی وجہ سے شدید متاثرہوئے اور جھیل کے اوپر واقع بر ست گاؤں جہاں پر تقریباََ 60 کے قریب گھرانے آباد ہے اور متاثرین بھی اس وقت اسی گاؤں میں پناہ لیے ہوئے ہیں اورتباہ کن سیلابی ریلے نے نہ صرف بد صوات گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا بلکہ بر ست گاؤں کے مکینوں کو بھی شدید متاثر کیاجسکی وجہ سے بر ست گاؤں کے تمام تر ایر گیشن چینلز جہاں سے گاؤں کی زمینوں کے لیے پانی آتا تھا تما م کے تما چینلزتباہ ہوگئے اور آپ دوبارہ نئے چینلز لانے کا کوئی ذرئعہ ہی موجو د نہیں ہے اور بر ست گاؤں سے تقریباََ ہزار سے بارہ سو فٹ کے فاصلے پر گلیشر موجود ہے جیسے دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ اگلے سال اس سے بھی زیادہ تباہ کن سیلاب آنے کے امکانات نظر آتے ہیں کیونکہ گلیشر سے سارا دن دھواں نکلتا ہے ایک طرف بر ست گاؤں کے تمام ایری گیشن چینلز سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں تو دوسری جانب سیلابی ریلے کی کٹاؤ سے سینکڑوں کنال اراضی بھی تباہ ہوگئی ہے اگر نالے میں پھر سیلاب آنے کی صورت میں گاؤں بر ست کو بھی بہہ لے جائے گا اور بر ست گاؤں کے تقریباََ 60 گھرانے بھی بے گھر ہونگے کیونکہ اس سال واٹر چینلز سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے بر ست گاؤں میں آلو کی فصل مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے کیونکہ اس گاؤں میں رہنے والوں کا دارومدار صرف آلو پر ہوتا ہے اور یہاں کے مکین آلو اُگا کر گزارہ کرتے ہیں لیکن اس سال گاؤں میں آلو کی پیدوار انتہائی کم ہوگئی ہے اور گاؤں میں فی سو کے جی بوری 13 روپے کی فروخت ہورہی ہے جبکہ آلو لینے والے ٹھیکدار وں کے لیے بھی شدید مسائل کا سامنا ہے کیونکہ روڑ نہ ہونے کی وجہ سے ٹریکٹر میں صرف 16 بوریاں لوڈ ہوتی ہے اور ایمت گاؤں تک چار ہزار کرایہ لیا جاتا ہے کیونکہ روڑ کی خستہ حالی کی وجہ سے علاقے کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ علاقے میں سردیا ں شروع ہوئی ہے اور پہاڑوں پر بر فباری ہورہی ہے لیکن ابھی تک متاثرین کو کسی بھی قسم کی مراعات نہیں دی گئی ہے علاقے میں این ڈی ایم اے کی جانب سے کچھ ٹینٹ دیئے گئے ہیں لیکن وہ متاثرین کے استعمال کے بجائے ایک جگے میں ٹال کر کے رکھے ہیں علاقے میں شیلٹرز بنانے کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے ابھی تک ایک بھی شلٹرز نہیں بنا نا ہے جبکہ علاقے میں شدید سردی کی لہر شروع ہوگئی ہے بر فانی ہواؤں کی وجہ سے سردی اس قدر زیادہ ہوگئی ہے متاثرین کے لیے ٹینٹوں میں رہنا ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ یہ سارا علاقہ متاثر ہے صرف 42 گھرانے ہی متاثر نہیں ہے بلکہ بلہنز سے اگے جتنے بھی گاؤں ہے سب کے سب متاثر ہے ۔ یہاں کے عوام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہمارے کوٹے کے گندم سول سپلائی نے نہیں دی ہے علاقے میں میڈیکل کی کوئی سہولیات موجود نہیں ہے ایسے میں کوئی بیمار ہوتا ہے تو اسے ایمت گاؤں تک پہنچنے میں کم از کم تین سے چار گھنٹے لگتے ہیں راستہ انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے صرف این ڈی ایم اے نے روڑ پاس کیا ہے لیکن اس روڑ پر سفر کرکے ایک تندرست آدمی بھی بیمار ی کا شکار ہوتا ہے تو ایک بیمار کی کیا حالت ہوگی ۔ علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ صرف متاثرین کو فوڈ ایٹم دیئے گئے ہیں لیکن اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملا ہے انہوں نے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سردیوں کے شروع ہونے اور بر فباری سے قبل بد صوات سمت تمام علاقوں میں ادویات ، راشن اور متاثرین کے لیے شلیٹرز فوری طور پر بنایا جائے کیونکہ کچھ ہی دنوں بعد بر فباری ہوگی جسکی وجہ سے علاقے میں زمینی رابط بھی منقطہ ہونے کے امکانات ہے عوام کا کہنا ہے کہ علاقے میں ٹیلی کمیونیکشن کی کوئی سہولت موجود نہیں کوئی بھی خطر ناک حالات پیدا ہونے کی صورت میں ہم کسی سے رابط نہیں کر سکتے ہیں اس لیے علاقے میں فوری طور پر موبائل سسٹم لگایا جائے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments