رمضان المبارک کی آمد سے دو ماہ قبل قصاب غائب

نگر( اقبال راجوا) مین ٹاؤن نگر چھلت میں رمضان المبارک سے دو ماہ قبل ہی قصاب غائب ،علاقے کی تیس ہزار آبادی ضلع گلگت کے علاقے گوور سے مہنگا اور غیر مصدقہ گوشت لینے پر مجبور ہو گئی ۔ضلعی انتظامیہ نگر اس بارے میں ابھی تک کوئی بھی اقدام نہیں اٹھا سکی۔ قابل زکر بات یہ ہے کہ ضلع نگر میں رمضان المبارک میں کم ازکم روزانہ 500کلو گوشت فروخت ہوتا ہے ۔چھلت ٹاؤن میں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم پچھلے دو ماہ سے واویلا کر رہے ہیں کہ فربہ اور صحت مند جانوروں کا ضلع نگر سے باہرلے جانے پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیئے لیکن انتظامیہ کا دیہان اور مصروفیات تقاریب اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں ہونے کی وجہ سے یہ اہم معاملہ حل نہیں ہو رہا ہے ۔ ایک طرف ٹاؤن ایریاء میں کوئی بھی رجسٹرد قصائی ہے نہ قصابوں کے لئے کوئی نظام موجود ہے ۔ اگر کوئی جانور خواہ وہ کسی بھی حلا میں مر جائے اس کو کوئی بھی آدمی بازار مین لٹکا کر عوام کو فروخت کرتا ہے نہیں معلوم اس سے گوشت استعمال کرنے والے افراد پر کیا اثر ات پڑتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہان ہے کہ اسی ہفتے فوری طور پر چھنس پ]ولس چک پوسٹ پر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے احکامات ہونا چایئے کہ ضلع نگر سے باہر کی جانب کوئی بھی فربہ جانور باہر نہ جائے اور مین ٹاؤن ایریاء میں قصائی نظام بحال کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قصائی اس لئے بند کی گئی ہے کہ رمضان المبارک سے قبل ضلع گلگت کے مضافاتی علاقے جگلوٹ گورو سے گوشت لانے کے بہانے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے ۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ قصائیوں کو رجسٹرڑ کرنے کے بعد پابند کیا جائے کہ دیگر اضلاع سے فربہ اور صحت مند جانوروں کو ضلع نگر لایا جائے اور یہاں زبح کر کے عوام کو گوشت فراہم کیا جائے ۔ ہمسایہ ضلع گلگت گوور سے زبح شدہ گوشت لانے پر مکمل پابندی عائد کیا جائے یا اگر ایسا ضلعی انتظامیہ نہیں کر سکتی ہے تو کم از کم گوشت کی نرخیں مقرر کر کے قصابوں کو مقررہ نرخوں کے حساب سے گوشت فراہم کرنے کا بندو بست کیا جائے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments