نوجوانوں‌کو مغرب کی نقل کرنے کی بجائے علی اکبر کی سنت پر چلنے کی ضرورت ہے، مقررین

شگر(عابدشگری)ہمارے جوانوں کو مغربیت کی نقل کے بجائے علی اکبر کی سیرت پر چلنے کی ضرورت ہیں۔حضرت اکبر کا پیغام کا نوجوانوں کے لئے ایک نمونہ عمل ہے ۔کردار اکبر پر عمل پیر ا ہوکر دنیا وآخرت دونوں میں فلاح پاسکتے ہیں ۔اکبر وفا کر پیکر اطاعت والدین میں ثانی تھے ،امام حسین ؑ نے میدان کربلا میں اپنا سب کچھ قربان کرکے دین محمدی کی ترویج کی ہمیں بھی پیغام اکبر کو عام کرنے کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار جشن ولادت حضرت علی اکبرؑ کے سلسلے میں مرہ پی امام بارگاہ میں منعقدہ محفل میلادسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا جلسے سے معروف عالم دین آغا شیخ فرمان نجفی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے حضرت علی اکبر کے کردار اور میدان کربلا میں دیکھائے گئے کارنامے بیان کئے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آغا حیدر الموسوی نے کہا کہ اسلام اکبر کے خون سے سرخرو ہوئے اور امام اعلیٰ مقام نے اپنے لخت جگر ہم شکل پیغمبر کو میدان کربلا میں اسلام پر قربان کرکے بتایا دیا کہ اسلام کو ضرورت پڑنے پر ہر چیز قربان کرنے کا نام حسین ابن علی ہیمقررین کا کہنا تھا کہ آج کل نئی نسل فیشن کے نام پر بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں ۔ مغرب ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت ہمارے جوانوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہے ہیں۔ نئی نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ علماء کی اہمیت نہ ہونے کی وجہ سے نئی نسل دین سے دور ہوسکتے ہیں اس لئے ہمیں چائیے کہ دینی تعلیم جانب بھی توجہ دیں تاکہ نوجوان بے راہ روی کا شکار نہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ حضرت علی اکبر نے میدان کربلا میں اپنے والد گرامی پر جان قربان کرکے نوجوانوں کو پیغام دیا ہے کہ والدین کی اطاعت کتنا اہمیت کا حامل ہوتے ہیں ۔ اکبر شباب حسن کا نام تھا اور اکبر حسینت کے مقدر کا نام تھا جس نے میدان کربلا میں ایسی قربانی پیش کرکے دنیا کو بتا دیا کہ والدین کی اطاعت میں جان کی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جائے ،جلسے سے شگر اور سکردو کے مشہور و معروف منقبت خوانوں اور شعراء نے اپنے کلام سے عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments