گلگت بلتستان کونسل کے تمام اختیارات منتقل کر کے وزیر اعظم کو مطلق العنان بادشاہ بنادیاگیا، مجلس وحدت المسلمین

گلگت ( پ ر) آئینی اصلاحاتی پیکج کے نام پر گلگت بلتستان کے عوام کا مذاق اڑایا گیا ہے۔سپریم اپیلیٹ کورٹ کے چیف جج کیلئے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والوں کیلئے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے راستہ بند کردیا گیا ہے جبکہ جی بی کونسل کے اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کرکے وزیر اعظم کو مطلق العنان بادشاہ بنادیا گیا ہے۔گلگت بلتستان کی عدالتوں میں وزیر اعظم کے کسی فیصلے کے خلاف رٹ دائر کرنے پر پابندی عدالتوں پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے نواز لیگ کی جانب سے پیش کردہ اصلاحاتی پیکج کومطلق العنانیت پر مبنی پیکیج قراردیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ پیکیج کو کسی بھی طور پر بھی اصلاحاتی پیکیج قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور گلگت بلتستان کے عوام ایسے کسی بھی پیکیج کو قبول نہیں کرینگے جس میں عوام کی رائے کا احترام نہ کیا گیا ہو۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح انسان بستے ہیں اور وفاقی حکومتیں گلگت بلتستان کے عوام کیساتھ بھونڈا مذاق کرتی رہی ہیں۔گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور ہربار ایک ظالمانہ فیصلہ کرکے وفاقی حکومتیں گلگت بلتستان کے محسن بننے کی کوشش کرتی رہی ہے۔گلگت بلتستان کے عوام سمجھدار ہیں اور کوئی بھی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ یہاں کے عوام کو دھوکہ دینگے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جی بی کو آئینی صوبہ قرار نہیں دے سکتی تو کم از کم کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیکر عوامی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے اس سے کم کوئی پیکیج علاقے کے عوام کے ساتھ مذاق کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز لیگ پیکیج میں گلگت بلتستان سے اختیارات لے کر بااختیار بنانے کا دعویٰ کررہی ہے جبکہ کونسل کو ختم کرکے پانچ اہم سبجیکٹس کو وفاق کے حوالے کیا گیا ہے جن پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرینگے اور ظلم پر مبنی اس پیکیج کو عدالتوں میں چیلیج کرنے کے خوف سے عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی وفاقی فیصلے کے خلاف سماعت نہیں کرسکتے۔کسی غیر مقامی بادشاہ کی بادشاہت گلگت بلتستان کے عوام کو ہرگز قبول نہیں، گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کیلئے یہ نام نہاد پیکیج ایک بہت بڑا امتحان ہے چاہے تو وہ اپنے وقتی مراعات کیلئے اسے قبول کریںیا گلگت بلتستان کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مسترد کرکے عوامی نمائندگی کا حق ادا کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments