گلگت پریس کلب میں‌یوم صحافت پر تقریب منعقد، صحافیوں‌کے مسائل اور ان کی ذمہ داریوں‌ پر گفتگو ہوئی

گلگت(بیورو چیف)گلگت پریس کلب میں عالمی یوم صحافت کے حوالے سے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی سپکر قانون ساز اسمبلی جعفراللہ خان۔تھے۔تقریب میں مشیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر۔سکٹری اطلاعات فدا حسین چیف انجئنر گلگت بلتستان رشید احمد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔

ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی جعفر اللہ نے کہا کہ صحافیوں کے لئے اطلاعات تک رسائی کے لئے حکومت قانون سازی کررہی ہے۔ اسمبلی میں ہم قانون سازی کے لئے بیٹھے ہیں صحافی سفارشات دے ہم اس پر قانون سازی کرینگے صحافت کی آزادی کے حوالے سے آج یہ دن منایا جارہا ہے اظہار رائے کا حق سب کو ہے جہاں پر بھی کچھ ہوتا ہے لوگ بھاگ جاتے ہیں لیکن صحافی وہاں پر پنچ جاتے ہیں اس چیز کو بھی دکھنا چاہے کہ صحافت کی آزادی کی آڑ میں کوئی بھی کسی کی پگڑی نہ اچھالی جائے، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ لکھنا صحافیوں کی زمہ داری ہے ہم سب نے مل کر اپنے ملک اور علاقے کو ٹھیک کرنا ھے اگر ہم صحیح کرتے ہیں تو بھی لکھے اگر ھم بڑا کام کرتے ہیں تو وہ بھی لکھے طویل جدوجہد کے بعد مجھے آج مقام ملا ہے میڈیا نے مجھے یہاں تک پہچایا ہے ہمارے صحافی خوددار ہیں، لوگوں کو بلک میل نہیں کرتے۔ اس وقت سیاست اور صحافت ارتقا کے مراحل سے گزر رہے ہیں ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ آج ہمارے علاقے میں اچھے لکاری موجود ہے صحافت کا شعبہ پیغمبرانہ ہے صحافی معاشرے کا آنکھ ہے۔

مشیر اطلاعات شمس میر نے کہا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ اچھی باتیں پھلاو اور برائی پھلانے سے اجتناب کرو۔صحافت کا تقاضا دیانتداری ہے صحافی دیانتداری سے کام کرے۔آزادی صحافت کے لئے ہم نے اپنا کام پورا کیا۔بیورکریٹ کو سول سرونٹ کہے یہ کوئی بیوروکرئٹس نہیں سول سرونٹ سے کچھ نہیں ہوتا ان کا کام خراب کرنا ہوتا ہے صحافی ان کے خلاف کیوں نہیں بولتے ۔وزیر اعلی نے حج سکیم کے پیسے صحافیوں کو ادا کرنے کا کہا یہ لوگ ابھی تک نہیں کررہے ہیں۔جس طرح نیم حکیم خطرہ ایمان ہے اسی طرح نیم صحافی خطرہ پاکستان ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاسی ماحول پاکستان سے بہت بہتر ہے صحافت بھی پاکستان سے بہتر ہے۔انہوں نے کہا ہم سیاست کرینگے لیکن سیاست اپنے بچوں اور علاقے کی استحکام کے لئے کرینگے۔جھوٹ بول کر سالہ سال حکومت کرنے سے سچ بول کر ایک دن حکومت کرنا بہتر ہے۔صحافیوں کے لئے ہلتھ انشورنس لارہے ہیں صحافیوں کے بہتری کے لئے اقدامات اٹھائنگے۔سسٹم کے اندر وئرس ہے جس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔سسٹم سے لڑ کر جو کام وزیراعلی نے تین سالوں میں جو کام کیا وہ گزشتہ چالیس سالوں میں نہیں ہوا صحافیوں کے حقوق کے لئے لڑتے رہینگےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف انجئنر رشید احمد نے کہا کہ صحافت کا شعبہ عظیم شعبہ ہے جمہوریت کے چار پلر ہے ان میں سے چوتھا ستون صحافت ہے۔ادارے اپنے حدود میں رہنگے تو معاشرہ درست سمت میں چلے گا ایک سول سرونڈ کا کام ہے کہ وہ لوگوں کے کام کرنے کے لیکن ہم اپنے حدود سے آگے گئے ہیں اسی طرح صحافت بھی اپنا کام درست سمیت میں اور حق اور سچ لکھنا ہے۔

سیکٹری اطلاعات فدا حسین نے کہا کہ ورکنگ صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں پریس فونڈیشن کے قیام کے لئے کام مکمل ہوچکا ہے اس وقت محکمہ قانون میں سفارشات پڑی ہوئ ہے

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پریس کلب گلگت اقبال عاصی۔محمد عیسی حلیم شکوراعظم امتیاز تاج خورشید احمد نے بھی عالمی یوم صحافت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اس وقت گلگت بلتستان کے صحافی انتہائ مشکل حالات میں اپنے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments