گلگت بلتستان آرڈر 2018۔ ایک جائزہ 

تحریر: فہیم اختر

گلگت بلتستان 2018عملدرآمد اور فائنل ہونے سے قبل ہی سخت تنقید کی زد میں آگیا ہے ۔ گلگت بلتستان میں سوائے مسلم لیگ ن کے تمام جماعتوں نے مجوزہ اصلاحاتی آرڈر پر اپنے تحفظات کااظہار کردیا ہے ۔ جبکہ اسمبلی میں موجود حزب اختلاف کے ممبران اسمبلی نے اس صورتحال کو ’پوائنٹ آف نو ریٹرن ‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اس کو رکوانے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ میں دھمکی دی ہے کہ اس آرڈر کے عملدرآمد کی کوششوں میں وزیراعلیٰ عدم اعتماد کی تحریک سے گزریں گے جس میں حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر تقریباً 10 ن لیگی ممبران حزب اختلاف سے اس نقطہ پر متفق اور بیک ڈور رابطوں میں ہے ۔ مسلم لیگ ن وفاق میں اپنے قائد کے ’بیانیہ ‘ کی وجہ سے زیر عتاب اور تکلیف دہ مرحلے سے گزررہی ہے جبکہ وفاقی حکومت کے آخری ایام کی وجہ سے گلگت بلتستان میں کمزور صورتحال پہ آگئی ہے ۔ اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو اس بات کا بھی ادراک ہے کہ مسلم لیگ ن کے اکثر ممبران اسمبلی ’کسی کو بھی ناراض نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ اور ایسے موقع پر گلگت بلتستان آرڈر 2018کے حوالے سے دیگر جماعتوں کو اعتماد میں نہ لینا یقیناًبے یقینی کی کیفیت کی طرف لے جائیگا۔

مجوزہ آرڈر قومی سلامتی کمیٹی کی سفارش پر عالمی عدالت میں پاکستان کے سفیر احمر بلال صوفی کو بھجوادیا ہے تاکہ اس آرڈر کا مسئلہ کشمیر کے تناظر میں باریک بینی سے جائزہ لیں ۔ مجوزہ آرڈر سرکاری طور پر ابھی تک مکمل طور پر جاری نہیں ہوا ہے ۔ مگر اس آرڈر کے اب تک کے سفارشات جنہیں پبلک کیا گیا ہے وہ سفارشات امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009کے مقابلے بعض معاملات میں بہتر ہے ۔ جو نکات فرق ہیں ان کا ایک جائزہ زیل میں پیش ہے ۔

*2009کے آرڈر میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ اس آرڈر کو کیوں نافذ کیا جارہا ہے ۔2018کے آرڈر میں درج ہے کہ یہ آرڈر گلگت بلتستان کو بااختیار بنانے اور قانون سازی، عدلیہ اور انتظامی اصلاحات کی جانب ایک پیش رفت ہے ۔

*گزشتہ آرڈر گلگت بلتستان کے شہریوں کی شہریت کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا گیا ہے جبکہ موجودہ آرڈر میں گلگت بلتستان کے شہریوں کو سٹیزن ایکٹ 1951کے تحت پاکستانی تسلیم کیا گیا ہے ۔

*گزشتہ آرڈر میں باقاعدہ درج ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ صرف 17بنیادی حقوق حاصل کرسکیں گے وہ بھی گلگت بلتستان کے حدود میں ۔ نئے آرڈر میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 25کے درج تمام بنیادی حقوق کو جی بی تک توسیع دی گئی ہے اور درج ہیں کہ ان تمام حقوق کو پاکستان کے کسی بھی کونے میں حاصل کرسکیں گے ۔

*2018آرڈر میں ایک اہم نکتہ پرنسپل آف پالیسیز کا ہے جو کہ آئین پاکستان کی روشنی میں پالیسی اور قوانین بنانے کا طریقہ کار ہے ۔

*2018آرڈر میں باقاعدہ درج ہے کہ گورنر گلگت بلتستان کا مقامی فرد ہوگا۔

*2018آرڈر میں حکومت گلگت بلتستان اور کابینہ کی تشریح کی گئی ہے اور کابینہ ممبران کی تعداد کو 11فیصد یا پھر 12ممبران تک محدود کردیا گیا ہے ۔

*2018آرڈ ر کا ایک حساس نکتہ گلگت بلتستان کونسل کے خاتمے کا ہے جسے 2009آرڈر میں 55شعبوں پر قانون سازی کے اختیارات کے ساتھ وجود میں لایا گیا تھا۔ صوبائی اسمبلی کے نام سے ’قانون ساز ‘ کا لفظ خارج کردیا گیا ہے ۔ قانون سازی کے حوالے سے گلگت بلتستان اسمبلی کو دیگر صوبوں کی طرح بااختیار بنانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔

* جی بی کونسل اور جی بی قانون ساز اسمبلی کے الگ الگ کنسولڈیٹڈ اکاؤنٹ ختم کرکے صرف گلگت بلتستان اسمبلی کا کنسولڈیٹڈ اکاؤنٹ بنایا جائیگا۔

*گلگت بلتستان آرڈر 2018میں عدلیہ کے حوالے سے نمایاں اور قابل ذکر اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ سابقہ آرڈر کی روشنی میں سپریم اپیلٹ کورٹ جی بی اور چیف کورٹ جی بی کو بھرتی کرنے کا اختیار جی بی کونسل کے چیئرمین یعنی وزیراعظم کے پاس تھا جس کی سفارش گورنر جی بی کرتا تھا۔ نئے آرڈر میں سفارش کرنے کی اختیار گورنر گلگت بلتستان سے اٹھاکے کمیٹی کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ کمیٹی پانچ افراد پر مشتمل ہوگی جس میں چیف جج سپریم اپیلٹ کورٹ ، چیف جج چیف کورٹ ، وزیر قانون ، ایڈوکیٹ جنرل ، سیکریٹری قانون اور وائس چیئرمین بار کونسل جی بی پر مشتمل ہوگی ۔ اس آرڈر کی روشنی میں چیف کورٹ جی بی کا نام تبدیل کرکے دیگر صوبوں کی طرح ہائی کورٹ رکھا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ گلگت بلتستان کے ججوں کی تعداد بڑھاکر پانچ کردیا گیا ہے ۔

گزشتہ تین سالوں سے بھرپور محنت اور کمیٹیوں پر کمیٹیاں بنانے اور آخر میں ان اصلاحات کو سامنے لانے سے ایک بات تو صاف سامنے آتی ہے کہ پیپلزپارٹی نے 2009میں ،گوکہ مقامی سٹٰک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا اور عجلت میں آرڈر نافذ کردیا، گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کو نیا موڑ دیا ہے ۔ عالمی قوانین ، دباؤ اور معاملات کو بغیر خراش پہنچائے نیا اصلاحاتی نظام متعارف کرایا ۔ گو کہ اس میں کئی چیزوں کی کمی موجود ہے مگر ماضی کے تمام اصلاحات کے مقابلے میں بہتر نظام متعارف کرادیا جس کے تحت باقاعدہ صوبائی نظام متعارف ہوگیا۔

گلگت بلتستان آرڈر 2018کے نفاز اور اس کی سفارشات سے قبل مسلم لیگ ن نے بڑی کوتاہیاں برتی ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن ہی نہیں بلکہ عوامی حلقے بھی مکمل طور پر حکومتی موقف کے خلاف کھڑے ہیں ۔ سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز کے زریعے جس قسم کے جذبات کا اظہار کیا جارہا ہے وہ انتہائی منفی ہی نہیں خطرناک بھی ہیں۔ جیسے ایک مذہبی رہنماء نے اس پر ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اصلاحاتی پیکج کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا گیا تو عوام الحاق پاکستان کا نعرہ بھول جائینگے ۔ میاں محمد نوازشریف کی جانب سے لالک جان سٹیڈیم میں آئینی اصلاحات متعارفف کرانے کے اعلان کے بعد مسلم لیگ ن نے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی جس میں جی بی اسمبلی کی قراردادوں کو کو فائنل قرار دیکر انہیں سفارشات میں شامل کرلیا گیا جبکہ جی بی اسمبلی کی قراردادوں میں جو مطالبہ تھا وہ پانچویں آئینی صوبے کا تھا ۔ اگلا قدم سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو پبلک نہ کرنا تھا اطلاعات کے مطابق ان سفارشات میں گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی و دیگر فورمز میں نمائندگی دینے کی سفارش کی گئی تھی مگر میاں محمد نوازشریف کی نااہلی کے ساتھ ہی سرتاج عزیز کمیٹی کے مذکورہ سفارشات اور کمیٹی کا کام بھی خاموش ہوگیا ۔

تین مرحلوں سے گزرکر چوتھے مرحلے میں جو سفارشات سامنے آئیں ان میں چند معاملات پھر انتہائی خطرناک بھی ہیں۔ جن میں پہلا خطرناک معاملہ گلگت بلتستان کے تمام اختیارات کو وزیراعظم پاکستان کے سپرد کرنا ہے ۔ اس ایک نکتے نے گلگت بلتستان میں حکومت کو مکمل تنہا کردیا ہے ۔ اور اپوزیشن کی وہ جماعتیں بھی آپس میں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں جو کہتی تھیں کہ ہم جنت بھی ساتھ نہیں جائیں گے ۔اور آج وہ ساتھ اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا کی تیاری میں مصروف ہیں۔ دوسر ااہم نکتہ گلگت بلتستان میں سٹیزن ایکٹ 1951کی توسیع ہے ۔ جب گلگت بلتستان میں سٹیزن ایکٹ لاگو ہوگیا تو پھر متنازعہ حیثیت تو ختم ہوجائے گی پھر اس علاقے کو مکمل آئین کا حصہ بنانے اور اقوام متحدہ کی سفارشات اور قراردادوں سے پیچھے ہٹنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہوگا۔ گلگت بلتستان کے تمام اہم عہدوں کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو نظر انداز رکھا گیا ہے کسی بھی اہمم عہدے کی تعیناتی میں اپوزیشن سے مشاورت نہیں کی جارہی ہے ۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان پارٹی پوزیشن سمجھتے ہیں اس لئے وقت کی نزاکت کا احساس کریں اور مذکورہ بالا تینوں ایشوز کو سائیڈ کرکے اس میں ترمیم کریں ۔ قارئین سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے بھی توقع کروں گا کہ قومی نوعیت کے اس حساس معاملے میں قومی زمہ داری کا بھی مظاہرہ کریں گے ۔ اور گلگت بلتستان آرڈر پر باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments