کارگاہ میں‌واقع پرائمری سکول عرصہ دراز سے خستہ حالی کا شکار، سینکڑوں بچے اچھی تعلیم سے محروم

گلگت( سٹاف رپورٹر) محکمہ تعلیم کی غفلت یا ٹھیکیدار کی لاپرواہی، گلگت کے مضافاتی علاقے کارگاہ میں پرائمری سکول کی تعمیر و تکمیل عرصہ دارز سے التوا کا شکار ہے۔ 900گھرانوں پر مشتمل آباد ی کے لئے تعلیم کی سہولیت نہ ہو نے سے بچے تعلیم جیسے نعمت سے محروم ہیں۔کارگاہ میں بچوں اور بچیوں کے لئے ایک پرائمری سکول قائم ہیں جو خستہ حالی کا شکار ہے سکول میں 200کے قریب بچوں کے لئے صرف دو کمروں پر مشتمل کلاس روم ہے ۔ اس میں سے بھی ایک روم اساتذہ کے لئے مختص کیا گیا ہے ۔ ایک کالاس روم میں پرائمری سے لے کر پانچوں کلاس کے بچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ بارش کے دونوں میں کلاس رومز کے چھت ٹپک پڑتے ہیں جس کے باعث بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ بچوں کے لئے مشرف کے دور میں ایک پرائمری سکول قائم کیا گیا تھا لیکن تاحال نئے سکول مکمل نہیں ہو ا ہے۔

کارگاہ کے رہائشی عبدلمنان ، رستم خان اور عبدلمجید نے کہا کہ بچوں کے لئے قائم سکول عرصہ دراز سے خستہ حالی کا شکار ہے محکمہ تعلیم سکول کی مرمت میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ بارش کے موقع پر سکول سمندر کا منظر پیش کرتا ہے ۔ بارش کے دنوں میں بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ رہائشیوں نے مذید کہا کہ کارگاہ میں محکمہ صحت کی جانب سے بنائے گئے ڈسپنسری بھی عرصہ دراز سے بند ہے ۔ ڈسپنسری میں تعینات ایک ڈسپنسر بھی ہفتے میں صرف ایک دن ڈسپنسری کھولتا ہے باقی چار دن غائب رہتا ہے۔ علاقے میں کوئی بیمار ہو تا ہے تو مریض کو گاڑی میں ڈال کر گلگت لے جانا پڑتا ہے راستے کی خراب حالت کے باعث مریض دم توڑ تا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہی حالت محکمہ تعمیرات کا بھی ہے کارگاہ کا واحد راستہ جو شہر تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہے 2010کے سیلاب میں مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا 7سال گزرنے کے بعد بھی کارگاہ کا راستہ مرمت نہیں کیا گیا ہے۔ راستے کی خستہ حالی کے باعث آئے روز حادثات ہو تے رہتے ہیں۔اور اب تک کئی جانیں ضائع ہو چکی ہے۔مگر صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہے ۔ الیکشن کے دنوں میں ڈپٹی سپیکر نے کارگاہ کا دورہ کر کے عوام سے بہت سارے وعدے کئے تھے لیکن ان وعدوں پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ کئی دفعہ اپنے مسائل کو لے کر محکمہ تعلیم ،محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کے پا س گئے لیکن کو ئی شنوائی نہیں ہوا ہے ۔ آخر صوبائی حکومت کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments