بلدیہ گاہکوچ نے شہر کا کچرا دریائے غذر میں پھینکنا شروع کردیا

غذر (بیورو رپورٹ) بلدیہ غذر نے شہر کا کچرا تلف کرنے کی بجائے دریائے غذر میں پھنکنا شروع کر دیا جس سے نہ صرف غذر کا صاف و شفاف پانی الودہ ہورہا ہے بلکہ اس پانی کو ہزاروں افراد کھانے پینے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں روزانہ ٹریکٹروں میں لاکر سلپی پل کے قریب دریا میں پھنک دیا جاتا ہے حالانکہ محکمہ بلدیہ نے کچرا کو تلف کرنے کے لئے گاؤں گورنجر کے قریب زمین بھی خرید لی ہے مگر شہر کی گندگی وہاں تلف کرنے کی بجائے دریائے غذر کے صاف وشفاف پانی جوکہ گلیشرز اور چشموں کا پانی ہے میں کچر ا پھینک دینے سے ایک طرف یہ پانی مضر صحت ہوگا تو دوسری طرف گندگی دریا میں پھنکنے سے اس دریا میں موجود آبی حیات خصوصا دنیا کی نایاب مچھلی ٹرواٹ کی نسل کشی کا بھی خدشہ پیدا ہوگیا ہے حالانکہ بلدیہ کے پاس اس وقت درجنوں ملازمین کام کر رہے ہیں اگر وہ اس کچرے کو دریا میں پھنکنے کی بجائے اس کو تلف کرئے تو ایک طرف شہر کی صفائی ہوگی تو دوسری طرف پانی بھی الودہ نہیں ہوگا دوسری طرف گورنجر کے سامنے کچرے کو تلف نہ کرنے سے بدبو کے باعث روڈ پر سے گزرنا بھی مشکل ہوگیا ہے دوسری طرف ضلع میں محکمہ ماحولیات کا کوئی وجود نہ ہونے کی وجہ سے بلدیہ کے اہلکار کھلے اسمان تلے کچرے پر اگ لگاتے ہیں جس کی دھوا سے روڈ پر سے گزرنا ایک عزاب سے کم نہیں ہے جبکہ بعض دفعہ بلدیہ کے اہلکار روڈ کے کنارے پر ہی کچرا پھنک کر نو دو گیارہ ہوجاتے ہیں عوامی سیاسی سماجی حلقوں نے شہر کے کچرے کو دریائے غذر میں پھنکنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments