تعلیمی کانفرنس کا انعقاد، ضلع کوہستان کی خواتین میں‌تعلیم کی شرح‌5.1 فیصد ہونے کا انکشاف

کوہستان (نامہ نگار)کوہستان ویلی وندا پاکستان کے زیر اہتمام کوہستان تعلیمی مجلس کا انعقاد کیا گیا جس میں کئی امیدواران سیاسی پارٹیوں اور آذاد حیثت کیساتھ مقامی مشران و عوام نے کثیر تعداد میں تعلیمی مباحثے میں شریک کی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز غیر سرکاری تنظیمات کوہستان ویلی اور ندا پاکستان کے زیر نگرانی کوہستان تعلیمی مجلس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک آفرین خان امیدوار این اے 11،زرگل خان، مولانا عبدالعفار ،شمس الر حمن شمس ،سرور خان ،سلیم خان محمد اقبال ، علاقہ عمائدین،نوجوانان اور سول سوسائٹی کے ممبران نے بڑی تعداد مین شرکت کی۔ مولانا عبدالعفار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوں کو تعلیم دیا جائے لڑکیوں کو تعلیم دینا اسلام میں کوئی ممانعت نہیں ۔

کوہستان ویلی کے سی او حفیظ الرحمن نے کوہستان میں تعلیم کے حوالے سے درپیش مسائل کو امیدواروں کے سامنے اُجاگر کیا جس میں کہا کہ کوہستان تعلیم مجلس میں کوہستان درجہ بندی میں نہ صرف خیبرپختونخواہ بلکہ پورے پاکستان میں آخری نمبر پہ ہے جس کی سب سے بڑی وجہ لڑکیوں کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے اور لڑکیوں کی تعداد بہت کم ہے جو کہ پورے ضلع کوہستان میں273ہیں اسکے علاوہ سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی کمی ہے۔سکولوں کی عمارت،بند سکول اور بنیادی سہولیات کا فقدان اس تعلیمی پسماندگی کی وجوہات ہیں۔ٹوٹل 927سکولوں میں سے کل 273صرف لڑکیوں کے سکول ہیں۔یہاں پر جنسی تضاد پایا جاتا ہے ۔لڑکیوں میں شرح خواندگی صرف اور صرف 5.1ہیں۔ آئی ایم یو کے رپورٹ کے مطابق2017 میں 15سکول بند ہے اور 145 لڑکوں کے اور 17 لڑکیوں کے سکول بغیرچھت کے ہے یہا پر مسلہ یہ ہے کہ پڑھائی میں طلباء مڈل کو پاس کر کے ہائی اور ہائی سے ہائیر سکنڈری کو جاتے ہیں جو کہ صرف دو گرلز ہائی سکول ہیں جبکہ کہ پورے ضلع کوہستان میں کوئی ہائیر سکنڈری سکول نہیں ۔در حقیقت حالات اس سے زیادہ ابتر ہیں۔ ان وجوہاد کی وجہ سے طلبا ء کی شرح سکولوں میں بہت کم ہےASER2017 کے رپورٹ کے مطابق 90%طلباء اردو کہانیاں نہیں بڑ سکتے ہیں جو کہ کلاس دوئم کیلے بنے ہے جبکہ 93%لڑکے جمع تفریق نہیں جانتے جو کلاس دوئم کیلے ہیں، ان تمام مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نقشہ پیش ہوتا ہیکہ حکومت تبدیلی لائے۔پچھلے ایک سال سے سکولوں کی بہتری نے زور پکڑا اور تمام والدین اور سکول ٹیچر ،پیرنٹ کمیٹی میں شمولیت شروع کی تمام پی ٹی سی ممبران نے یونین کونسل سطح پر جمع ہونے لگے اور سکول کے تمام مسائل زیر قلم کرنے لگے سیشن کے دوران مختلف سوالات امیدواروں سے پوچھے گئے سیشن کے اختتام پر تمام امیدواروں نے متفقہ طور پر ایک اگرمینٹ/معاہدہ سائن کیا جس میں سکولوں میں معیاری تعلیم برائے طلبہ ہوگا اگر وہ جیت گئے تو معاہدہ ایک تنظیم،والدین اور عوام کی طرف سے بھی دستخط کئے گئے۔ کوہستان کے طلباء معیاری تعلیم کے حصول قاصرہیں،شرکاء اور امیدواران نے آنے والے پانچ سالوں کیلے تعلیم کے حصول کیلے اپنا منشور پیش کیا ضلع کوہستان کے پی ٹی سی ممبران اساتذہ اور والدین کی طرف سے ان علاقوں کی تعلیمی صورتحال میں بہتری کیلئے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگانے پیش کردہ قرارداد کی حمایت کی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments