گلگت بلتستان میں‌شیڈول فور کا اطلاق وزات داخلہ کا معاملہ ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (فداحسین)دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے شیڈول فور کے اطلاق کو وزارت داخلہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے گلگت بلتستان میں اس قانون کے اطلاق سمیت تمام معاملات پرعام انتخابات کے بعد وزارت امور کشمیر کے ساتھ مل کر بریفنگ دیں گے۔جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے گلگت بلتستان کے حوالے سے اپنے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کا کشمیر کا حصہ ہے تاہم گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کو استصواب راے سے مشروط نہیں کیا جا سکتا ۔کیونکہ حکومتِ پاکستان وہاں کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی اندار رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اختیارات اور خود مختاری دینا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز سپیکر قانون ساز اسمبلی حاجی فدا محمد ناشادنے گلگت بلتستان کے حوالے سے ریڈیو نیوز نیٹ ورک ایف ایم 99کے ہفتہ وار پروگرام جو جی بی میں اظہار کرتے ہوئے گلگت بلتستان کا کشمیر کا حصہ ہونے سے متعلق حکومتِ پاکستان کے موقف کی تردید کرتے ہوئے تھا کہ گلگت بلتستان پر ڈوگروں کا قبضہ ضرور تھا مگر باضابطہ حصہ نہیں تھا ۔ تاہم انہوں نے اس مسئلے میں موجود پیچیدگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا اگر یہ مسئلہ اتنا آسان ہوتا تو قائد اعظم اس علاقے کو پاکستان میں ضرور شامل کرتے ۔ساتھ میں انہوں نے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل تک گلگت بلتستان کو عارضی صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا ۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد ایڈوکیٹ یہ سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کا حصہ بنانے میں قائد اعظم سے زیادہ اس وقت کی بیوروکریسی کا کمال زیادہ تھا ۔امجد ایڈوکیٹ کے بقول اس وقت بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے نہ جوڑنے کے لئے کہا تھا مگر اس وقت کی بیوروکریسی نے اس کو کشمیر کا حصہ ثابت کرنے کیلئے 1935میں ہونے والے ایک زمین کا لیز معاہدہ کو بنیاد بناتے ہوئے اس کو کشمیر سے جوڑ دیا امجد ایڈوکیٹ کا خیال ہے کہ قائد اعظم کو اس طرف توجہ دینے کا صحیح موقع نہیں مل سکا اس وجہ سے اس وقت کی بیورو کریسی نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے قائد اعظم غلط سمت میں ڈال دیا ۔اس لئے امجد ایڈوکیٹ نے سپیکر قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد کی قائد اعظم کو درپیش مشکلات والے بیان کو اس تاریخی واقعے سے لا علمی سے تعبیر کیا۔ امجدایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ قائد اعظم کو گلگت بلتستان کے بارئے 13اگست 1948کو آگاہ کیا گیا تھا ۔دستیاب تاریخی کتابوں کے مطابق اس وقت قائد اعظم کی طبعیت خراب رہتی تھی اور اس طرح 11ستمبر 1948کو قائد اعظم محمدعلی جناح انتقال کر گئے تھے۔لہذا امجد ایڈوکیٹ کا خیال ہے قائد اعظم کو ایک سال کا مزید وقت مل جاتا تو صورتحال اس سے کافی مختلف ہوتی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments