آل بلتستان موومنٹ کے زیر اہتمام گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا جرگہ

کراچی (پ ر) اے بی ایم کراچی ڈویژن کی جانب سے کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا جرگہ کا انعقاد کیا جس میں خطے سے تعلق رکھنے والی مختلف قومی علاقائی مذہبی اور اشتراکیت پسند تنظیموں کے نمائندوں سمیت طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ـ اس جرگے کے شرکاء نے گلگت بلتستان کے مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں جسے ” اے بی ایم یوتھ ڈکلریشن ۲۰۱۸ ” کے نام سے متفقہ طور پر منظور کیا گیا ـ اس ڈکلریشن میں شامل چند نکات: ۱- مقامی نصاب تعلیم میں مطالعہ گلگت بلتستان شامل کیا جائے اور گلگت بلتستان ٹیکسٹ بک بورڈ کا قیام عمل میں لایا جائے ـ ۲- میڈیکل کالج ـ لاء کالج اور انجینئیرنگ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے ـ ۳- گلگت بلتستان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافظ کیا جائے ـ ہسپتالوں کو ہنگامی بنیادوں پہ اپ گریڈ کیا جائے اور ڈاکٹرز کی کمی کو دور کرنے کے لئے بھرتیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے ـ ۴- سیاحت سے ہونے والی آمدنی کو مقامی محکمہ سیاحت کے زیر انتظام مقامی آبادیوں کی ترقی کے لئے خرچ کیا جائے ـ ۵- شیڈول فور ـ اے ٹی اے جیسے کالے قوانین کا فی الفور خاتمہ کیا جائے ـ ۶- جرگہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی قسم کے سیاسی پیکج یا آرڈر کے نفاظ کی کوشش کی گئی تو بھرپور مذاحمت کیا جائے گا ـ ۷- گلگت بلتستان کو اقوام متحدہ کے قراردادوں اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مطابق ایسا سیٹ اپ دیا جائے جس میں دفاع کرنسی اور خارجی امور کے علاوہ تمام معاملات میں مقامی حکومت خود مختار ہو اور تمام تر قانون سازی کا اختیار رکھتا ہو ـ ۹- خالصہ سرکار کے نام پہ مقامی ملکیتی زمینوں پہ قبضے کو بند کیا جائے ۱۰- پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں گلگت بلتستان کے کوٹے میں اضافہ کیا جائے ـ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments