فورسز داریل اور تانگیر میں‌داخل، علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا:‌ڈی آئی جی گوہر نفیس

گلگت (عبدالرحمن بخاری) ایک ہفتے کی شورش اور بدامنی کے بعد فورسز نے بالآخر داریل اور تانگیر وادی میں داخل ہو کر علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔

دیامر ڈویژن کے ڈی آئی جی، گوہر نفیس نے پامیر ٹائمز کو بتایا کہ پولیس فورسز، پیرا ملٹری فورسز اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاک فوج بیک اپ کے لئے موجود ہے۔ فورسز کے علاقے میں داخل ہونے کے بعد مبینہ دہشتگرد جنگلوں میں فرار ہو گئے ہیں۔

ڈی آئی جی گوہر نفیس نے مزید بتایا کہ مطلوب ملزمان کی گرفتار کے لئے علاقے میں دوبارہ سرچ آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ تین اگست کو شرپسندوں نے ضلع دیامر میں 14 سکولوں پر حملے کئے تھے، اور انہیں آگ لگا کر شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اس کے بعد پولیس اور مقامی افراد کے ساتھ جھڑپوں میں ایک “کمانڈر شفیق” نامی شخص ہلاک ہوگیاتھا، جبکہ گلگت بلتستان پولیس کا ایک سپاہی بھی مرتبہ شہادت پر فائز ہوگیا تھا۔ چار اگست کو ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سرکاری گاڑی پر فائرنگ کی گئی، لیکن وہ حملے میں محفوظ رہے۔

دس اگست کی رات کو تعمیراتی کام میں مصروف ایک بلڈوزر مشین کو آگ لگادی گئی، جبکہ دس اگست کو ہی ڈپٹی کمشنر کے چلاس میں واقع سرکاری رہائش گاہ بھی فائرنگ کی گئی، تاہم وہ نقصان سے محفوظ رہے۔

اس دوران شرپسندوں نے تانگیر اور داریل کے مختلف علاقوں میں پہاڑیوں پر مورچہ زن ہو کر علاقے میں سرکاری گاڑیوں کا داخلہ بند کردیا تھا۔

11 اگست کو، دو روز قبل، کارگاہ نالہ میں پولیس چوکی پر  دہشتگردوں نے حملہ کیا، جس میں تین پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے، جبکہ دو دہشتگردوں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔

اب ڈی آئی جی گوہر نفیس کے مطابق فورسز نے علاقے میں داخل ہو کر سڑکوں کو کلئیر کر دیا ہے، اور علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments