دیامر کیمپس کی افتتاحی تقریب میں صوبائی وزراء کے ساتھ کوئی ہتک آمیر رویہ نہیں اپنایا گیا۔ترجمان

گلگت ( پ ر) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں دو صوبائی وزرا کے الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ دیامر کیمپس کی افتتاحی تقریب میں صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور صوبائی وزیر جنگلات کے ساتھ کوئی ہتک آمیز رویہ نہیں اپنایا گیا۔ کیمپس کے ڈائریکٹر نے ایک دن قبل دونوں وزراء سے تقریب میں شرکت کی دعوت دی لیکن دونوں وزراء صاحبان نے اپنی مصروفیات کے باعث شرکت کرنے سے معذرت کی۔ مگر خلاف توقع عین تقریب کے موقع پر دونوں وزراء صاحبان تشریف لائے تو ان کیلئے سٹیج پر دیگر مہمانوں کے ساتھ کرسیاں لگوائی گئیں ۔ وائس چانسلر اور ڈپٹی کمشنر سمیت تمام انتظامیہ نے دونوں صاحبان سے پرزور درخواست کی کہ وہ سٹیج پر تشریف لائے مگر انہوں نے سٹیج پر جانے سے انکار کیا اور تقریب شروع ہوکے پونے گھنٹے بعد تقریب سے اٹھ کے چلے گئے۔ وائس چانسلر نے اپنی تقریر میں صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی دیامر کیمپس کیلئے زمین، بلڈنگ سمیت اس کے قیام میں ہر قسم کی کاوشوں کا خصوصی ذکر کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا ۔کیونکہ صوبائی حکومت کے تعاون اور کوششوں کے بغیر کیمپس کا قیام ناممکن تھا۔ ترجمان نے کہاکہ ڈاکٹر شاہنواز نے بھی اپنی تقریر میں صوبائی وزراء سمیت صوبائی حکومت ، صوبائی انتظامیہ ، علمائے کرام اور دیامر کے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے تعاون کو واضح الفاظ میں سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ ہم صوبائی حکومت کے تعاون اور دلچسپیکو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کیونکہ کسی مرحلے میں وزیر اعلیٰ نے ہمیں مایوس نہیں کیا۔ترجمان نے کہاکہ صوبائی وزرا ء کی جانب سے دیامر کیمپس کی تعیناتیوں میں گھپلے کے الزامات حقائق کے منافی ہے ۔ کیمپس کیلئے درکار سکیل ایک سے 16تک کی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ غیر جانبدار آفیسر ان اور اساتذہ پر مشتمل کمیٹی نے نہایت شفاف طریقے سے میرٹ پر یہ بھرتیاں کیں۔ اور تمام میرٹ کے مطابق بھرتی ہونے والے تمام افراد کا تعلق ضلع دیامر کے مختلف علاقوں سے ہے۔ یہ بھرتیاں کسی ایک آفیسر کی صوابدید پر نہیں بلکہ اس کمیٹی نے مشترکہ باقاعدہ سکورنگ کی ذریعے عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ بھرتیاں مکمل ہوکے کئی ہفتے ہوچکے ہیں، اگر کسی ان بھرتیوں پہ کوئی شک تھا تو یونیورسٹی میں آکر وائس چانسلر کی نوٹس میں لاتے۔ تو وائس چانسلر فی الفور اس کا نوٹس لیتے ۔ مگر صوبائی وزراء کا افتتاحی تقریب کے موقع پر ان الزامات کو سامنے لانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments