45 روز گزر گئے، پانچ کلومیٹر روڑ کی مرمت نہ ہوسکی، بلہنز اشکومن کے سیلاب متاثرین بے یار و مددگار

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ حکومت نے بلہنز کے سیلاب متاثرین کو بے یارومددگار چھوڑ دیا،ڈیڑھ مہینے گزر جانے کے باوجود پانچ کلومیٹر روڈ کی مرمت نہ ہوسکی ،آلو کی فصل تیار،مارکیٹ تک پہنچانے کے لئے سڑک موجود نہیں،مختلف بنکوں سے قرضہ حاصل کرکے آلو کی فصل لگائی ،سال بھر کی محنت ضائع ہونے کا خدشہ۔گزشتہ 17جولائی کو نالہ برصوات میں آنے والے بدترین سیلاب نے علاقے میں بنیادی انفراسٹرکچر بری طرح تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔چند روز کی امدادی کارروائیوں کے بعد متاثرین کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا۔تمام ادارے متاثرہ علاقے سے غائب ہوگئے ہیں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔سیلاب کا سلسلہ تھم جانے کے بعد کسی بھی سرکاری محکمے نے مڑ کر خبر نہیں لی۔سیلاب نے جہاں 43رہائشی مکانات کو تباہ کرکے رکھ دیا وہاں علاقے کے واٹر چینلز بھی نیست ونابود ہوچکے ہیں ،پینے اور فصلوں کے لئے پانی نایاب ہوچکا ہے۔محکمہ تعمیرات کی نااہلی کے باعث بلہنز سے برصوات جھیل تک پانچ کلومیٹر سٹرک ڈیڑھ مہینے گزرجانے کے باوجود مرمت نہ ہوسکی۔متاثرہ علاقے کی آمدنی کا زیادہ تر انحصار آلو کی فصل پر ہے۔علاقہ مکینوں نے مختلف بنکوں سے قرضہ حاصل کر کے آلو کی فصل لگائی جو تیار ہوچکی ہے لیکن روڈ نہ ہونے کے باعث غریبوں کی سال بھر کی محنت ضائع ہورہی ہے لیکن محکمہ تعمیرات سمیت متعلقہ ادارے ٹس سے مس نہیں ہورہے۔پانچ کلو آٹے کے لئے عوام کو کئی کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے،برصوات نالے کے دوسرے جانب رہائش پذیر افراد کو اشیائے خوردنی کے لئے نالے کا پانی کراس کرکے پیدل ایمت تک آنا پڑ رہا ہے۔عوام علاقہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ روڈ کی فوری مرمت کرکے عوام کو بڑے مالی خسارے سے بچایا جائے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments