ہنزہ میں‌دیانتداری کی ایک اور شاندار مثال، خاتون نے گلگت بلتستان کا سر فخر سے بلند کردیا

ہنزہ ( اسلم شاہ ) گلگت بلتستان کی روایات اور یہاں زندگی بسر کرنے والے باسی بہادری ، مہمان نوازی اور دیانتداری کی عمدہ مثال ہیں۔ سیاحت کو گلگت بلتستان میں فروغ ملنے کے بعد یہاں کی عمدہ روایات سے دنیا آہستہ آہستہ آشنا ہو رہی ہے۔گلگت بلتستان میں آنے والے سیاح یہاں کی خوبصورت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی ،اخلاقیات اور دیانتداری کے عمدہ یادیں اور قصے بھی لے کر جاتے ہیں جو کہ گلگت بلتستان کے لیے باعث فخر ہے پچھلے سالو ں میں گلگت بلتستان کے بہت سے علاقوں سے ایسی خبریں آئیں ہیں جہاں لوگوں نے سیاحوں کے علاوہ عام لوگوں کا گم شدہ رقم اور دیگر قیمتی اشیاء اُن کے مالکان کے حوالے کئے ہیں۔

دیانتداری اور ایمانداری کی ایک ایسی ہی مثال ہنزہ التت سے تعلق رکھنے والی ماں نے قائم کی۔

التت ہنزہ سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ نمہ گل کو مشہور سیاحتی مقام دویئکر  کے راستے میں 43،000 کی رقم ملی۔ خاتون پیسے ملنے پر پریشان ہوگئی، اور مالک کی تلاش شروع کردی۔ پیسے ملنے کی خبر جلد ہی علاقے میں پھیل گئی۔ تھوڑی دیر میں لاہور سے تعلق رکھنے والے حسان، جو این سی اے کے طالب علم ہیں، نے خاتون سے رابطہ کیا اور انہیں رقم سے متعلق تفصیلات بتادیں۔

تفصیلات درست ہونے پر نمہ گل نے رقم حسان کے حوالے کردی۔

اس موقع پر لاہور آنے والا طالب علم نے خاتون کا شکریہ اداکیا، اور انہوں نے کہا کہ میں نے سوچابھی نہیں تھا کہ کھوئی ہوئی رقم واپس مل جائے گی۔ “یہاں کے لوگوں کی دیانتداری کے باعث مجھے یہ رقم واپس ملا ہے۔”

نمہ گل کا تعلق التت سلطان آباد ہے اور وہ دو بیٹوں اور چھ بیٹیوں کی شفیق اور دیانتدار ماں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments