نیٹکو کی کھٹارہ بسیں اورغذر کے عوام

تحریر: دردانہ شیر

گلگت بلتستان کا ضلع غذرخطے کے پرامن علاقوں میں سے ایک ہیں مگر یہاں کے لوگوں کی امن پسندی کا بعض سرکاری ادارے غلط فائدہ اٹھارہے ہیں ان میں سے ایک محکمہ نیٹکو بھی ہے( ناردرن ایریا ٹرانسپورٹ کارپوشن) اس ادارے کوخطے کے عوام کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ایک تحفہ تھا جب گلگت بلتستان کے عوام کو 1972میں امد ورفت کے سلسلے میں سخت مشکلات کا سامنا تھا اور علاقے کے عوام کی اس تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے نیٹکو کا ادارہ قائم کیا اور اس ادارے کو باقاعدہ سرکار کی طرف سے سالانہ اچھا خاصہ بجٹ بھی مختص کر دیا گیا اس وقت یہاں کی سڑکیں کشادہ نہیں تھی اس وجہ سے پک اپ نامی چھوٹی گاڑیاں چلائی جانے لگی جب یہ خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگا تو اس ادارے کے لئے بڑی مقدار میں بسیں خرید ی گئی اور اس وقت گلگت بلتستان میں نیٹکو کے ادارے کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں بسیں اور ٹرک موجود ہیں جو گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت میں کوشاں ہیں اگر گلگت بلتستان میں اس ادارے کے ساتھ سب سے زیادہ تعاون کی بات کی جائے تو وہ ضلع غذر ہی ہے جس نے ہروقت اس ادارے کے ساتھ بھر پور تعاون کیا مگر اس ادارے نے یہاں کے عوام کے ساتھ ان کی تعاون کا تحفہ امتیازی سلوک سے دینا شروع کر دیاہے یہ امتیازی سلوک آج سے نہیں ہے گزشتہ دس سالوں سے اس علاقے کے ساتھ اس ادارے کی بے رخی کو دیکھا جائے تو وہ قابل مزمت ہے جب بھی کوئی کھٹارہ بس ہو تو اس کو غذر روڈ پر لگایا جاتا ہے جب روس پر افغانستان نے حملہ کر دیا تو بڑی تعداد میں افغان مہاجرین نے پاکستان کا رخ کر دیا اور بیرونی ممالک سے بھی بڑی تعداد میں ان افغان مہاجرین کے لئے امداد کا سلسلہ جاری رہا اور جرمنی نے ان افغان مہاجرین کو راشن پہنچانے کے لئے بڑی تعداد میں ٹرک پاکستان کو تحفہ پر دیدیا جب افغانستان میں حالات بہتر ہونے لگے اورمہاجرین کی واپسی شروع ہوئی تو جرمنی کی طرف سے دیئے گئے یہ ٹرک بھی کوئٹہ کے علاقے میں بے کار پڑے رہے وفاقی حکومت نے یہ ٹرک بیکار رکھنے کی بجائے نیٹکو کے حوالے کر دئیے شروع میں ان ٹرکوں میں روالپنڈی سے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کے لئے گندم کی سپلائی ہونے لگی جب ان کو لوڈ اٹھانے کی ہمت نہیں رہی اور یہ ٹرک ضیف العمرہوئے تو نیٹکو کے حکام نے ان کو کباڑ کرنے کی بجائے ان ٹرکوں کے اوپر چھت لگواکر ان کو بسوں کی شکل میں تبدیل کر دی اور ان ٹرک نما بسوں کی سروس گلگت سے چترال کے لئے شروع کردی اور اب بھی گلگت اور چترال کے درمیان ان بسوں کی سروس جاری ہے البتہ ان کی سروس کیسی ہے یہ تو وہ سواری ہی بتا سکتے ہیں کہ ایک مال برادر ٹرک کو بس میں تبدیل کیا جائے تو اس کی سواری کیسے ہوتی ہے مگر نیٹکو کے حکام نے تاحال ان ٹرک نما بسوں کو تبدیل کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی اور اب تک غذر اور چترال کے عوام ان کھٹارہ اور اثار قدیمہ جیسے بسوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں دوسری طرف گلگت بلتستان کا ضلع غذر صوبے کے بڑی اضلاع میں سے ایک ہے مگر یہاں سے روالپنڈی کے لئے چلنے والی بسوں کی قابل رحم حالت کو دیکھ کر یہ اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ غذر کے عوام کے ساتھ نیٹکو کے حکام کا رویہ کتنا مخلصانہ ہے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسی بسوں کو غذر سے روالپنڈی کے لئے لگایا گیا ہے جو غذر سے گلگت چلنے کے قابل بھی نہیں ہیں بابوسر روڈ کی چڑھائی پر ان کے انجنوں سے اتنا دھواں نکل جاتا ہے کہ پورے صاف ماحول کو ان کھٹارہ بسوں کا دھواں آلودہ بنا تا ہے اور ان بسوں کے انجن بیٹھ گئے ہیں جہاں چڑھائی آجائے وہاں سواریوں کو اتار دیا جاتا ہے اور مسافر پید ل تو کھٹارہ بس دھواں چھوڑتے ہوئے مشکل سے بغیر سوار کو بیٹھائے چڑھائی کراس کر جاتی ہے بسوں کی باہر کی حالت دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے اثار قدیمہ میں رکھنے والی ان بسوں کوغذر سے روالپنڈی روڈپر چلانے کی اجازت دینے والے وہ کون سے لوگ ہیں جو انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں بس کی باڈی کے نصف حصے پر باقاعدہ دیواروں پر کیا جانے والا پالسٹرلگایاگیا ہے اور اس کے باوجود بھی ان بسوں کو غذر سے روالپنڈی چلنے کی اجازت ہے شاید نیٹکو کے حکام کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہیں تاکہ کوئی حادثہ ہوجائے اس کے بعد اس ادارے کے حکام کو ہوش آجائے غذر کے عوام نے ہر وقت نیٹکو کے ساتھ تعاون کیا مگر اس ادارے نے یہاں کے عوام کی شرافت کا غلط فائد ہ اٹھایا دوسر ے علاقوں سے واپس ہونے والی ان کھٹارہ بسوں کو غذر سے روالپنڈی روڈ پر لگا دیا ہے اخر یہ ادارہ کب تک یہاں کے عوام سے ان کی شرافت کا امتحان لیتی رہے گی اور کب تک یہا ں کے عوام اس ادارے کے اس سلوک پر خاموش رہیں گے حالانکہ غذر سے روالپنڈی کے لئے پرائیوٹ بسوں کی بھی سروس ہے مگر یہاں کے عوام نیٹکو کو ترجعی اس لئے دے رہے ہیں کہ اس ادارے کو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت قائم کر دیا تھا جب یہاں کے عوام کے پاس امد ورفت کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی اج بھی یہاں کے عوام اس کو بھٹو کی ایک نشانی سمجھ کر اس سروس پر سفر کرنے کو ترجعی دیتے ہیں مگر نیٹکو کے حکام جو مزاق یہاں کے عوام کے ساتھ کر رہے ہیں وہ نہ صرف قابل مزمت ہے بلکہ متعلقہ محکمے کے لئے باعث شرمندگی بھی ہے وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کو بہترین سفر ی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے اس ادارے گرانٹ بھی دیتی ہے مگر اچھی بسوں کو گلگت بلتستان کے عوام کو فراہم کرنے کی بجائے ان بسوں کو روالپنڈی، لاہور اور کراچی روڈ پر لگا دیا گیا ہے اخر میں نیٹکو کے حکام سے گزارش ہے کہ وہ غذر کے عوام کے ساتھ جو امتیازی سلوک روا رکھا ہے اس کو ختم کرتے ہوئے فوری طور پر غذر سے روالپنڈی کے لئے نئی بیس فراہم کر دیں یا موجودہ کھٹارہ بسوں کی سروس کو بند کیا جائے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان کھٹارہ بسوں پر کسی بھی وقت کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے اس حوالے سے گورنر گلگت بلتستان اور وزیر اعلی گلگت بلتستان سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی نیٹکو کی غذر کے عوام کے ساتھ کی جانے والی اس امتیازی سلوک کا نوٹس لے تاکہ یہاں کے عوام اس سرکاری ادارے کے ساتھ حسب سابق اپنے تعاون کو جاری رکھ سکے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments