بلتستان کلچر اینڈ ڈویلپمنٹ فاونڈیشن کے وفد کا غذر میں‌فش فارمز کا پانچ روزہ دورہ

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ بلتستان کلچر اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام غذر کے پرائیوٹ فش فارمرز کے لئے پانچ روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد،اشکومن کے سترہ فش فارمرز نے ٹریننگ حاصل کرلیا،ورکشاپ کے آخری روز تقریب مقامی ہوٹل میں تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر غذر دلدار ملک تھے تقریب کی صدارت ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت راجہ مظفر ولی نے کی،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی جناب ڈپٹی کمشنر غذر نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلع غذر ٹورزم کے بعد فشریز کے حوالے سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے ،پرائیوٹ فش فارمرز کی تربیت سے فارمرز کو ماہی پروری کے جدید طریقوں سے روشناس ہونے میں مدد ملے گی اور علاقے کی معیشت پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔

ورکشاپ کے دوران فش فارم کے حوالے سے مختلف موضوعات پر لیکچرز دئے گئے ،کو آرڈینیٹر بلتستان کلچر اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن جناب وزیر اعجاز نے مچھلی فارم کی افادیت اور اس کے چلانے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ماہی پروری رحمت علی نے مچھلیوں میں پھیلنے والی بیماریاں اور ان کے علاج کے بارے میں تفصیل سے شرکاء کو آگاہ کیا،مقبول احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گلگت نے فش فارم کے لئے موزوں جگہ کا انتخاب اور دیگر ضروری عوامل پر لیکچر دیا جبکہ سید سفیر حسین اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز غذر نے خوراک کے طریقہ کار،فارمولہ اور ضروری اجزاء کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ۔ورکشاپ محکمہ ماہی پروری کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا،ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفیکیٹس اور کٹ تقسیم کئے گئے۔شرکاء نے ورکشاپ کو انتہائی سبق آموز قرار دیتے ہو ئے کہا کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے فش فارمنگ کے حوالے سے نت نئے طریقے سیکھنے کو ملے ہیں جن کو بروئے کار لاکر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکتے ہیں۔تقریب سے مہمان خصوصی کے علاوہ ڈی ڈی زراعت مظفر ولی نے بھی خطاب کرتے ہوئے ادارے کی کاکردگی کو سراہا اور کہا کہ غذر ٹراؤٹ مچھلی کے پیداوار کے لحاظ سے پورے ملک میں مشہور ہے،پرائیوٹ فش فارمز کے قیام سے دریا میں موجود نایاب نسل کو بچانے میں بھی مدد ملے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments