چترال سے منتخب ایم این اے کے ڈرائیور نے لواری ٹنل میں‌ڈیوٹی پر مامور پیرا ملٹری سنتری پر ہاتھ اُٹھایا ، چترال سکاوٹس کی وضاحت

چترال (پ ر) اتوار کے روز لواری ٹنل کے چترال سائیڈ پر رونما ہونے والے ناخوشگوار واقعے پر چترال سکاوٹس کے نمائندے نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لواری ٹنل کو پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے کھولنے کے اقات مقرر کرنا خالصتاََ این ایچ اے کی ذمہ داری ہے اور ان ہی کا دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔ اتوار کے دن ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترالی ٹنل کی بندش کے اوقات میں یعنی 8.30بجے چترال سائیڈ پر آئے اور سنتری نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے پھاٹک پر اُ ن کی گاڑی کے پاس جاکر ڈرائیور سے تعارف مانگ لی تو اُنھوں نے تعارف کرنے کی بجائے بد تمیزی پر اتر آئے اور انتہائی ڈھٹائی سے کہاکہ کیا تم اندھے ہو اور دیکھتے نہیں ہو کہ گاڑی کی نمبر پلیٹ پر ایم این اے لکھا ہوا ہے اور میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ڈرائیور نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ سنتری کو دھکا دیا اور جب ڈیوٹی کمانڈر نے ان سے پوچھا کہ تونے سنتری کو دھکا کیوں دیا ہے ۔ تووہ مذیدطیش میں آتے ہوئے چابی کانوکدار سرا ڈیوٹی کمانڈر کے سر پر گاڑ دی جس سے اُن کے سر پر جوٹیں آئی ۔انھوں نے مذید کہا کہ مولانا چترالی نے اپنی ڈرائیور کی غلطی چھپانے کی خاطر گاڑی سے نیچے اتر کر سڑک پر بیٹھ گئے اور دھرنا دیا ۔ چترال سکاوٹس کے نمائندے نے مذید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود سیکورٹی فورس کے اہلکار ٹنل کے کھلنے کے اوقات کے علاوہ گاڑیوں کی دونوں اطراف کی انٹری کرنے کی ڈیوٹی پر مامور ہوتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی ایمبولینس، سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں اور مجبوری سے دوچار افراد کیلئے ٹنل سے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔مولانا چترالی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے ڈرائیور سے پہلے خود اپنا تعارف کراتے تو ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آتا اور اُنھیں عزت کے ساتھ رخصت کیا جاتا اور افسوسناک بات یہ ہے کہ جب ڈرائیور بدتمیزی کا مظاہرہ کررہا تھا تو اُنھوں نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا اور بحیثیت ممبر قومی اسمبلی انھیں قانون کی پاسداری دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ کرنا چاہیے تھا۔ چترال سکاوٹس کے نمائندے نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو غلط انداز اور غلط رنگ میں اچھالنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments