اس پُل پر یا اُس پُل پر

ملک شاہ سلجوقی ایران کا ایک مشہور بادشاہ گزرا ہے اُس کا انصاف پوری دنیا میں مشہور ہے آسان الفاظ میں اس کے راج میں شیر اور بکری ایک گھاٹ کا پانی پیتے تھے کوئی طاقتور کسی ناتواں کو کوستا یا دبا نہیں سکتا تھا… ایک دفعہ ملک شاہ سلجوقی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شکار کے لیے جنگل گئے اُس جنگل کے قریب ایک گاوں تھا جہاں ایک بوڑھیا رہتی تھی بوڑھیا کے جھونپڑے کے پاس ایک گائے بندھی تھی بادشاہ ملک شاہ سلجوقی کے ساتھیوں کا گزار جب وہاں سے ہوا تو اُنہوں نے بوڑھیا سے پوچھے بغیر گائے لے جا کر ذبح کیا اور گوشت کھا گئے….. بوڑھیا نے جب یہ سب دیکھا تو کچھ سوچ کر بادشاہ کے لشکر کے پیچھے چلی گئی جنگل کے قریب ایک پُل تھا وہی پر بیٹھ کر بادشاہ اور اُس کے ساتھیوں کا انتظار کرنے لگی جب بادشاہ شکار سے واپس اُس پُل پر پہنچا تو بوڑھیا آگے بڑھی اور بادشاہ کا راستہ روک کر کھڑی ہوکر کہنے لگی “اے بادشاہ آج میرا انصاف اس پُل پر ہوگا یا اُس پُل پر…. اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تو میرا انصاف یہاں نہیں کرے گا تو ایک دن ایسا آنے والا ہے جس دن اللہ بہتر فیصلہ کرے گا اور اُس پُل صراط پر سب کو انصاف ملے گا…. بادشاہ پُل صراط کا نام سُن کر کانپ اُٹھا اور کہنے لگا “مائی تمہارا انصاف اسی پُل پر ہوگا کہو تمہیں کس نے ستایا ہے؟ بوڑھیا نے سارا قصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہی گائے میری روزی روٹی کا ذریعہ تھی جسے آپ کے ساتھیوں نے ذبح کیا ہے اگر مجھے پورا پورا بدلہ نہ دیا تو میں کیا کھاونگی؟ بادشاہ نے تحقیقات کیا تو بوڑھیا کی بات سچ نکلی بادشاہ نے اپنے ساتھیوں کو سزا دی اور بوڑھیا کو ایک گائے کے بدلے ستر گائیں دے کر رخصت کیا…. اس کہانی مطابقت رکھتی ایک اور کہانی کچھ یوں ہے کہ ہندوستان کے مغل بادشاہوں میں جہانگیر اپنے انصاف کے لیے مشہور ہے انصاف کے معاملے میں اُس نے اپنی چہیتی بیگم نورجہاں کے ساتھ بھی ریاعت نہیں کی ایک بہت مشہور واقعہ کچھ یوں ہے ایک بار ملکہ نور جہاں اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہی تھی اُس وقت پہرہ لگا دیا گیا تھا کہ محل کے آس پاس کوئی مرد نہ گزرے اتفاق کی بات ہے کہ ایک دھوبی غلطی سے وہاں آنکلا دھوبی کی نظر ملکہ پر پڑی اور ملکہ نے دھوبی کو بھی دیکھ لیا ملکہ آپے سے باہر ہو گئی اور غصے کی حالت میں اُس غریب دھوبی کو گولی مار کر قتل کیا ملکہ یہ بات برداشت نہیں کر پا رہی تھی کہ ایک نامحرم نے اُسے دیکھا لیا ہے…. دھوبی کے وارثوں نے خون کا دعویٰ کر دیا مقدمہ عدالت میں گیا اور تحقیقات ہوئی تو ملکہ نور جہاں نے اقبال جرم کر لیا ملکہ کے اقبال جرم کرنے کے بعد بادشاہ نے پھانسی کا حکم جاری کیا اور ملکہ کو محل سے گرفتار کر کے حوالات لے جایا گیا… جہانگیر کے اس فیصلے سے شہر بھر میں ایک ہل چل سی مچ گئی اور لوگ نورجہاں کو بچانے کی تدبیریں سوچنے لگے بادشاہ سے نظر ثانی کی درخواست کی گئی مگر بادشاہ اپنا فیصلہ بدلنے پر راضی نہ ہوا… دھوبی کے گھر والے بادشاہ کے اس فیصلے سے بہت متاثر ہوئے اور اُنہوں نے خون بہا لے کر نورجہاں کو معاف کر دیا… جہانگیر ملکہ نورجہاں کو کتنا چاہتا تھا اس کا اندازہ معافی نامے کے بعد اس فقرے سے ہو سکتا ہے.. “اے نور جہاں اگر تم موت کے گھاٹ اُتر جاتی تو میں کیسے زندہ رہتا”؟ انصاف کا سفر نہایت کٹھن ہوتا ہے انصاف ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوکر دوسروں کے دلوں تک پہنچتا ہے آج کل کے اس اندھیر نگری میں انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے برابر ہے آج کل انصاف مکڑی کا وہ جالہ ہے جہاں سے امیر اور بادشاہ آسانی سے نکل جاتے ہیں نگر غریب اور ناتواں اس جالے کا خوراک بنتے ہیں ہزاروں نہیں لاکھوں مقدمات عدالتوں کی الماریوں میں پڑی ان پر گرد جم گئی ہے ایک غریب انسان عدالت اور انصاف کا نام سُن کا تھر تھر کانپنے لگاتا ہے جب کہ امیر اور بادشاہ بے خوف و خطر لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم کرتے نظر آتے ہیں.. شاہد اب ملک شاہ سلجوقی کا وقت کبھی نہ آئے جہاں ایک بوڑھیا کو ایک گائے کے بدلے ستر گائیں دے کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائینگے یا جہانگیر بادشاہ کا وقت جہاں پر بادشاہ انصاف کی خاطر ملکہ نورجہاں کو جیل کی زینت بنا دے اب تو صرف ایک اُمید ہے کہ اگر انصاف اس پُل پر نہ ہوا تو اُس پُل پر سہی…

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments