ہنزہ میں بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ

ہنزہ ( اجلال حسین ) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور سابق چیف سکرٹری کے وعدے وفا نہ ہوسکے ، تین جنریٹر کا اعلان مگر ایک بھی ہنزہ نہیں پہنچ سکا۔ موجودہ ون میگا واٹ تھرمل جنریٹر بھی خراب، لوڈ شیڈنگ میں مزید اضافہ 48گھنٹے میں 4گھنٹےملنے والی بجلی بھی غائب جبکہ علاقے میں سردی عروج پر ہے۔ عوام کو سخت پریشانی کا سامنا پڑا رہا ہیں۔ تھرمل جنریٹر خراب ہونے کی وجہ سے بیشتر ہنزہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔

ہنزہ کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث عوام کو سخت مشکلات کا سامنا پڑ رہا ہے۔ سردی کی آمدکے علاوہ بچوں کے امتحانات عنقریب شروع ہونے کو ہیں۔ ہنز ہ کے مختلف علاقے پھر سے اندھیرا چھا گیا ہے ۔ اس سے قبل ہنزہ حسن آباد میں نصب ہائیڈل ون میگاواٹ اور تھرمل جنریٹر بھی خراب ہونے کی وجہ سے عوام کو 48گھنٹوں میں چار سے چھ گھنٹہ بجلی مل رہی تھی تاہم مشین میں خرابی کی وجہ سے ہنزہ میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ میں مزید اضافہ ہوگیا ہیں۔ جبکہ محکمہ برقیات کے حکام نے تھرمل جنریٹر میں خرابی کے باعث 5دن سے زائد عوام کو ترسیل ہو نے والی بجلی بند ہو گی۔

عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور بالا حکام سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور سابق چیف سیکرٹری کی جانب سے اعلان کردہ تھرمل جنریٹرکو ہنگامی بنیادوں پر ہنزہ پہنچایا جائے تاکہ عوام کو 48گھنٹے میں 4سے 6گھنٹےملنے والی بجلی پھر سے مل سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments