ہمہ تن گوش ۔۔۔ (آخری قسط)

ادب پارے: حاجی سرمیکی

جب آرمی پبلک سکول کے بچوں کا دستہ سلامی کے چبوترے کے قریب پہنچا تو ناظرین آرمی پبلک سکول پشاور کے دلخراش واقعے کے غم کو تازہ کرتے ہوئے دیدہ تر کے ساتھ بے اختیار کھڑے ہوگئے۔ آرمی پبلک سکول کا دستہ ، ننھے منھے علمی مجاہدوں کا دستہ سلامی کے چبوترے کے پاس سے گزرنے لگا۔ تالیوں کی گونج میں ناظرین نے ننھے منے طالب علموں کا استقبال کیا۔ سٹیج سکریٹری نے جوشیلے اشعار کے ساتھ ننھے جانبازوں کے دستے کی خوب پذیرائی کی۔ اس کے بعد شنا زبان کے معروف شاعر، بیورکریٹ ظفر وقار تاج کے خوبصورت کلام اور شنا سازندوں کے ماہرانہ سازو طرب پر سرکاری سکولوں، پبلک سکول اور آرمی پبلک سکول کے بچے ہولے ہولے تھرکنے لگے۔ ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھامے، بچے روایتی لباس زیب تن کئے،سر پر گلگتی ٹوپی اور شانٹی، گرم اونی شالیں کندھوں سے کمر کی اور لپٹی جبکہ ننھی پریاں پاکستانی جدید فیشن فراک میں ملبوس ، گویا سنہرے پتوں والے درختوں کے جھنڈ میں گھرے ہیلی پیڈ کے کھلے گراونڈ میں ننھی پریاں اتر آئی ہو۔ ڈھول دھماکے کے شائق شنا قوم کے نوجواں شائقین ان ننھے فرشتوں اور پریوں کے تال پر تال ملائے اپنی اپنی نشستوں پر ہل رہے تھے۔گراونڈ میں بچے باری باری گلگت بلتستان کے ہر ہر ضلع کا روایتی رقص پیش کررہے تھے اورناظرین تالیوں ،سیٹیوں اور شاباشی نعروں سے خوب داد دے رہے تھے۔ چند ایک بچوں نے روایتی تلوار رقص بھی پیش کیا۔ دیامر کے ننھے فنکاروں کے روایتی رقص پر شائقین نے داد دینے میں کوئی کنجوسی نہیں کی الغرض چلاس میں تعلیمی ادارے جلانے والے واقعے پر افسرہ و پراگندہ دلوں کو جذبہ نو اور ننھے طالبعلموں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے دھو ڈالا۔ دیامر کاثقافتی ہتن ڈانس پر جھومتے دو ننھے بچوں نے خوب داد سمیٹ لئے۔ غذر کے خصوصی بیڈ باجے کی ٹیم نے مختلف دھنیں بکھیر کر جشن کے رنگوں میں خاص سماں باندھ لیا۔ بچوں کی منفرد اور دلچسپ پیشکشوں کے بعد غازیوں کو خصوصی دھن پر پریڈ گراونڈ بلایا گیا جہاں مہمانان خصوصی سے ملاقات کے بعد گروپ فوٹو بنوائی گئی۔ اس کے بعد مہمانان خصوصی کے خطبات کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے تقریب سے خطاب کیا ۔ فی البدیع تقریر تھی، مگر کیا تقریر تھی ۔ انتہائی جامع، نپی تلی ، مدلل اوربرمحل تقریر تھی ۔ تقریر میں خطے کو درپیش چلنجز سے لے کر ، گلگت بلتستان کا سیاسی و آئینی منظر نامہ اور عوامی توقعات اور حکومتی کارکردگی پر تسلسل ، فصاحت اور بلاغت کے ساتھ گفتگو کی۔ انہوں نے گلگت بلتستان کی آزادی کی جدوجہد میں شامل شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا، غازیاں کی خوب تعریف کی اور الحاق پاکستان کو انتہائی موزوں ، جرات مندانہ اور عوامی امنگوں کے عین مطابق فیصلہ قراردیا۔ انہوں نے اس ضمن میں آئینی تقاضوں پر مبنی محرومیوں سے متعلق مایوسی کو بھلا کر الحاق پاکستان کے متعلق پرامید رہنے پر زور دیا۔ انہوں نے کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی اور جبر وبربریت کی خوب مذمت کی۔ اور پاکستان میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق سے متعلق مایوسیاں پھیلانے کو ہندوستان کی سوچی سمجھی سازش قراردیا۔ انہوں نے سازشی عناصر کو بے نقاب کرنے اور ان کی سرکوبی کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس کے بعد گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے خطبہ صدارت پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عوام کو انفرادی مفادات کی بجائے اجتماعی مفادات کے لئے متحد، متحرک اور کوشاں ہونے کی ترغیب دی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی سادگی اور احتساب کے عمل کو گلگت بلتستان تک وسعت دینے کی یقین دہانی کرائی۔ گورنر گلگت بلتستان نے اقربا پروری کے خاتمے، عدلیہ کے احترام اور احتساب کے لئے اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔ یوم آزادی گلگت بلتستان پر انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور غازیوں کی بھرپور الفاظ میں تعریف کی۔ اس کے بعد فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان نے تقریب سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں فورس کمانڈر نے گلگت بلتستان کی عوام کو مبارک باد پیش کیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان کی عوامی حکومت کے شانہ بشانہ علاقائی ترقی، بہتر سکیورٹی اور امن و امان کے قیام کے لئے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی گلگت بلتستان میں کسی محروم اور مجبور شخص کو صحت اور تعلیم کے حصول میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ مالی طور پر مجبور فرد کی صحت اور تعلیم کی سہولیات تک رسائی میں پاکستان آرمی بھرپور معاونت فراہم کرے گی۔ پاکستان آرمی کے زیرنگرانی قائم تعلیم اور صحت کی ہرسہولیات ، گلگت بلتستان کے غریب، مجبور اور معذور طبقے کے لئے مفت خدمات پیش کرے گی۔ نیز علاقے کے ذہین اور باصلاحیت طلبہ و طالبات محض مالی محرومیوں کی وجہ سے تعلیم سے دورنہیں ہو پائیں گے۔ پاکستان آرمی بلتستان یونیورسٹی میں دس لاکھ روپے کی سکالرشپ پروگرام سے غریب اور نادار بچوں کی تعلیمی معاونت شروع کر چکی ہے اور اسی طرح کا پروگرام قراقرم یونیورسٹی گلگت میں بھی جلد ترتیب پائے گا۔ انہوں نے غازیان تحریک آزادی گلگت بلتستان کو سلیوٹ پیش کیا، فرداً فرداً ہر غازی سے مل کر ان کی داد رسی کی ، ان کے مسائل کے حل کے لئے خصوصی کوششیں کرنے کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی غازیوں کا اپنافخر سمجھتی ہے اور ایف سی این اے انہیں خصوصی کارڈز بنوائے گی جس کے تحت انہیں صحت کی مفت خدمات حاصل کرنے کے مواقع ملیں گے۔ انہوں نے معذورافراد کے کے لئے صحت اور تعلیمی اداروں میں بہتر اور موزوں سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے ادب شناس، محققین، مصنفین، شعراء اور ہر شعبے کے نامور افراد کی خوب تعریف کی اور کہا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ کواللہ تعالی ٰ نے وہ صلاحتیں عطا کی ہیں جو بہت جلد ملک میں اپنا نام ومقام بنائیں گے اور پاکستان بھر سے طلبہ یہاں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے مقامی حکومت کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔

اگلے دن بلتستان کے مہمانان اپنے غازیوں میں گھل مل گئے۔ چونکہ بذریعہ ہیلی کاپٹر مہمانوں کی واپسی بھی ہونی تھی۔ مہمانوں کو خصوصی گاڑیوں کے ذریعے ہیلی پیڈ پہنچایا گیا۔ وہاں پر کرنل کاظمی نے یہ اعلان کیا کہ جنرل احسان محمود خان مہمانوں کو الوداع کہنے کے لئے آرہے ہیں۔ اس انتظار کے لمحات کو بلتستان کی شخصیات نے غنیمت جان کر کرنل کاظمی صاحب سے گپ شپ میں گزارنا چاہا جبکہ معروف شاعر اور سماجی کارکن ذیشان مہدی ،معروف شاعر و میزبان احسان علی دانش اور رکن جی بی کونسل حاجی محمد اشرف صدا غازیوں کو لے کر تحریک آزادی گلگت بلتستان سے وابستہ ماضی کے جھرکوں میں مرکوز ہوگئے۔ ہر غازی کی الگ ، محیرالعقول، جذبات سے بھرپور، ناقابل فراموش اور بالکل مختلف داستان تھی۔ ہر غازی اپنی اپنی کہانیوں میں کہیں نہ کہیں فرط جذبات سے روپڑتا تھا۔ کھانے کی تنگی، کمک اور رسد میں مشکلات، آزادی کا جذبہ، عہد شباب اور گولیوں کی بارش میں دشمن کے علاقے میں محاذ جنگ پر ڈٹ جانے کی یادیں ، اب صعف و لاغری میں پھلتے پھولتے وطن ، معروف شخصیات سے ملاقات اور حوصلہ افزائی اور پاکستان آرمی کی طرف سے پذیرائی اور عزت افزائی پر وہ کبھی کبھی بے انتہا جذباتی ہوکر بھی نمناک ہوجاتے تھے ۔تحریک آزادی کے ہیروزسے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر موجودہ نوجواں نسل آپ سے یہ پوچھیں کہ گلگت بلتستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے الحاق پاکستان، کشمیر سا سیٹ اپ اور الگ ریاست جیسے شرائط رکھ دیں تو آپ کی تجویز کیا ہوگی۔ اس سوال پر یک زبان ہوکر ساری غازیوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ ان کی جد وجہد آزادی کا مقصد گلگت بلتستان کی آزادی اور الحاق پاکستان تھا اور اس سے سوا انہوں کے دل ودماغ میں نہ کچھ تھا نہ کچھ بٹھایا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہی ہماری منزل اور پاکستان ہی ہمارا مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سوا سوچنا وسیع تر مفاد میں نہیں ہوگا۔ ایک غازی نے فورس کمانڈر سے درخواست کی کہ انہیں عمر کے اس حصے میں لے جاکر ان محاذوں پر پہنچادیا جائے جہاں سے دشمن کے ٹینکوں کا پاکستان کی سرحدوں میں پیش قدمی کا خطرہ ہو تاکہ وہ وہاں لیٹ کر اپنی جان جان آفریں کے حوالے کرکے پاکستان کے لئے کھائی قسم کو نبھا سکے اور وطن کی بقا کے لئے بچا کر رکھے سرمائے کو وطن پر نچھاور کرے۔ سکردو روانگی سے پہلے غازیان تحریک آزادی گلگت بلتستان نے نعرہ تکبیر اور قومی نعرہ پاکستان زندہ باد لگا کر فورس کمانڈر کو الوداع کہا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments