‘کرتارپور بارڈر کی طرح کارگل بارڈر بھی عوام کے لئے کھول دیا جائیں’، کھرمنگ کے عوام کا چیف سیکریٹری سے مطالبہ

کھرمنگ (سرور حسین سکندر) چیف سکریٹری گلگت بلتستان کیپٹن ریٹائرڈ خرم آغا مختصر دورے پر کھرمنگ پہنچے ڈپٹی کمشنر کھرمنگ عباس علی اور اسسٹنٹ کمشنر کھرمنگ شہریار شیرازی نے استقبال کیا انہوں نے مختلف دفاتر کا دورہ کیا عمائدین و سرکردگان سے بھی خصوصی ملاقات کیں ہیڈ آف ڈیپارٹمنس سے بھی ملے چیف سکریٹری ڈپٹی کمشنر آفس طولتی پہنچے تو پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی دی۔

کھرمنگ کے مختلف علاقوں کے عمائدین و سرکردگان نے چیف سکریٹری سے ملاقات کی۔ مطالبات میں عمائدین و سرکردگان نے کہا کہ کارگل بارڈر بند ہونے کے باعث کئی دہائیوں سے منقسم خاندان اپنے عزیزوں سے ملنے کے لئے بے تاب ہے۔ کرتارپور بارڈر کی طرح کارگل بارڈر بھی عوام کے لئے کھول دیا جائے تاکہ منقسم خاندان ایک دوسرے سے مل سکیں، ساتھ ہی تجارتی مقاصد بھی حاصل کر سکے۔ کارگل جنگ کے متاثرین تا حال مکمل بحالی اور معاوضوں کی ادائیگی کے منتظر ہیں، انہیں بھی انصاف ملنا چاہئے۔

عمائدین کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین مایوردو کے لئے بھی خاطر خواہ امداد نہیں دی جارہی ہ۔ے ان کے بھی پریشانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ جبکہ کھرمنگ کو ضلع بنے عرصہ ہوا ہے اور ہیڈ کوارٹر کا بھی تعین ہونا ہے لیکن ابھی تک میونسپل ایریا کا تعین تک نہیں ہوا ہے اس کے لئے اقدامات اٹھایا جائے۔ کھرمنگ کا سب سے پرانا ہائی سکول مہدی آباد کو اپ گریڈ کیا جائے۔ کھرمنگ کے تمام محکمہ جات میں تعیناتیوں کے دوران خصوصی افراد کے لئے خصوصی کوٹے رکھے جائیں۔

عمائدین نے چیف سکریٹری سے کھرمنگ میں ایک اور سب ڈویژن بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بعد میں پاکستان مسلم لیگ کھرمنگ کے صدر سید محسن رضوی اور دیگر نے ان تمام مطالبات کو قرار داد کی شکل میں چیف سکریٹری کو پیش کر دیا ہے۔
چیف سکریٹری گلگت بلتستان کیپٹن ریٹائرڈ خرم آغا نے عمائدین کے تمام مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ۔

چیف سکریٹری گلگت بلتستان کا دورہ کھرمنگ کے دوران مقامی صحافیوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ پریس کلب کھرمنگ کو دورے سے بلکل بے خبر رکھا گیا۔ پریس کلب کھرمنگ اور یونین آف جرنلسٹ کھرمنگ کی طرف سے مذمت۔

صحافیوں نے چیف سکریٹری سے ان کے دورے کے وقت مقامی صحافیوں کو نظر انداز کرنے کے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments