پاک چین اقتصادی راہداری، روشن مستقبل

پروفیسر اعزاز احسن

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت تبدیلی کے کئی حلقوں میں میں خدشات کا اظہار کیا گیا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں تعطل آئے گا لیکن الحمد اللہ یہ تمام خدشات غلط ثابت ہوئے اور پاک چین اقتصادی راہداری پر کام جاری ہے۔چین اور پاکستان کی دوستی مثالی ہے۔ چین‘ ترقی کے حوالے سے عمران خان کی حکومت کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ عمران خان کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ کرپشن کے تدارک‘ غربت کے خاتمے‘ تعلیم اور صحت جیسے سماجی شعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے چینی تجربات سے استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ بعض عالمی فورموں پر، بھارت امریکہ گٹھ جوڑ کے دباؤ سے پاکستان کو نکلنے میں بھرپور امداد دی۔ سی پیک ہمارے لئے شاہراہ ترقی ہے، اس کی بنیاد پر پاک چین دوستی مزید گہری ہوگی۔ امریکہ اور بھارت کو چھوڑ کر دنیا بھر میں اس منصوبے میں دلچسپی لی جا رہی ہے۔ ان دونوں کو خدشہ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے ان کی اہم منڈیاں ہاتھ سے نکل جائیں گی۔ امریکہ، چین کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے‘ اسے ڈر ہے کہ آئندہ پندرہ بیس برسوں میں چین، اسکے مقابلے میں وہی حیثیت حاصل کر لے گا جو کبھی سوویت یونین کو حاصل تھی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ چین کا ایک کھرب ڈالر سے زائد کا مقروض بھی ہے۔ امریکہ اور بھارت نے سی پیک منصوبے کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بلاواسطہ اور بالواسطہ بڑی کوششیں کی ہیں لیکن پاک چین دوستی، کے باعث اُنکے مذموم عزائم کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ملک کے اندر سے بھی سی پیک کی راہ میں دہشت گردی اور بھارتی ایجنٹوں کی بلوچستان میں تخریب کاری جیسی کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دے۔2013کے وسط میں نئے چینی صدر،زی جن پنگ نے ایشیائی و یورپی ممالک کادورہ کیا۔ انہی دوروں کے دوران انہوں نے ’’ون بیلٹ‘ ون روڈ‘‘ پروجیکٹ کا اعلان کیا۔ چینی حکومت اس زبردست منصوبے کے ذریعے مختلف ممالک میں شاہراہیں، بندرگاہیں، تیل و گیس کی پائپ لائنیں، ریل پٹڑیاں بنا اور فائبر کیبلز بچھاکر چین کو یورپ، ایشیا اور افریقہ سے منسلک و مربوط کرنا چاہتی ہے۔ ایک رپورٹ کی رو سے چین کا یہ منصوبہ ’’60 ممالک‘‘ تک پھیلا ہوا ہے۔چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے نے جہاں پاکستان کی اقتصادی ترقی، عوام کی خوشحالی اور ملک کے استحکام کی بنیاد رکھی وہیں خطے میں پاکستان کی اہمیت بھی بڑھا دی ہے جس کا ثبوت خطے کے تمام ممالک کی جانب سے سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا اظہار ہے۔ اس لئے سی پیک کی بنیاد پر پاکستان کا مستقبل تابناک نظر آتا ہے جبکہ ہمارے روایتی دشمن بھارت کو گوادر پورٹ اور سی پیک کے ذریعے پاکستان کی ممکنہ اقتصادی ترقی اور خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھا رہی اور وہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے انتہائی گھٹیا حربوں اور گھناؤنے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل زبیر محمود حیات نے ایک مقامی تھنک ٹینک کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی‘‘ را’’نے پاک چین معاشی راہداری کے منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کیلئے 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے نیا شعبہ قائم کر دیا ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف ہر سطح پر سازشیں جاری ہیں پاکستان کے اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھارت کے سپیشل سیکیورٹی ایڈوائزر کی سربراہی میں سپیشل ڈیسک تشکیل دیدیا ہے۔ جس میں بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس جنرل کے علاوہ را اور سی آئی بی کے اعلیٰ افسران شامل ہیں۔ یہ سپیشل ڈیسک سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے بلوچستان کی کالعدم تنظیموں، پاکستانی طالبان اور سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ بھی کرے گا اور میڈیا میں پاکستان مخالف پروگراموں کیلئے بھی فنڈنگ کرے گا۔سی پیک منصوبے کو تباہ کرنے کیلئے امریکہ اور بھارت ایک طویل عرصے سے سازشیں کررہے ہیں لیکن چند وجوہات کی بنا پر امریکہ پس پشت چلا گیا ہے اور فرنٹ پر بھارت کو سہولت کاری فراہم کی جارہی ہے۔

جنرل زبیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی روایتی اور نیم روایتی جاری جنگ کسی بھی وقت بڑی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ مسئلہ کشمیر ایٹمی جنگ کے خطرات کی وجہ ہے۔ بھارت سے بہتر تعلقات کا راستہ صرف کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 94 ہزار کشمیری شہید کیے جاچکے ہیں اور ہر 20 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن ممکن ہے۔بقول جنرل زبیر بھارت آگ سے کھیل رہا ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ پاکستان کا پانی روک ر ہا ہے۔بھارت خطے کے امن سے کھیل رہا ہے۔ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں اور افغانستان میں مستقل عدم استحکام کی پاکستان بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام خطے کیلئے نقصان دہ ہے۔ افغانستان میں کمزور گورننس اورمفاہمتی عمل میں عدم تسلسل مسائل کا بڑا سبب ہے۔ گذشتہ 16 برس سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں۔ اس وقت جنوبی ایشیا کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جس میں بھارت کی کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن، میزائل شکن دفاعی نظام شامل ہیں۔ بھارت میں انتہاپسندی بڑھ رہی ہے۔ بھارت سیکولر سے انتہاپسند ہندو ملک بن چکا۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے۔ دنیا پر واضح ہو کہ ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں۔ خطے میں سیاسی و معاشی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔پاکستان کی ہمسایہ ممالک کیساتھ دوستی اور بہتر تعلقات کی پالیسی ہے۔ افغانستان، ایشیاکاگیٹ وے ہے۔ بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا کہ مسئلہ کشمیر جوہری جنگ کا پیش خیمہ ہے، کسی بھی قسم کا غلط اندازہ خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ سی پیک بھارت کے سینے پر سانپ لوٹنے کے مترادف ہے۔ یہ عظیم تر منصوبہ تکمیل کی طرف جتنی تیزی سے گامزن ہے اتنی ہی شدت سے بھارت کو بے چین کئے دے رہا ہے۔ وہ اس منصوبے کی پستیوں کی گہرائی تک جا کر مخالفت اور سازشیں کر رہا ہے۔ چین پر اس منصوبے کے خاتمے کیلئے ممکنہ حد تک دباؤ ڈال چکا ہے۔ متعدد بار وارننگ بھی دی کہ چین بقول

بھارت متنازعہ علاقوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے اقتصادی راہداری گزارنے سے باز رہے۔ حالانکہ یہ علاقے بالکل بھی متنازعہ نہیں ہیں۔ چین بھارت کے دباؤ اور دھمکیوں میں آنے پر تیار نہیں، اس نے اقتصادی راہداری کی تکمیل پر عزم ظاہر کیا اور اپنے عزم و ارادے اور وعدے کے مطابق 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر کاربند ہے۔ پھربھارت نے پاکستان کے اندر سے بھی سی پیک کے مخالفین تیار کئے۔ ان کی کمر تھپکی، ان پر سرمایہ کاری بھی کی مگر حکومت جس طرح اس منصوبے کو لے کر چلی ہے۔ کسی کو اس کی کھل کر مخالفت کی جرات نہیں ہوئی۔ لیکن اس حوالے سے ہمیں اپنی آنکھے اور کان کھلے رکھنے ہوں گے کیونکہ دشمن کئی طریقوں سے سازشوں میں مصروف عمل ہے دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہے سوشل میڈیا پر اس کے چیلے غیر محسوس انداز میں زہریلا پرو پگنڈہ کر کے عوام میں مایوسی پھیلا رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments