گوپس سب ڈویژن کے 30 بستروں پر مشتمل ہسپتال میں‌ سہولیات ناپید، ڈاکٹرز غائب، نرسوں‌کی بادشاہی

گوپس (معراج علی عباسی) تیس بستروں پر مشتمل سب ڈویژنل ہسپتال گوپس میں علاج معالجے کی سہولیات ناپید ،  ہسپتال میں میڈیکل آفیسر،ڈینٹل ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹرکی کرسیاں ایک عرصے سے  خالی ۔سرکاری ہسپتال کے تمام تر انتظامی امور نرسنگ سٹاف کے سپرد۔

تفصیلات کے مطابق  سب ڈویژنول ہسپتال  گوپس میں ڈاکٹر نہ ہونے  کے باعث عوام کو علاج معالجے  کے حوالے سے شدیدمشکلات درپیش  ہیں ۔ہسپتال میں  تین میڈیکل آفیسرز کی پوسٹیں گزشتہ عرصے سے خالی پڑی ہیں۔ میڈیکل آفیسر ،ڈینٹل ڈاکٹر،اور لیڈی ڈاکٹر کی کرسیاں خالی ہونے کی وجہ سے ہسپتال کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔محکمہ صحت گلگت بلتستان نے  تیس بستروں پر مشتمل  سب ڈویژنل ہسپتال گوپس کا تمام تر نظم نسق نرسنگ اسسٹنس کے سپرد کیا ہے۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کے باعث گوپس اور غذرکے بالائی علاقوں سے علاج معالجےکے لے سرکاری ہسپتال آنے والے  غیریب مریض  محکمہ صحت کے ساتھ پارٹنرشپ پر چلنے والی  نجی  ہسپتال  میں  بھاری فیس ادا کرکے علاج کرانے پر مجبور  ہیں۔ہسپتال میں ڈاکٹر و ں کی عدم دستیابی کے باعث گوپس کے دوردارازکے علاقوں سے ہسپتال آنے والے مریضوں سمیت  علاقے میں ہونے والے مختلف جرائم میں پولیس کو درکار میڈیکو لیگل کیسز  کے دوران میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے  بھی پریشانی کاسامنا ہے ۔

سب ڈویژن گوپس سے تعلق رکھنے والے صحافی حاجی غلام نبی کے مطابق گزشتہ روز گوپس سمال کے مقام پر ہونے والی قتل کیس  کے پوسٹماٹم کے لےسرکاری ہسپتال میں  ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث  پوسٹمام کے لے ایک پرائیویٹ ہسپتال کے ڈاکٹر کی مدد لی گئی  ۔  گوپس میں موجود سب ڈویژنل ہسپتال میں گزشتہ کئی عرصے سے ڈاکٹرز کے تین پوسٹیں خالی ہے۔سرکاری ہسپتال علاج کے لے آنے والے مریض نرنسگ اسسٹنٹ کے رحم وکرم پر ہیں۔ گلگت بلتستان کے مقامی میڈیا میں آنے والے خبروں کے مطابق  ہسپتال میں ڈاکٹرز نہ ہونے کے باعث سرکاری  ہسپتال میں علاج معالجے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے ۔حکومت کے جانب سے غیریب عوام کے علاج کے لے بیجھے گئے  چالیس لاکھ  روپے کے ادویات ایکسپائر  ہوچکے ہیں۔ اس حوالے سے ڈی ایچ اوغذر ڈاکٹر عیسی خان سے رابط کرنے پر انہوں نے کہا کہ گوپس ہسپتال کے تمام تر معملات ایک نجی ادارے کو دینے کے لے ایم آئی یو تیار ہوچکا ہے اگریمنٹ کے مطابق ہسپتال میں میڈیکل اور پیرامیڈیکل سٹاف لانے کے تمام تر ذمداری اغاخان ہیلتھ سروسز کا ہے۔ایم آئی یو پر دستخط ہوتے ہی ہسپتال میں موجود سرکاری پیرامیڈیکل سٹاف کو بھی دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا جاے گا۔انیوں نے کہا کہ ہسپتال میں چالیس لاکھ کی سرکاری ادویات ایکسپائر ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں البتہ یوایس ایڈ نامی ادارے سے ڈونیشن میں ملی ہوئی ادویات کی ایک کیپ جن کی مالیت تقریباً چالیس لاکھ کا ہے کی ایکسپائر ی ڈیٹ  فروری تک ہے ایکسپائر ۔ فروری تک استعمال نہ ہونے کے صورت میں ادویات کو

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت