گلگت بلتستان میں علیحدیگی کی نہیں بلکہ پاکستان کے آئین میں شامل ہونے کی تحریک ہے، وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن

اسلام آباد(پ ر) وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری نے ہمیشہ جمہوریت کے محافظ کا کردار ادا کیا ہے۔ جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خلاف وکلا کی جدو جہد کی ایک تاریخ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بار ملک کا ایسا گلدستہ ہے جہاں ملک کے ہر حصے کے وکلا ہیں ہم اس گلدستے سے امید کرتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کے نظام کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلا ملک کا ذمہ دار طبقہ ہے وہ دیکھیں کہ ملک کا کون سا ادارہ قانون میں رہ کر کام کر رہا ہے اور کون سا ادارہ قانوں و آئین سے ہٹ کر۔

وزیر اعلی نے مزید کہا کہ آج اگر گلگت بلتستان میں امن اور ترقی ہے تو اس میں کردار تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں ،کارکنوں اور جمہوری نظام کے تسلسل کا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کا ناسور اس لئے تھا کہ سیاسی نظام کمزور تھا۔ گلگت بلتستان میں نفرتوں اور فرقہ وارانہ تقسیم سے علاقے کا نقصان ہوا، آج امن ہے تو گلگت بلتستان ہر شعبے میں ترقی کر رہا ہے۔ ہماری حکومت سے قبل گلگت میں پانچ برسوں میں 550افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ہماری حکومت آنے کے بعد ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہوا ہے۔ ،اس امن کے لئے گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں ،جماعتوں اور عوام کا کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن صرف سڑکیں بناتی ہے اور سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں آتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک شاہراہ قراقرم کے بننے سے گلگت بلتستان کے عوام کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا ، سکردو روڑ بن رہا ہے ،پاکستان کے سوئیزر لینڈ نلتر ایکسپریس بن رہی ہے استور ویلی روڑ ،گلگت چترال چکدرہ شاہراہ سی پیک کا حصہ ہے۔ ان شاہراوں کے بننے سے جہاں عام آدمی کی زندگی میں انقلاب آئے گا وہاں گلگت بلتستان معاشی طور بھی خوشحال ہوگا۔ آج الحمد اللہ گلگت بلتستان کے طول عرض میں شاہراوں کا جال بچھا دیا گیا اسی وجہ سے سالانہ بیس لاکھ سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں ،عام عوام کو سڑک ،تعلیم اور صحت کے ساتھ زندگی کی بنیادی سہولیات سے غرض ہے۔ الحمد اللہ ہم نے ساڑھے تین برسوں میں ہر شعبے میں کام کیا ہے جس کا ہمارے سیاسی مخالفین بھی اقرار کرتے ہیں۔ آج گلگت بلتستان کی شناخت ،ترقی اور سیاحوں کی آمد ہے تو اس کے لئے بہت محنت ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر سیاحت کے لئے موزوں ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نام آیا ہے تو اس کے پیچھے گلگت بلتستان کا قدرتی حسن کارفرما ہے ۔

وزیر اعلی نےکہا کہ جہاں تک آئینی شناخت کا مسلہ ہے تو گلگت بلتستان کے عوام اپنی منزل پاکستان کو سمجھتے ہیں اور گلگت بلتستان میں علیحدیگی کی نہیں پاکستان کے آئین میں شامل ہونے کی تحریک ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وکلا برادری ہماری اس جدو جہد میں ہمارے ساتھ تعاون کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خوش قسمت خطہ ہے جہاں دیگر قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ ستر ہزار سے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی کی پیداوار ممکن ہے۔ ،ملک میں بجلی کے بحران کا خاتمہ گلگت بلتستان سے بجلی پیدا کر کے نہ صرف ختم کی جا سکتا ہے بلکہ ہم باہر بجلی کی سپلائی دے سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک نہیں اور نہ ہی ریجنل گرڈ بنا ہے جس کی وجہ سے ہم ایک ضلع سے دوسرے ضلع کو بجلی فراہم نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ ہیں وہ مسائل جو ہم نے حل کرنے ہیں لیکن ان تمام کاموں اور ترقی کیلئے جس چیز کا ہونا ضروری ہے وہ سیاسی تسلسل ہے ،جب تک جمہوری تسلسل نہیں ہوگا ہم ترقی کے زینے پر قدم نہیں رکھ سکتے۔ آج الحمد للہ گلگت بلتستان ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے اور انشا اللہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا ۔

تقریب میں ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی جعفر اللہ خان ،چئیر مین سٹینڈنگ کمیٹی اشرف صدا، چیر مین پپلک اکاوٹس کمیٹی سید افضل، ممبر گلگت بلتستان کونسل ارمان شاہ بھی شریک تھے۔

ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کے لئے سر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ،بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ گلگت بلتستان اسی مسلہ کشمیر کا حصہ ہے تو ایسے میں ہمیں فخر ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا سر ہے۔ پاکستان ہماری منزل ہے اگر ہمیں ملک سے حقیقی محبت ہے تو ہمیں ہر قسم کے تعصبات اور نفرتوں سے نکل کر ایک قوم بننا ہوگا ،دائروں میں تقسیم ہونے سے ہم نہ قوم بن سکتے ہیں اور نہ ترقی کر سکتے ہیں ،ترقی کے لئے اتفاق اور امن کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بار کونسل میں ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے وکلا کی بڑی تعداد ہے۔ وکلا برادری سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی کیونکہ وکلا برادی پر سب سے زیادہ ذمہ داری اس لئے بھی عائد ہوتی ہے کہ قانون و آئین کی بالادستی کی اہمیت سے ہمہ وقت آگاہ ہے اور جمہوری نظام کے تسلسل سے حاصل ہونے والے فوائد سے آگاہ ہو کر قوم کی رہنمائی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری منزل پاکستان ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے ترقی کے لئے جمہوری تسلسل اور سیاسی استحکام لازم ہے۔

تقریب سے بار کونسل کے صدر چوہدری خانزادہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان کی مدلل ا تقریر کے بعد ہم انتہائی متاثر ہیں اور بار کونسل اسلام آباد گلگت بلتستان کے عوام کے لئے ہمہ وقت قانونی محازوں پر ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے۔ ہمارے لئے اعزاز ہے کہ ایک انتہائی قابل اور شفیق سیاستدان وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن آج ہمارے درمیان ہیں۔

تقریب کے آخر میں بار کونسل کے نائب صدر نے وزیر اعلی کو شیلڈ پیش کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments