آہ۔۔ میر اخلاق حسین اب ہم میں نہیں رہے۔

تحریر۔ حبیب الرحمان مشتاق گلگت

نہایت دکھ ، تکلیف اور کرب کے عالم میں یہ کالم لکھ رہا ہوں کہ ہمارے بہنوئی، دوست اور گُرو، سروس ٹریبونل گلگت بلتستان کے چیئر مین میر اخلاق حسین عمرہ کی ادائیگی کے بعد وطن واپسی کے دوران زیادہ علیل ہونے کی وجہ سے اسلام آباد کے ایک معروف ہسپتال میں رضائے الٰہی سے انتقال کرگئے ۔ اور پسماندگان میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے ہیں(اِنَّ لااللہِ واِنَّ الیہِ راجعون )

میں مرحوم (جسے مرحوم کہتے ہوئے مجھے انتہائی تکلیف ہورہی ہے) کی شخصیت کے بارے میں اگر لکھنے بیٹھ جاؤں تو اس کی اچھائیاں، اس کے حسنِ اخلاق، اس کی بلند سوچ، اس کی علمی قابلیت، اس کی اردو گرامر، اس کی انگریزی بول چال اور رائٹنگ پاور، اس کی ریاضیات پر گرفت، اس کی سیاسیات کے شش جہت پہلو ، اس کی اقبال کی شاعری کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے کی صلاحیت، اس کی قرآن پاک کے ساتھ عملی محبت، اللہ کے احکامات کو سمجھ کر اس پر مدلل گفتگو کرنے کی صلاحیت اور اس کی غریب پروری کے اوپر بات کرنے کے لئے کئی صفحے درکار ہیں۔ اس لئے مختصرطور پر یہ بتا دوں کہ آج میں علمی طور پر یتیم ہوگیا ہوں۔ وہ شخصیت جن کے ساتھ رات دیر گئے تک ادبی حوالے سے ، اسلامی حوالے سے اور بالخصوص روحانیت اور میٹا فزکس کے موضوع پر بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا تو اس کی زبان سے علم کے موتی جھڑنے لگ جاتے اور رازِ سربستہ سے آہستہ آہستہ پردے سِرکنا شروع ہوجاتے۔ ان کے آگے ایک موضوع کو سامنے رکھ کر بات کرنے کی دیر ہوتی کہ پھر اس کے بعد جس روانی، جس سلاست اور جن خوبصورت لفظوں میں وہ تاریخی حقائق بیان کرتے کہ سننے والے کی عقل دنگ رہ جاتی۔

میں ان کے سیاسی شعور، جرات مندانہ فیصلوں، مدبرانہ سوچ و افکار اور چھٹی حِس کی بیداری کا اُس وقت مرید بنا جب وہ گلگت بلتستان میں اپنے دور کی سب سے زیادہ فعال سابقہ سیاسی تنظیم : کشمیر یوتھ مومنٹ : کا وجود عمل میں لاکر اس کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔اس سیاسی تنظیم نے میر اخلاق حسین مرحوم کی سربراہی میں چند ہی عرصے میں ایسی ہلچل مچائی تھی کہ ساری دنیا کی توجہ گلگت بلتستان کی طرف مبذول ہوگئی۔ جس خطے کے بارے میں ہمارے پاکستانی بھائیوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ کہاں واقع ہے۔اس خطے کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے اسے بین الاقوامی طور پر روشناس کرایا۔اُس دور میں جہاں کشمیرکے سیاسی نمائندوں کے وفودکا اس علاقے میں آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہا وہاں یو۔این ۔او کی طرف سے بھی ہمدردی کے کئی خطوط موصول ہونے لگے مگر اس سے پہلے کہ اس تحریک کو اپنی منزل ملتی یہ مومنٹ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور یوں میر اخلاق حسین نے اندرونی سازشوں سے دلبرداشتہ ہوکر کشمیر یوتھ مومنٹ کو خیر باد کہہ کر چائنا ٹریڈ میں ملازمت اختیار کرلی۔جو لوگ اس مومنٹ کو چلانے کے دعویدار تھے وہ اسے چلا نہیں سکے اور یوں چھے ماہ کے اندر یہ مومنٹ مرحوم ہوگئی۔چونکہ میر اخلاق حسین نے ایل ایل بی کا امتحان بھی پاس کرلیا تھا اس لئے چائنا ٹریڈ کی ملازمت کو جلد خیر باد کہہ کر وکیل کا پیشہ اختیار کیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی سالوں میں اپنی قابلت کا لوہا منوایا۔ اس شخصیت کی قابلیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے چند ہی عرصے میں اپنی وکالت کے پیشے میں وہ مقام اور مرتبہ حاصل کیا جس کے لئے اس سے سینئیر وکیل آج بھی ترس رہے ہیں۔وہ معروف وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت گار بھی تھے۔ان کے گھر اور دفتر کے دروازے ہمیشہ سائلوں کے لئے کھلے رہتے تھے۔لوگوں کو اچھا اور مفید مشورہ دینا ان کا وطیرہ بن چکا تھا۔غریب کے سر پر دستِ شفقت رکھنا اوران کے کیسز کو بغیر کوئی احسان جتلائے فقط اللہ کی رضا کے لئے مفت میں لڑنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل تھاجس کے سبب خدائے بزرگ و برتر نے اسے مزید عزت اور شان و شوکت سے نوازا اور اسے سروس ٹریبونل گلگت بلتستان کا اولین چیئرمین منتخب ہونے کا اعزاز بخشا ۔اور وہ چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی بار کونسل بھی تھے

ان کی نمازِ جنازہ کے موقع پر عوام کا ایک جمِ غفیر موجود تھااور میرے مشاہدے کے مطابق اتنے لوگ ایک ساتھ ابھی تک کسی کی میت پر میں نے نہیں دیکھے۔ہر آنکھ اشک بار تھی اور کئی ایک نے اس دوران اپنی زبان سے روتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ آج ہم غریبوں کو بنا کسی اجرت کے انصاف دلانے والا نہیں رہا۔
ا ن کا دنیا کی زندگی میں نیک کردار، ان کااچھا عمل،ان کی خوش اخلاقی اور ان کی علمی گفتگو کو ہمارا معاشرہ صدیوں یاد رکھے گا اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ ایسی قابل ترین صاحبِ علم شخصیت ہمارے ارد گرد کے معاشرے میں شاید صدیوں تک نہ مل سکے۔ بلاشبہ میر اخلاق حسین میرِ اخلاق تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بہشت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل سے نوازے۔ گو کہ وہ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ہیں لیکن میرے دل میں ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہیں گے وہ کل بھی میرے آئیڈیل تھے اور آنے والے زمانے میں بھی میرے آئیڈیل ہی رہیں گے۔ ان کے لئے ایک شعر کے ساتھ اجازت چاہونگا۔
متاعِ علم، محبت کا تاجدار تھا وہ
تمام شہر کے لوگوں کا اعتبار تھا وہ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments