گلگت بلتستان میں شجرکاری مہم

فیض اللہ فراق

ماحول کا تعلق انسانی زندگی سے بہت گہرا ہے اور ماحول کی شفافیت درختوں کی دم قدم سے ہے ۔ انسانی وجود کیلئے لباس کا ہونا جتنا ضروری ہے اسی طرح زمین کی لباس درخت ہوتے ہیں۔ دنیا میں انسانی زندگی کی بقا کا دارومدار ایکو سسٹم کی مربوطی اور تسلسل میں ہے جب یہ سسٹم ڈسٹرپ ہوجائے تو انسانی زندگی کی زنجیر بھی متاثر ہوتی ہے ۔

جنگلات کی کٹاو سے ماحول پر شدید قسم کا منفی اثر پڑتا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی کامیاب لائف سائیکل کیلئے 25 فیصد زمین پر جنگلات ناگزیر ہیں اور دنیا کے وہ علاقے جہاں وہاں کی کُل زمین کی 70 فیصد سے زائد حصے پر جنگلات ہیں وہ پوری دنیا کے ماحول میں توازن لانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جو کہ خوش آئند ہے ۔ ماحول کا تعلق کسی قوم’ ذات’ قبیلے اور ملک سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک آفاقی چیز ہے ۔ بہتر ماحول تمام انسانوں کیلئے ضروری ہے ۔

عالمی منظر نامے پر ماحول کی خراب صورت حال پر خطرناک انڈیکیٹرز ہیں جبکہ انسانی زندگی کے کثیر حصے تک درخت لگانے کا شعور اس حد تک نہیں پہنچا ہے جتنا پہنچنا چاہئے تھا دوسری جانب افسوس ناک رخ یہ بھی ہے کہ ایشیائی خطے میں جنگلات کی کٹائی کا رجحان بھی بڑھتا جا رہا ہے ۔

ہمارے ملک میں کل زمین کی 5 فیصد زمین پر جنگلات ہیں جو کہ حوصلہ افزا نہیں ہے ہمارے ملک میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے اور ہر سال شجر کاری مہم کو ملک بھر کی طول و عرض پر منظم انداز میں پھیلاو کو یقینی بنانا بھی ایک انسانی ذمہ داری ہے ۔

گلگت بلتستان میں4.19فیصد زمین پر جنگلات ہیں اس کا 70 فیصد صرف دیامر میں ہے ۔ یہ امر بہت اہم ہے کہ ایک درخت روزانہ 22 کلو کاربن جذب کرتا ہے جبکہ 4 افراد کیلئے آکسیجن مہیا کرتا ہے ۔

گلگت بلتستان میں گزشتہ کئی عشروں سے شجرکاری کا تصور اور روایت موجود رہی ہے لیکن یہ روایت محض روایت رہی تھی گزشتہ ڈیڈھ سال سے گلگت بلتستان سطح پر شجرکاری کی یہ روایت انتہائی منظم انداز میں آگے پروان چڑھ رہی ہے۔

سیکرٹری جنگلات آصف اللہ خان اس سلسلے میں کافی متحرک ہیں اور اپنی پوری ٹیم کے ساتھ ملکر “ایک بشر دو شجر” کے خوبصورت سلوگن کے ساتھ عوام میں درخت لگانے کا بہتر شجر دینے میں پیش پیش رہے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ برس صوبہ بھر میں تقریبا 35 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF ) کے مطابق ان کی لائف تناسب 65 فیصد رہا ہے ۔

اس سال صوبے میں 70 لاکھ پودے لگانے کا حدف ہے اور اس مہم کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا گیا ہے اس حوالے سے جگلوٹ اور کیڈٹ کالج ڈرن داس چلاس میں الگ الگ شجرکاری کی تقریبات منعقد ہوئی ہیں۔

جگلوٹ میں ہونے والی تقریب میں چیف سیکرٹری گلگت بلتستان خرم آغا اور سیکرٹری جنگلات آصف اللہ خان نے پودے لگا کر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جبکہ کیڈٹ کالج ڈرن داس چلاس میں سیکرٹری جنگلات آصف اللہ خان ‘ سیکرٹری تعلیم ظفر وقار تاج، پرنسپل کیڈٹ کالج چلاس لیفٹینٹ کرنل شاہد اور ڈپٹی کمشنر امیر اعظم حمزہ نے پودے لگا کر شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔

امید ہےکہ رواں سال صوبہ بھر میں 40 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے ۔

بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ درخت لگانا کار خیر ہے اور ثواب کا عمل ہے ۔ اجتماعی زندگی میں شجر کاری کی رجحان کو مذید مستحکم کرنے کیلئے آصف اللہ خان کی قیادت میں محکمہ جنگلات کی کاوشیں قابل تعریف ہیں اس کام کو تقویت دینے کیلئے عوام اور کمیونٹی کا اشتراک اور تعاون لازمی جز ہے۔ اس کے علاوہ درخت لگانے کے بعد اس کی تحفظ اور دیکھ بھال درخت لگانے سے زیادہ اہم ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments