استور: داسخریم میں بیماریوں کی وجہ سے درجنوں جانور ہلاک

استور (عبدالوہاب ربانی ناصر ) ضلع استور کے دور افتادہ گاوں داسخریم میں مختلف بیماریوں کی وجہ سے درجن سے زیادہ جانور ہلاک ہونے سے زمیندار وں کا لاکھوں کا نقصان ۔

میڈیا کی نشاندہی پر ضلع استور محکمہ لائیو سٹاک کے ڈپٹی ڈائر یکٹر ڈاکٹر محمد مدثر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ علاقہ کا دورہ کیا ۔ اور جانوروں کو لگنے والی بیماریوں کے حوالے سے تحقیق کے بعد ادویات ایشو کی ۔انہوں نے بغیر بیماری کے اچانک ہلاک ہونے والے جانور کے بارے میں بتایا کہ اچانک مرنے کی دو وجہ ہو سکتے ہیں۔ اول زمنیدار آلو کاشت کرتے وقت مصنوعی کھاد کا استمعال کرتے ہیں اور آلو کے پتے کو لا کر جمع کر کے جانوروں کو چارہ کےطور پر ستمعال کرتے ہیں جو سب سے بڑا زہر ہوتا ہے۔زمنیدار آلو کاشت کرتے وقت بازاری کھاد استمعال کئے ہوئے آلو کے پتوں کو جانوروں کو استعمال سے گریز کریں ۔ اور دوسری وجہ زمیندار سردیوں میں جانور کو سردی کے بچاو کے لیے مویشی خانے کو چاروں طرف سےبند کر کے آکسجین کو اندر داخل ہونے نہیں دیتے ۔ اس وجہ سے اندر نائٹروجن کا دباو زیادہ بڑھ جا تا ہے جسکی وجہ سے جانور کو آکسجین کم ملنے کی صورت میں جانور کےموت کا سبب بن سکتے ہیں ۔

زمیندار روشن دان کو ہلکی کھلی رکھیں تاکہ اندر جانورں کو آکسجین کی ان کی ضروت کے حساب سے فراہم ہو۔

انہوں نے کہا کہ جانوروں کو سردی لگنے سے نمونینہ کی بیماری لگ جاتی ہے جسکا علاج ممکن ہے لیکن آکسجین کی کمی سے مرنے والے جانور وں کا کوئی علاج نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر محکمہ کا عملہ کسی زمنیندار کو ادویات فراہم کرنے اور ڈیوٹی میں کسی قسم کی کوتاہی کرنے کی صورت پر ہمیں اطلاع دی جائے ہم قانو نی طور پر ان کے خلاف کاروائی کرینگے ۔

اہل علاقہ نے حکام بالا سے اپیل کی ہے ویٹرنر ی میں داسخریم کے کسی لوکل پڑھا لکھا اور تجربہ کارآدمی کو اپوائنٹ کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments