مرکزی جامع مسجد چلاس میں‌ “فروغ تعلیم اور فضلا کنونشن”‌کا انعقاد، عصبیت اور تعصب کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان

چلاس ( ڈسٹرکٹ رپورٹر )دیامریوتھ علما کونسل اور اتحاد اسٹوڈنٹس ارگنائزیشن کے زیر انتظام مرکزی جامعہ مسجد چلاس میں “فروغ تعلیم اور فضلا کنونشن ” کے عنوان سے ایک عظیم الشان جلسے کا انعقاد ہوا جس میں ضلع بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں دیامر سے تعلق رکھنے والے 40 نوجوان علماءکی دستار بندی بھی ہوئی۔ تقریب میں دیامر کے جید علمائے کرام نے بھی شرکت کی۔ جلسے سے علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیامر کے علما ءتعلیم کے ہرگز خلاف نہیں ہیں اور عصری تعلیم سے کوئی بھی عالم انکار نہیں کرتا ہے ،لیکن ایک سازش کے تحت علماءکو بدنام کیا جارہا ہے۔دیامر کے علما ء عصبیت اور تعصب کے خلاف جنگ لڑیں گے،عوام عصبیت اور تعصب کے بتوں کو اپنے دلوں سے باہر نکالیں اور علاقے کو امن کا گہوارا بنانے کیلئے کردار ادا کریں،دیامر کے علما ء امن کے داعی ہیں۔مقررین نے کہا کہ دیامر سی پیک کا گیٹ وے ہے اس گیٹ وے کی تحفظ اور ریاست پاکستان کا دفاع ہم فرض سمجھ کر کررہے ہیں۔بدامنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا شکور دیامری نے کہا کہ دیامر محب وطن اور اسلام پسندوں کی زمیں ہے ۔ ہم امن کے متلاشی ہیں اور یہ عمل یکطرفہ ممکن نہیں اور ہمارے امن پسند رویے سے کسی نے غلط فائدہ اٹھایا تو ہمیں جواب دینا بھی آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 40 نوجوان علما کا تیار ہو کر معاشرے کا حصہ بننا نیک شگون ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے انگریز سرکار کے خلاف ہر دور میں مزاحمت کی ہے ۔ اسیر مالٹا سے لیکر آج مولانا فضل الرحمن تک ایک ایک فرد سیاسی عملی جدوجہد کی مثال ہے ۔ انہوں نے تقوی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم میں تقوی پیدا نہیں ہوگا ہمارے اعمال ہمیں فائدہ نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط نظام تعلیم زہر سے کم نہیں ہے ۔ ہم تعلیم چاہتے ہیں مگر اپنی روایات اور اقدار میں رہ کر چاہتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس نے کہا کہ معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے کیلئے درس دینا علمائے کرام کی ذمہ داری ہے ۔ اسلام نے ذات پات رنگ نسل اور تعصبات سے پاک ہونے کی تلقین کی ہے آج ہمیں بحیثیت مسلمان اسلامی اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزارنی چاہئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے اسلام رواداری برداشت اور صبر کی تعلیم دیتا ہے ۔ہمارے علاقے میں اسلام کی اصل روح کی پاسداری نہیں ہو رہی ہے ۔ اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس میں زندگی گزارنے کا بھر پور نظام اور طور طریقے موجود ہیں۔ اسلام دوسروں کو سکون اور دوسروں کی جانیں بچانے کا نام ہے ۔ دیامر کے علمائے کرام پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے گیٹ وے سے پورے خطے کو سکون فراہم کریں اور محبتوں کو بانٹیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبا پر سوچنے کی پابندی تو نہیں ایک اچھے عالم ایک سائنسدان کیوں نہیں بن سکتا۔ کئی برس قبل ایڈسن کا ایجاد کردہ بلب سے آج تک ہم روشنیاں بانٹ رہے ہیں اور اسی روشنی سے مسجدوں میں قرآن مجید پڑھتے ہیں اور یہ روشنی رہتی دنیا تک عالم انسانیت کو سکون فراہم کرے گی اس سے بڑا انسانی راحت کا عمل کیا ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دیامر کے عصری و دینی اداروں کے طلبا جذباتیت سے نکل کر دلیل تحقیق اور تحمل کے رویے کو اپنائیں کیونکہ معاشرتی ترقی رویوں میں توازن لانے اور برداشت سے ممکن ہے …… انہوں نے کہا کہ دیامر میں علما کی بات سنی جاتی ہے اس لیئے علمائے کرام کو چاہئے کہ وہ انسانیت اور تعلیم چارٹر کو عام کریں، انسانیت اور علم سے بڑی چیز کائنات میں کہیں نہیں ہے ۔ تقریب سے مولانا عبد المالک اور مولانا مزمل شاہ نے کہا کہ داریل اور تانگیر کے اضلاع کا اعلان علماء کے مطالبے پر عمل میں لایا گیا ہے جس پر علماء وزیر اعلی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔جلسے سے ڈاکٹر شاہنواز رحیم شاہ،سرفراز،محمد بلال، و دیگر نے بھی خطاب کیا۔جلسے کے آخر میں متفقہ طور پر ایک قرار داد بھی پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ دیامر یونیورسٹی کیمپس میں علما ء کا خصوصی کوٹہ مقرر کیا جائے،امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی جائے،تقی عثمانی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو سخت سزا دی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments