بروشسکی شعر و ادب اور مقصود علی حسرت کی شاعری

بروشسکی زبان کا شمار دنیا کے قدیم زبانوں میں ہوتا ہے۔
ماہرین لسانيات کا کہنا ہے، کہ یہ زبان سیکنڈ  ملینیم میں سینڑل ایشیا میں بسنے والے لوگوں کی مشترکہ زبان ہوا کرتی تھی۔
یہی نہیں بلکہ سنسکرت زبان کے بہت سارے الفاظ اور بروشسکی زبان کے الفاظ میں مماثلت پائی جاتی ہے ،رگ وید ہندوؤں کی مقدس کتاب ہے، ماہرین یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ رگ وید میں بھی ایسے لاتعداد الفاظ موجود ہیں، جن کی مماثلت بروشسکی زبان کے الفاظ سے ہوتی ہیں۔محققین کے نزديک ہزاروں سال قبل بروشسکی زبان بون مذہب کے ماننے والوں کی مشترکہ زبان تھی، اور اس دور میں بروشسکی زبان کا رسم الخط  بھی وجود تھا۔ اس حوالے سے میں نے بروشسکی زبان کے محققیق جناب وزیر شفیع  صاحب سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ بون مذہب کے پیروکاروں کا وجود سری لنکا میں آج بھی ہے،اور ان کے پاس قدیم بروشسکی رسم الخط ہنوز باقی ہے۔

مقصود علی حسرت کی تصویر

دنیا کی وسیع و عریض  خطے میں پھیلی ہوئی زبان آج اپنی وجود کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ اس کے زوال کے محرکات سے پردہ اٹھانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ تاحال ماہرین ان حالات و واقعات کا پتہ لگانے میں نا کام نظر ارہیں ہیں ،کہ یہ زبان کن وجوہات کی بنا پر  زوال پزیری کا شکار ہو گئی،اور سمٹ کر یاسین اور ہنزہ نگر تک محدود ہو گئی۔
شندور سے لے کر چلاس تک ایک طرف اور دوسری طرف بلتستان سے خنجراب تک بیشتر جگہوں کے نام بروشسکی زبان میں ہیں۔یہ اس بات کی غماز ہے کہ بروشسکی زبان کبھی ان جگہوں کی بھی مشترکہ زبان ہوا کرتی تھی۔لیکن گردش ایام نے اس تہذیب کو موہوم دھندلاہٹ کے ساتھ افق پر ڈوبتا چھوڑ کر کسی برق کی طرح منزل بہ منزل اگے چلتا گیا۔
یہ زبان وقت کی اندھیوں میں دھندلا تو گیا ہے ،لیکن اپنی وجود کے نقش پا کسی نہ کسی سمت ضرور کہیں ثبت کی ہوگی۔
تلاطم خیز موجوں میں گھیری ہوئی کشتی کے مانند  آج یہ زبان دوسری تہذیبوں کی یلغار کے ذد میں ہے۔
تہذیب ثقافت سے بنتی ہے،ثقافت میں رسم و رواج،شادی بیاہ ،رہن سہن کے طور طریقے ،تاریخ،لباس ،رسم الخط،تہوار ،ادب ،شعر و شاعری وغیرہ شامل ہیں ،ان تمام عوامل کی باہم ملاپ سے معاشرہ موجود میں اتا ہے۔
ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے ان تمام عناصر کا ہونا لازمی ہوتا ہے ۔ ان میں سے کسی ایک عنصر کا غیر فعال ہونا زوال پزیر معاشرے کی نشاندہی کرتی ہے۔
بدقسمتی سے حالیہ دنوں گلگت بلتستان کے نوجوان نسل ثقافت کو ایک الگ انگل سے دیکھ رہیں ہیں،الٹی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مترادف یہ نوجوان نسل ناچ  کو ثقافت کا لبادہ اڑنے کی ناکام کوشش میں سرگرداں نظر ارہیں ہیں، اپنی تاریخ سے نا آشنا، اپنے اسلاف کے ناموں، ان کے کارناموں سے لاعلم ،صرف دھول کی تھاپ پر رقص، ثقافت نہیں ہوتی ، بلکہ یہ ثقافت کا ایک چھوٹا سا جز ہوتا ہے۔
قول مشہور ہے کہ اگر کسی قوم کا مزاج جاننا ہو ،تو اس قوم کے شعرا کی شاعری پڑھو ، اور انکی موسیقی سنو،اگر ان کے شعرا کی شاعری نے  اپکی دہکتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا، تو سمجھ جانا وہ قوم مہذب قوم ہے۔
موسیقی روح کی غذا ہوتی ہے۔  انسان جب غم روزگار سے فراغت پاتا ہے، تو موسیقی ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو سماعتوں سے ٹکرا کر دل و دماغ میں رس کھولتا ہے ،اور روح میں سرایت کر جاتی ہے۔ غم و عالم کے گہرے سمندر میں اترے ہوئے  اداس دلوں کو ایک دم کنارے پے لے اتا ہے، مرجھائے ہوئے چہرے کھل اٹھتے ہیں، ناامیدی کے گھپ  اندھیرے میں موسیقی دور تلک امید کی کرن  پیدا کرتی ہے۔
بروشسکی زبان میں شاعری موجود ہے ۔ایک صدی قبل کی شاعری کا اب تک سراغ نہیں مل سکا، تاہم انیسویں اور بیسویں صدی کے کچھ گمنام شعرا کی شاعری ہر زبان زد عام و خاص ہے۔ دور قدیم کی شاعری میں آٹھ ، دس کلام ایسے ہیں جن کو ہر دور میں شہرت ملی، اور ہر دور میں لوگوں نے سراہا اور گنگنایا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں مچھی بب کا لکھا ہوا ایک کلام جس کو اچھی خاصی شہرت ملی تھی۔اس کے بعد بروشسکی  شاعری  کو خاطر خواہ ترقی نہیں مل سکی ۔ 1933 سے 1995 تک بروشسکی  زبان کی شاعری جمود کا شکار رہی۔ادب  کے حوالے سے ان ادوار کو  بنجر تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ ان عشروں میں بروشسکی ادب میں بڑے شعرا پیدا نہیں ہوئے۔
سن ٢٠٠٠ کے بعد حالات یکدم تبدیل ہونا شروع ہوئے۔اور کئی نامور شعرا اس  دور میں پیدا ہوئے۔اور اپنی شاعری کے زریعے بروشسکی ادب کو بام عروج پر پہنچا دیا، یہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنی شاعری میں کمال مہارت سے ان الفاظ کا چناؤ کیا، جو بروشسکی زبان سے معدوم ہوتے جا رہے تھے۔
ان دور اندیش شاعروں میں جناب مقصود علی حسرت کا نام صف اول میں اتا ہے۔ حسرت صاحب نے بروشسکی ،کھوار،اور اردو زبان میں شاعری کی ہے۔
انکے بلند خیالات کی جھلک انکی شاعری میں صاف نظر اتی ہے۔ الفاظ کو شاعری کے سانچے میں ڈالنے  کا ہنر خوب جاتے ہے۔
انکی شاعری میں زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔حتیٰ کہ قومی ایشوز پر بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نہ خود پر خوف کا سایہ پڑنے دیا اور نہ ہی انکا قلم ڈگمگا گیا، بلکہ بے خوف و خطر اپنے خیالات کو الفاظ کا روپ دیتے رہے ہیں۔
مقصود علی حسرت اپنی مٹی،  اپنے وطن(یاسین) سے محبت کا اظہار اپنی ایک نظم میں یوں کرتے ہیں۔

”مذہب ، زبان ،قومینگ الگ چھن دوا
ننگ کا ناموس می یاسینیچو ہن دوا

غاناس با کا نوکو اسمبر غانے
کشمیر بے چوم با تے بُٹ متھن دوا“
مطلع میں یاسین کی گوناگونی اور رنگارنگی کو اور ساتھ ساتھ بھائی چارہ گی کو بیان کیا ہیں۔اور فرماتے ہیں کہ یاسین میں بسنے والے تمام افراد ایک خاندان کے مانند ہیں۔یہاں پر کوئی نسلی ،فرقہ وارانہ  اور لسانی تضادات سرے سے موجود نہیں ہیں۔یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے غمگسار ہیں۔
دوسرے شعر میں وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے حسرت لکھتے ہیں کہ لوگ سیر و سیاحت کے غرض سے دور دراز کے علاقوں کا سفر کرتے ہیں،جن میں کشمیر ،مری وغیرہ شامل ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ دیکھنا ہے تو اسمبر جاؤ ،اسمبر سندھی گاؤں کا ایک خوبصورت ویلی ہے،یقیناً موسم بہار میں اسمبر اپنی خوبصورتی میں دیگر علاقوں کو مات دیتا ہے۔
اپنی ماں سے محبت کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں۔

”نانی مو مہر داسولے چھیل جوا
ھےشنگ چُھم ماتن گوچیمی میل جوا

موسکیلچا شوا غان ہک خدایا لیل
غم خدوگ گوسوم دوشیمی ہیل جوا“
ان اشعار میں شاعر فرماتے ہیں، کہ والدہ کی جو محبت ہے وہ ریگستان میں نخلستان کے مانند ہے،جو ایک مسافر کے لئے اب حیات سے کسی طور کم نہیں۔
اور کہتے ہیں کہ ماں کی محبت ایک ایسا سرور ہے جو غم دوران  کے تمام الجھنوں سے بے نیاز رکھتا ہے،اور یہ ماں کی محبت ہی ہے جو کہ دل کی ساری بیماریوں کا علاج ہے،اس کی چہرے کی طرف دیکھنا ہی عبادت ہے۔
گو کہ حسرت کی شاعری کا احاطہ ایک کالم میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے،
بہرکیف حسرت اپنی شاعری کی بے قدری اور زمانے کی ستم ظرفی کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔
”حسرت گو غرے قدر کھوت دنیا  غا لیل اپی
اُن دیلکھ ماکوچا غندیشے فلجونگ لیپ اچوم با“
اپنی شاعری کی بے قدری پر دنیا والوں سے شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” حسرت تیری شاعری کی قدر یہ معاشرہ کیا جانے ،ان جوہرات کو سمیٹنے والا ایسا قدردان یہاں کوئی نہیں ہے“

مقصود علی حسرت ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک سماجی ورکر کے ساتھ ساتھ ایک مخلص اور ملنسار انسان بھی ہیں۔شوخی و شنگی کا عنصر انکی طبیعت میں شامل ہے۔ سن ٢٠٠٨ میں راقم نے بروشسکی زبان کی تحفظ کے لئے ایک تنظیم ”تحفظ بروشسکی موومنٹ “ کی بنیاد رکھی تو حسرت صاحب اس تنظیم کے جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے۔ایک عرصے تک اس تنظیم کے ساتھ وابستہ رہے۔
حالیہ دنوں یاسین آرٹس کونسل کے ساتھ وابستہ ہے اور اپنی شاعری کے زریعے نوجوانوں میں اگاہی اور شعور پیدا کرنے میں پیش پیش ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments