بہار کی آمد اور زندگی کی ایک نئی لہر

تجریر: محمود علی فتاکن

وقت کے ساتھ ساتھ قدرت کے کچھ اصولوں میں بھی تبدیلیاں ہوتیں رہتیں ہیں، انسان کی زندگی وقت اور موسم پر انحصارہے: دن رات مصروفیات میں مشغول رہنا، سرد اور گرم موسم میں خود کو تیار کر لینا، صبح کو کام پر جانا اور شام کو واپس گھر پر لوڑآنا شامل ہے جو کہ یہ سارے کام وقت کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ اِس جدید دور میں ہر فرد کے پاس نیئی ٹیکنالوجی کی بنی ہویئ چیز موجود ہوتی ہے جو روزمرہ کی زندگی میں ایک اہم کردار سرانجام دیتی ہے۔ جدید موبایئل فون کو ہی لے لیجییئے جس کے اندر نیئے نیئےApps موجود ہیں جس کی وجہ سے فرد دنیا کے ساتھ خود کو منسلک کرتا ہے ا ور یہی وہ Apps ہیں جن کے ساتھ جوڑکر آج کے انسان اپنی زندگیوں کو گزار رہے ہیں۔

سوشل میڈیا بھی اس Appمیں شامل ہے جس نے حال ہی میں انقلاب برپا کر دیا ہے اورلوگ اس کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ روز مرہ کی زندگی اس کے ساتھ ملا دی گیئی ہے، لوگ سوشل میڈیا (فیس بک،وٹزاپ،یوٹیوب وغیرہ)سے اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور ہم جماتوں کے ساتھ بات چیت کرتے رہتے ہیں اور اگر کسی کی موت ہو جاتی ہے تو اِس خبر کو سوشل میڈیاپر دی جاتی ہے، اگر ِان کے دورکے رشتہ دار کسی دوسرے ملک یا شہر میں رہتے ہو وہ اس غم میں شریک نہیں ہو سکتے ہو، لیکن فیس بک کے ذریعے ان کے دکھ میں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں اور آ خر تک ہم رشتہ ہوتے رہتے ہیں۔یہی نہیں فیس بک نے جد ید انسان کی سوچ میں فرق پیدا کیا ہے، ایک فرد امریکہ میں زندگی بسر کر رہا ہو وہ گلگت بلتستان کی حالات زندگی سے واقفیت رکھتا ہے۔ ایسا کیوں؟ کیونکہ فیس بک پر امریکی اور گلگتی فرنڈز ہیں اور ایسی بہت سارے Pages فیس بک پر موجود ہیں جو علاقے کو Explore کرنے میں کلیدی کام سر انجام دیں رہے ہیں، ان ہی Pages کے ذریعے گلگت بلتستان کی کلچر،آب و ہوا اور خوبصورتی دنیا کو دکھانے کا میشن اٹھالیے ہیں اور اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے تاریخدان،ادیب اور صحافی جو کہ ہسٹری،لیٹریچر اور لانگویجزپر مبنی تحریرے لکھتے ہیں اور معاشرے میں اہم کردار ادا کر ر ہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے سیکڑوں لوگ وطن سے دور پردیس میں زندگی گزار رہے ہیں اورجدید دنیا سے واقفت کو برقرار رکھے ہویئے ہیں۔ لیکن وزنی بات یہی ہے کہ گلگت بلتستان کے نوجوان اس وقت امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک میں روزگار اور اچھی تعلیم کے مقصد کے لیے زندگی صرف کر رہے ہیں جو کہ ایک فایئدہ مند چیز ہے۔دنیا کے دوسرے معاشرے میں رہتے ہویئے ان کی کلچر کا مطالعہ کرنا، ان کی تاریخ پڑھنا، اور ان کی رہن سہن سے بھی واقف ہونا شامل ہے،اس سے نوجوانوں میں شعور اور وطن سے محبت کی خواہش پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں یہ نوجوان Online اخبار اور مکیزین چلا رہے ہیں جس کی وجہ سے آج دنیا کے سامنے گلگت بلتستان کی اپنی پہچان بنی ہویئی ہے۔ ان Online اخباروں کے ذریعے نوجوانوں میں بیداری کی جوش اور محب وطن کا پیغام دے رہے ہیں۔

اس وقت پورے گلگت اور بلتستان میں موسم گرما کا مہینہ آیا ہے جبکہ پورے علاقے سرسبزوشاداب نظر آ ر ہے ہیں، حسین وادیاں اور صاف شفاف پانی کے نہرے بہہ رہے ہیں۔ لوگ اپنے کھیتوں میں مصروف ہیں اور قدرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، دنیا کے غموں سے دور خوشیوں کی ایک نیئی سماں باندھ رہے ہیں۔گلگت کے کچھ علاقے ایسے بھی ہے جہاں بہار کا موسم ابھی ابھی آیا ہوا ہے اور ڈھیر ساری خوشیاں ساتھ لایا ہے۔جی ہاں! یاسین کے گاؤں درکوت (جو کہ افغانستان کا علاقہ وخان پٹی سے جوڑھا ہوا ہے)میں بہار کی آ مد ابھی ابھی ہویئ ہے، لوگ جدید دنیا کو ترک کر کے اس وادی میں قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنے کھیتوں کا رخ کر رہے ہیں۔ جدید مشنری کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ لوگ بیلوں کی مدد سے ہل چلا رہے ہیں۔ہل چلاتے چلاتے مذاق مستی یہاں کے لوگوں کی روایت بنی ہویئی ہے۔ بہار کی آ مد سے ان کی زندگیوں میں خوشیوں کی ایک نیئی لہر دوڑ رہی ہے۔ یہاں پر بات درکوت کی ہو رہی ہے جوکہ گلگت شہر سے تقریبا 200 کلومیٹراور یاسین کے گاؤں طاؤس سے تقریبا20سے 25 کلو میٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔ بہار کی خوبصورتی کو لوگ سو شل میڈیا پر مختلف فٹوگرافی کے ذریعے تصویریں اپلوٹ کر رہے ہیں اور ظاہر کر رہے ہیں کہ علاقے میں بہار کا موسم حسین انداز میں رواں دواں ہے جس سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری ہویئیں ہیں۔

اس علاقے کے لوگ سادہ،مہمان نواز اور خوش دل ہوتے ہیں،انھوں نے سیاحوں کو کبھی اجنبیت کا احساس نہیں دیا۔ سیرو تفری کے لیے درکوت اور یاسین کے دوسرے علاقے مفید جگے ہیں جہاں فیملی کے ساتھ دل کو سکون و قرار دیلانے کے لیے پرفیکٹ ڈسٹینیشن ہے۔امر اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اس الیکٹرونک لایئف سے دور کچھ وقت نکال کر ان خوبصورت جگوں کا وزٹ کر ے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments