تحریک انصاف گلگت بلتستان پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے سیاسی نقل مکانی کرنے والے موسمی پرندوں کا قبضہ

چلاس(تجزیاتی رپورٹ: محمدقاسم سے) پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کی صوبائی کابینہ پر مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سے  سیاسی نقل مکانی کرنے والے موسمی پرندوں کا قبضہ۔عام انتخاب کا بگل بجنے سے قبل وفاداریاں تبدیل کرنے کے ماہر سیاسی شخصیات نے اپنا سیاسی قبلہ پی ٹی آئی کی طرف کر دیا، اور صوبائی کابینہ کے اہم عہدے حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔جبکہ پارٹی سے نظریاتی محبت اور احترام کا رشتہ رکھنے والے پارٹی ورکرز مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں۔
سیاسی آشیانہ بدلنے والوں میں پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے صدر جعفر شاہ سرفہرست ہے، جو ماضی میں پی پی پی گلگت بلتستان کا صوبائی صدر رہے اور پی پی پی کے دور اقتدار میں خوب فوائد حاصل کیں۔ بعد ازاں انہیں مرکزی قیادت نے چیف کورٹ میں جج بھی تعینات کیا۔مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد عام انتخابات 2015 میں پی پی پی کی انتخابی مہم میں انہوں نے خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بعد ازاں نو منتخب صوبائی صدر پی پی پی گلگت بلتستان امجد حسین سے سیاسی ناپسندیدگی کی وجہ سے پارٹی سے علم بغاوت بلند کر کے کپتان کی ٹیم میں شامل ہو گئے۔
اسی طرح، سینیر نائب صدر شاہ ناصر بھی ماضی میں پی پی پی دیامر کا جیالا رہا بے۔ نظیر بھٹو کی شہادت پر جلاو گراو کے بعد سٹی  تھانہ چلاس میں درج کیس  کی وجہ سے جیل کے سلاخوں کے پیچھے بھی رہا۔
جنرل سکریڑی فتح اللہ خان مسلم لیگ گلگت بلتستان کے ساتھ وابسطہ تھے عام انتخابات 2015 میں ن لیگ کے ساتھ لو اور دو فارمولہ کامیاب نہ ہوسکا اور وہ پی ٹی آئی کی کشتی میں سوار ہو کر سیاسی مسقبل کی پناہ لینے میں کامیاب رہا۔
نائب صدر کرنل (ر) عبیداللہ بیگ عام انتخابات 2015 میں  ن لیگ کی ٹکٹ کے لئے کوشش میں مصروف رہے، مگر سب کوششیں رائیگاں جانے کے بعد انہوں نے بھی اپنا کاروان بدل دیا۔
بلتستان سے اسد زیدی کا بھائی امجد زیدی آخری دم تک  پی پی پی کا  وفادار رہا مگر جب پی ٹی آئی کی طوطی سر چڑ کے بولنے لگی تو وہ بھی پی ٹی آئی کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔
بلتستان سے ایک اور مرد قلندر تقی اخوند زادہ تحریک جعفریہ کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے ن لیگ سکردو کے سیکریٹری  اطلاعات سے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔
دیامر سے ڈیٹی جنرل سکریٹری نوشاد عالم کا شمار  ن لیگ جی بی کے اہم رہنماوں میں ہوتا تھا عام انتخابات میں ن لیگ کا  ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی کی پالیسیوں سے بغاوت کرکے پی ٹی آئی کی چھتری کے تلے عام  انتخابات 2015 میں حصہ لیا اور ناکام رہے۔
ڈپٹی جنرل سکریٹری آمنہ انصاری بھی ماضی میں ق لیگ کے پلیٹ فارم سے رکن اسمبلی منتخب ہوئی اور ق لیگ کا چرچا ختم ہوتے ہی وہ کپتان کی ٹیم کا حصہ بن گئی۔
پی ٹی آئی کے اہم عہدوں میں مفاداتی ٹولے کا قبضے کئ وجہ سے نظریاتی  ورکروں میں انتہائی غم و غصہ پایا جاتا پے۔اور پارٹی کے چئرمین عمران خان کو عام ورکروں کو اہم عہدے دینے کے وعدے خاک میں مل گئے ہیں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments