یاسین: ساٹھ ہزار کی آبادی کے لئے تین میڈیکل آفیسرز تعینات، خاتون میڈیکل آفیسر کی آسامی عرصہ دراز سے خالی

یاسین ( معراج علی عباسی) 60 ہزار سے زیادہ ابادی پر مشتمل سب ڈویژن یاسین کے عوام کو  علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے محکمہ صحت غذر اور محکمہ پی پی ایچ آئی کے جانب سے صرف تین میڈیکل آفیسران تعینات ہے۔محکمہ صحت غذر کے زیرنگرانی سب ڈویژن یاسین کے 60 ہزار ابادی کی بوجھ اٹھانے والی سول ہسپتال طاؤس میں کنٹریکٹ پر خدمات سرانجام دینے والے دو میڈیکل آفیسران موجود ہے۔جبکہ سول ہسپتال طاؤس میں لیڈی میڈیکل آفیسر کی پوسٹ عرصہ دراز سے خالی پڑی ہے۔ہسپتال میں موجود جدید  ڈینٹل یونٹ میں ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث جدید ڈینٹل یونٹ کوچلنے کے لے محکمہ صحت غذر نے ایک ڈینٹل ٹیکنیشن مقرار کیا ہے۔محکمہ صحت غذر کے انڈر کنٹرول یاسین کا  دور دراز بالائی علاقہ تھوئی میں موجود   اے کلاس ڈسپنسری تھوئی ،اے کلاس ڈسپنسری گنداے اور سب ڈویژنل ہیڈکوارٹر یاسین خاص میں  انگریزوں کے دورمیں قائم ہونے والی اے کلاس ڈسپنسری یاسین خاص میں میڈیکل آفیسران کے آسامیاں گزشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہے۔محکمہ صحت غذر نے سب ڈویژن یاسین میں موجود صحت کے مراکز میں میڈیکل آفیسران کے سیٹوں کو نرسنگ اسسٹنٹ کے سپرد کررکھا ہے۔دوسرے جانب پی پی ایچ آئی غذر کے زیرنگرانی چلنے والی شہید لالک جان ہسپتال ہندور یاسین میں ڈیوٹی پر تعینات میڈیکل آفیسر گزشتہ 8 مہینوں سے غائب ہے ۔ہندور جیسے دورافتادہ علاقے میں میڈیکل آفیسر کی عدم دستیابی سے عوام کوصحت کے حوالے سے شدید مشکلات درپیش ہے۔شہید لالک جان نشان حیدر کے نام پر قائم ہسپتال میں میڈیکل آفیسر کا نہ ہونا صوبائی حکومت ،محکمہ صحت غذر اور پی پی ایچ آئی کی مجموعی کارکردگی کا ثبوت ہے۔یاسیین کے عوامی حلقوں نے نو تعینات سیکرٹری صحت گلگت بلتستان ظفروقار تاج سے مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ سب ڈویژن یاسین میں صحت کے حوالے سے درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوے یاسین میں موجود صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں کی تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کاردار ادا کریں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments