چترال کے سیلاب سے متاثر وادی گولین میں‌آبنوشی اور آبپاشی کے مسائل بڑھ رہے ہیں، مقامی افراد حکومت سے مایوس

چترال (بشیر حسین آزاد سے) گولین وادی میں گلیشیر کے پھٹ جانے سے متاثرہ، موری پائین، برغوزی، بکہ اور کوجو بالا کے عوام نے ابپاشی اور ابنوشی کا مسئلہ حل نہ ہونے پر حکومت کو سخت ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ احتجاج پر اتر آئے تو ان کے سامنے دو ہی راستے ہوں گے جوکہ مسئلے کا حل یا تو ماشیلیک کے مقام پر تادم مرگ دھرنا ہوگا کیونکہ حکومت نے ان دیہات کے عوام کی مشکلات اور مصائب سے منہ موڑ لی ہے۔ ان علاقوں میں پانی سپلائی کرنے والے سائفن سسٹم کے پائپ 7جولائی کو گولین ویلی میں گلیشیر کے پھٹ جانے کے نتیجے میں سیلاب برد ہوگئے تھے۔

جمعہ کے روز چترال پریس کلب کے زیر اہتمام ان متاثرہ دیہات میں منعقدہ  ”پریس فورم“میں اظہار خیال کرتے ہوئے متاثرین نے کہاکہ گولین ندی سے موری پائین گاؤں کے 130عدد پائپ، برغوزی کے 110عدد اور کوجو کے 100عدد پائپ سیلاب میں بہہ جانے کی وجہ سے ان علاقوں میں گزشتہ 50دنوں سے پانی کی سپلائی مکمل طور پر بند ہوگئی ہے اور حکومت کے لئے یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ صرف 340عدد واٹر پائپ کی فراہمی دو ماہ میں بھی نہیں ہوسکی۔

مقامی افراد چترال پریس کلب کے زیر اہتمام فورم کے دوران اپنے مسائل بیان کر رہے ہیں

موری پائین میں فصلوں، سبزیوں اور باغات کی نشاندہی کرنے کے بعد علاقے کے باشندے خواجہ امان اللہ، ولی محمد،فضل ربانی، بہادر خان، فضل امین، سید احمد، محمد غفار، زمبول خواجہ، محمد اعظم شاہ، کریم اللہ اور گل حیدر نے کہاکہ 182گھرانوں پر مشتمل اس گاؤں میں ابپاشی اورابنوشی کے لئے پانی کا دارومدار ان سائفن پائپ لائن پر تھا جوکہ گولین گول سے لائے گئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اس علاقے کی زرخیز زمین سے نہ صرف مقامی لوگ اپنی ضرورت کے مطابق گندم، جوار، ماش، سبزی اور پھل اُگاتے تھے بلکہ اپنی ضرورت سے زائد مقدار کو فروخت کرکے کیش کماتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ اوسطاً فی گھرانہ ہر سال 70ہزار روپے کے مختلف خشک چارہ جات،80ہزار روپے کے جوار،لوبیااور مونگ، 60ہزار روپے کے آنار دانہ، 40ہزار روپے کے ناشپاتی فروخت کرتے تھے لیکن اس سال پانی کی سپلائی 7جولائی سے منقطع ہونے کی وجہ سے یہ آمدنی صفر ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں غربت کا اندازہ ہر کوئی کرسکتا ہے جبکہ علاقے میں چارہ جات کے سوکھ جانے کی وجہ سے گائے، بیل، اور بھیڑ بکری پالنا بھی دشوار ہوگئی ہے جس سے ان کی معیشت مزید ابتر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی سرد مہری سے تنگ آکر گاؤں والوں نے پائپ لائن اپنی مدد آپ کے تحت بحال کرنے کی کوشش میں گاؤں کے تین قیمتی نوجوانوں کی جانیں کھوبیٹھے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی مسلسل خاموشی سے تنگ آکر اب وہ فیصلہ کن احتجاج پر اُترآنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے حکومت کی دوغلاپن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف پی ٹی آئی حکومت سونامی پراجیکٹ کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے تو دوسری طرف موری پائین میں کئی سو ایکڑ پر پھیلی جنگل کو خشک ہونے کے لئے چھوڑ دیا جہاں لاکھوں پرانے پھلدار اور غیر پھلدار درخت اور پودے تلف ہونے کے قریب ہیں۔

برغوزی گاؤں کے حمیداللہ، ظفر احمد، شاکر اللہ، احمد خان، بہلول دانہ، دینار خان، رضوان اللہ ایڈوکیٹ نے کہاکہ ان کے گاؤں میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے حالات نہایت ابتری کی طرف جارہے ہیں اور علاقے کے مکین ہجرت کرنے پر مجبور ہیں لیکن جائیں تو کہاں۔ ان کا کہنا تھاکہ ساٹھ سال سے زائد عمر کے پھلدار اور غیر پھلدار درخت سوکھ جانے، جوار،ماش اور دوسرے فصل اور سبزیاں تلف ہونے کی وجہ سے ان کی معیشت برباد ہوگئی ہے جبکہ چارہ جات نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے گائے، بیل، بھیڑ بکریاں اونے پونے داموں پہلے ہی فروخت کرچکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کاا ظہار کیاکہ ڈپٹی کمشنر چترال نے ان کو صرف تین دن کے اندر اندر سائفن پائپ مہیا کرکے پانی کی سپلائی بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن چالیس دن گزرگئے اور یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ 8انچ قطر اور 20فٹ لمبائی کے صرف 340عدد پائپ مہیا کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن حکومت اپنی بلند بانگ دعوؤں کے باوجود اس میں ناکام ہے اور یہ بات حکومت کے لئے باعث شرمندگی ہے۔ انہوں نے کہاکہ علاقے میں انتہائی اضطراب پھیل گئی ہے اور وہ سڑک کی بندش کا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں جس کے لئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے جبکہ اس کے نتیجے میں امن وامان کی تمام ترزمہ داری حکومت پر عائد ہوگی جوکہ اپنی فرض منصبی ادا کر نے سے پہلو تہی کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ متاثرہ علاقوں نے گزشتہ 50دنوں کے اندر حکومت کے مختلف ذمہ دار افسران کے درپر اپنی فریاد سناتے رہے لیکن بات آخر میں ڈی سی لویر چترال اور ٹی ایم او کے درمیان اٹک جاتی ہے کیونکہ ڈی سی نے ٹی ایم او کو مسئلہ حل کرنے کے لئے لکھا تو انہوں نے اس میں کوئی تکنیکی بات تلاش کرکے اس بنا پراس پر مزید کاروائی سے صاف انکارکیا۔ انہوں نے کہاکہ برغوزی گاؤں سے پرندے اور چرندے بھی ہجرت کرکے جارہے ہیں اور اب انسانوں کی باری ہے۔

مقامی افراد آپباشی کے مسائل بیان کر رہے ہیں

کوجوبالا میں سابق ممبر تحصیل کونسل حاجی محمد شریف خان، محمد اعظم، حاجی غلام مصطفی، معتبر شاہ، انجینئر رحمان الدین اور دوسروں نے کہاکہ کلین اینڈ گرین پاکستان کے دعویدار ں نے کوجو بالا میں ہزاروں پھلدار درختوں کو سوکھنے کا سامان پیدا کیا۔ انہوں نے کہاکہ کوجوگاؤں انگور اور آنار کی پیدوار کے لئے مشہور ہے جہاں سے قومی مارکیٹ کو بھی سپلائی ہوتی ہے لیکن اس سال سائفن پائپ کے سیلاب برد ہونے اور حکومت کی طرف سے خاموشی برتنے کی وجہ سے یہ پیدوار زیر وہوکر رہ گئے جس کے نتیجے میں مقامی کسانو ں کو لاکھوں روپے کا نقصان لاحق ہوا۔ انہوں نے حکومت سے نہ صرف پانی کی سپلائی بحال کرنے بلکہ متاثرہ کسانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہاکہ علاقے میں جوار کی فصل کو بچانے کے لئے دریا سے پٹرول جنریٹر چلاکر پانی لانے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا لیکن کسانوں کی قوت برداشت سے باہر ہونے کی وجہ سے اس کا سلسلہ بھی منقطع کردیا گیا جس سے جوار اور مونگ کے ساتھ ساتھ سبزی بھی متاثر ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک چکورم پر فصل کو سیراب کرنے کے لئے 2200روپے پٹرول خرچ ہوتا تھا۔

سیلاب کے بعد تباہی مچ گئی جس سے پانی کی لائینیں بھی متاثر ہوگئیں۔ دو ماہ گزرنے کے باوجود لائنز کی مرمت نہیں ہوپائی ہے۔

گولین کے بکہ گاؤں کے رہائشیوں معتبر شاہ، عبدالرؤف، عبدالرزاق، سرفراز شاہ، شاکر احمد اور دوسروں نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ دو ماہ گزرنے کے باوجود ان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اب تک سیلاب برد مکمل گھر کے لئے ایک لاکھ روپے اور جزوی کے لئے پچاس ہزار روپے کا معاوضہ دیا گیا ہے جوکہ سراسر مذاق ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے گاؤں میں تباہی کا ذمہ دار واپڈا ہے جس کی غلط ڈیزائن اور سروے کی وجہ سے ان کے گاؤں کو سیلاب سے نقصان پہنچا۔ا نہوں نے کہاکہ ایک ہفتے کا وعدہ حکومت نے کیا تھا لیکن اب دو ماہ گزرنے کے بعد گاؤں کے چار مختلف ابپاشی کی نہریں بحال نہ ہوسکے اور نہ ہی ابنوشی کے اسکیم مکمل ہوئے اور نہ سیلاب برد دکانوں، گیراجوں اور گھروں کے معاوضے ادا ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ان کے مطالبات پورا نہیں ہوتے، تو واپڈا کے ٹھیکہ دار کی مشینریاں وادی سے باہر جانے نہیں دئیے جائیں گے۔

  جب اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لویر چترال نوید احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ ڈیزاسٹر سے متاثرہ انفراسٹرکچرز کی بحالی کے لئے فنڈز کی منظوری کاپراسس جاری ہے اور جوں ہی یہ ریلیز ہوتے ہیں، وہ ایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیر ان متاثرہ دیہات کا مسئلہ حل کرے گا جوکہ واقعی تکلیف میں مبتلا ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments