یاسین کے بالائی گاوں‌میں‌نامعلوم افراد نے تین سو سال قدیم پُل کے دس فٹ حصے کوکاٹ کر دریا میں بہادیا

یاسین( معراج علی عباسی) یاسین کے بالائی گاؤں سندھی میں موجود 1705 کو تعمیر ہونے ولی 3 سو سالہ قدیم تاریخ لکڑی کے پل کو اتوار کے رات کو نامعلوم دہشگردوں نے تیزدھار آلات سے کاٹ کر پل کے دس فٹ سے زیادہ حصے کو دریا میں بہا دیا ہے۔ قدیم تاریخی پل کو گرانے کے خلاف علاقے کے عوام نے شدید احتجاج کیا ہے ۔عوامی درخواست پر یاسین پولیس ابتدائی رپورٹ درج کرکے قانونی تفتیش کا آغاز کیا ہے۔

ممبر قانون ساز اسمبلی راجہ جہانزیب نے یاسین کے قدیم تاریخی پل کو گرانے پر شدید براہمی کا اظہار کرتے ہوے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ،کمشنر گلگت ڈویژن،ڈی سی غذر اور ایس پی غذر سے رابط کرکے واقع میں ملوث ملزمان کے خلاف فوری طور پر انسداد دہشتگری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ممبر قانون ساز اسمبلی نے فوری طور پل کو دوبارہ تعمیر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اس موقع پر ممبرقانون ساز اسمبلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔قدیم تاریخی پل کو کاٹ کر دریا میں بہانا کھلی دہشتگردی ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اور گلگت بلتستان انتظامیہ واقع میں ملوث افراد کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرے ۔ انہوں نے کہا واقع ملوث افراد کے خلاف دہشتگردی ایکٹ سے کم مقدمہ کو ہم کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے ۔دریں اثنا قائم مقام اسسٹنٹ کمشنر یاسین زاہد حسین نے پل کا معائنہ کیا ۔واقعے کو دشتگردی قرار دیتے ہوے ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا یقین دلایا جس پر جاے واقعہ میں موجود عوام پور امن طور پر منتشر ہوگے۔عوام علاقہ نے اپنے مدد آپ کے تحت چندہ اکھٹا کر کے فوری طور پر تاریخی اہمیت کے حامل گشنبس نامی پل کے ضائع کردہ حصے کو دوبار تعمیر کرنے کا کام شروع کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments