دیامر تعلیمی جرگہ، شکریہ فورس کمانڈر ناردرن ایریاز

تحریر:شفیع اللہ قریشی

کسی بھی معاشرہ، قوم اور ملک کی ترقی کا دارومدار علم پر ہوتا ہے جس معاشرے میں کتاب پڑھنے والے بکثرت ہوتے ہیں وہ معاشرہ کبھی زوال پذیر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اگر نظر دوڑائیں کہ مغربی دنیا میں کتاب دوستی بہت زیادہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی دنیا کا معاشرتی نظام کتاب سے منسلک ہے۔ آج جو مغرب ترقی یافتہ کہلاتا ہے اُس کی وجہ صرف اور صرف کتاب سے دوستی ہے۔ کتاب نے انسانی عقل اور شعور کو نئی زندگی دی اور کتاب ہی انسان کے شعور کی آبیاری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کے اندر تدریس و تحقیق کا عمل کتاب کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ جب تک کوئی معاشرہ کتاب سے منسلک رہتا ہے، اس معاشرہ کے افراد انفرادی اور اجتماعی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔ علم و ادب سے معاشرے کے افراد کی ادبی، ذہنی اور تہذیبی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں اور  معاشرے کے  افراد کے لئے اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔کتاب سے دوستی کسی بھی قوم کی معاشی، سماجی، سائنسی اور تہذیب و ترقی کی ضامن ہوتی ہے ۔ کتاب سے بہتر کوئی دوست نہیں ہوسکتا جس نے کتابوں سے دوستی کی اس کو معاشرے میں کامیاب اور شاندار مستقبل حاصل ہوا۔ سکندر اعظم جس کا استاد ارسطو تھا اس کے بارے میں کہتا ہے کہ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا لیکن میرا استاد کتاب کی طاقت سے مجھے آسمان کی بلندیوں پر لے گیا۔ کتاب انسان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کتاب پڑھنے والا ہر طرح کے شک سے محفوظ اور یقین کی قوت سے مالا مال بھی ہوجاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن اقوام نے کتاب سے رشتہ استوار کیا انہوں نے زندگی کے ہر میدان میں ترقی کے منازل کو طے کیا ہے او راپنے ملک اور قوم کا نام روشن کیا۔ آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے جب بغداد سائنسی علوم اور سائنسی ایجادات کا مرکز تھا تو اس کی وجہ سے وہاں قائم لائبریوں کا بہت بڑا کلیدی کردار رہا اور لوگ دور دراز سے علم کے حصول کے لئے بغداد آتے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے تھے، لہٰذا اس میں کوئی دورائے نہیں کہ لائبریریز علم کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کتاب دوستی کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود وحی کے ذریعے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو کہا اقراء۔ تو کتاب تو اُسی دن سے ہی معرض وجود میں آگئی تھی۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہوسکتے اور اس کتاب سے ہی خلفاء راشدین، اولیاء کرام نے دنیا کی جاہلیت اور تاریکی کو ختم کیا اور یہ کتاب قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کرکے امت مسلمہ کو علم کے نور سے روشناس کرایا۔میجر جنرل احسان محمود خان گلگت بلتستان کے عوام میں مقبولیت کی انتہا کو چھونے والا نہ صرف عوام دوست جنرل  ہیں بلکہ ایک فرشتہ صفت انسان اور عظیم شخصیت بھی ہیں۔ڈسٹرکٹ دیامر سمیت پورے گلگت بلتستان کی عوام انکے دوست پالیسی اور عوام کیساتھ دلی ہمدردی کو قدر کی نظر سے دیکھتی ہے اور ان کے اقدامات کو خراج تحسین اور سلام پیش کرتی ہے۔دیامر میں علم دوست پالسی (تعلیمی جرگہ) کے تحت فورس کمانڈر شمالی علاقہ جات میجر جنرل احسان محمود خان کی کاوشوں کو خوب سراہتے ہوئے عمائدین دیامر نے اطمعینان کا اظہارکیا۔پاک فوج کے بہادر سپہ سالار شفیق انسان،دوست گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان نے دیامر بھر میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لئے تعلیمی جرگہ پالیسی کے تحت دور افتادہ علاقوں میں جاکر کونہ کونہ چپہ چپہ تک (اقرا) علم دوست کاوشوں سے روشناس کروایا۔دیامر عمائدین احسان محمود خان کا بے حد ممنون و مشکور ہیں اور ان کے ہر بچہ’  جوان اور بزرگ احسان مند ہیں۔آپ  ایک عظیم شخصیت کی  مثال ہیں اور ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی۔۔۔۔ایف سی این اے کمانڈر نے تعلیمی جرگے کے ذریعے دیامر  کے تمام اسکولوں، کالج، یونیورسٹی اور لائبریری کا دورہ کرکے لوگوں کو علمی سہولت سے روشناس کرایا۔جن سے نوجوانوں کی ذہنی آبیاری بھی ہوئی اور علم و عمل کا کافی علمی سرمایہ وہ چھوڑا گئے۔عوام کو علمی شعور دلانے میں دیامر کی پیاسی سرزمین کو سرسبز و شادب کیا۔فورس کمانڈر ناردرن ایریاز میجرجنرل احسان محمود خان کا گلگت بلتستان کیلئے کردار لائقِ تحسین ہے۔بلخصوص شفیع اللہ قریشی بھی آپکا ممنون شکرگزار ہوں۔

پاک فوج زندہ باد

“پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضاء میں
کرگس کا جہاں اور ہے،شاہیں کا جہاں اور

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور،مجاہد کی اذاں اور”۔۔۔۔۔۔علامہ اقبال

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments